امام ابنِ حجر عسقلانی رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں:
`كُلُّ مُؤْمِنٍ لَهُ مِنْ نَفْسِهِ سَائِقٌ إِلَى الْمَدِينَةِ لِمَحَبَّتِهِ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ`
*مومن کا دل اپنے نبی ﷺ سے محبت کی بنا پر مدینہ کی راہوں میں پڑا رہتا ہے۔
(فتح الباري لابن حجر : 93/4)
گھومتے گھومتے بات مدینے پہنچے۔
سرکار کبھی میری ذات مدینے پہنچے
اے رب تیرے لیے مشکل نہیں ہے لانا لیجانا
گر چاہے تو بندا عرش سے اک رات مدینے پہنچے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
اے زائرِ طیبہ یہ دعا کر میرے حق میں
مجھکو بھی بلاوا ملے دربارِ نبیﷺ سے
مدت سے میرے دل میں ہےارمانِ مدینہ روضےپہ بلا لیجئے سلطانِ مدینہ
میرا غم بھی تو دیکھو پڑا ہوں دور طیبہ سے
سکون پائےگا بس میرا دلِ مضطر مدینے میں
افسوس بہت دور ہوں گلزارِ نبی سے
کاش آئے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے
*آغاز صبح🌤️*
*ذکر محبوب کریمﷺ سے کریں♥️*
* *درودِ پاکﷺ کی کثرت کریں!*
* *پھر تمنائے زیارت نے کیا دل بےچین🥹*
* *پھر مدینے کا ہے ارمان مدینے والے🥹*
♥
رب العالمین ہم سب کو بار بار *مدینه منورہ* کی باادب حاضری فرمائے۔
*آمین ثم آمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم♥️*
امام حسن بصری رحمہ اللہ جب بھی کھجور کے اس تنے کی حدیث بیان کرتے جو نبی کریم کی جدائی میں رو پڑا تھا، تو آپ روپڑتےاور فرماتے:یہ تو ایک لکڑی کا ٹکڑا تھا جو رسول اللہ کے شوق اور محبت میں تڑپ اٹھا پس تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ آپ ﷺ کی ملاقات کا شوق اور تڑپ رکھولطائف المعارف
حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا
"میں نے جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کا مشاہدہ کیا تو ہتھیلی سے آنکھیں ڈھانپ لیں کہ بینائی سے ہی محروم نہ ہو جاؤں"
(جواہر البحار 2/450)