اکتوبر پھر اداس ہے
اجنبی سی راہوں میں
دور تک نگاہوں میں
بے رخی کا موسم ہے
آج پھر نگاہوں کو
بیتے پل کی پیاس ہے
پھر رہی ہوں دربدر
کسی معجزے کی آس ہے
ایسا لگتا ہے جیسے
اکتوبر پھر اداس ہے ۔
منٹو کہتا تھا طوائف جسم بیچتی ہے، لیکن ضمیر فروش صحافی، مولوی اور لیڈر اس سے بڑے طوائف ہیں کیونکہ وہ ضمیر بیچتے ہیں۔اور ضمیر بیچنا جسم بیچنے سے زیادہ خطرناک ہے
"جب میں بچہ تھا تو میں نے خدا سے سائیکل مانگی تھی، مگر بعد میں میں نے سمجھا کہ معاملات اس طرح نہیں چلتے، میں نے سائیکل چوری کر لی اور خدا سے معافی مانگی۔"
آل پچینو
خامو��ی، دنیا کے شور اور بے معنویت کے مقابل ایک خاموش مزاحمت ہے۔ خاموشی میں روح اپنی زبان تلاش کرتی ہے، اور اسی زبان میں وہ ایسی حقیقتیں بیان کرتی ہے جنہیں الفاظ کبھی اپنے اندر سمو نہیں سکتے۔"
کارل گستاو یونگ
میری آغوش میں سر ہے تجھے کس بات کا ڈر ہے
تیرا سب بوجھ مجھ پر ہے تجھے کس بات کا ڈر ہے
یہی تو ہے میری مشکل بہت نازک ہے میرا دل
تیرے سینے میں پتھر ہے تجھے کس بات کا ڈر ہے
تعلق توڑ جائے گا تو ایک دن چھوڑ جائے گا
مجھے اس بات کا ڈر ہے تجھے کس بات کا ڈر ہے؟؟؟؟
#سرمایہ_زیست
ایک انسان نہ جانے ایک ہی وقت میں کتنی چیزوں سے لڑ رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔ دکھ، فیوچر، ماضی،گھر، تعلیم،سوسائٹی، ڈوبتا ہوا ملک،دھوکا، فراڈ، جھوٹ،سچ،گناہ،ثواب،حلال و حرام،جنت،دوزخ،بے چینی،افسردگی،جینا مرنا اور پتہ نہیں کیا کیا ۔۔۔!