شب وہی ہے جمال خواب وہی
آنکھ اپنی لگی رہے گی ابھی
ہم یقیننا یہاں نہیں ہوں گے
غالبا زندگی رہے گی ابھی
لا تعلق ہوں اس تعلق سے
اور یہ دوستی رہے گی ابھی
جی اچٹتا نہیں ہے لگتا نہیں
سو یہ بیگانگی رہے گی ابھی
کہیں کوئی چراغ جلتا ہے
کچھ نہ کچھ روشنی رہے گی ابھی
معروف سرائیکی گلوکار پٹھانے خان مرحوم سے کسی نے پوچھا: آپ غزل کیوں نہیں گاتے
کافیاں گانے میں مہارت رکھنے والے گلوکار نے جواب دیا: میکوں "کافی" ای کافی اے
بہرکیف پٹھانے خان نے کبھی کبھی غزل میں بھی طبع آزمائی کی اور پیش خدمت ہے ان کی گائی ہوئی ایک غزل "اے دوست ذرا اور قریبِ رگِ جاں ہو"
شاعری بھی کمال اور گائیکی بھی بے مثال
🎵🎶🎵🎶🎵🎶🎵🎶
کیا خبر کیسی ہے وہ، سودائے سر میں زندگی
اِک سرائے رنج میں ہے یا سفر میں زندگی
ہم ہیں جیسے اِک گناہِ دائمی کے درمیاں
کَٹ رہی ہے مستقل خاموش ڈر میں زندگی
اِک تغیّر کے عمل میں ہے جہانِ بحر و برَ
کچھ نئی سی ہو رہی ہے بحر و برَ میں زندگی
منیر نیازی
مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے مِرے آقاﷺکرنا
حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضہ کرنا
l
کنکروں کا تیرے اعجاز سے گویا ہونا
وہ درختوں کا تیری دید پہ جھوما کرنا
شاملِ مقصدِ تخلیق یہ پہلو بھی رہا
بزمِ عالم کو سجا کر تیرا چرچا کرنا
(پیر سید نصیر الدین نصیر)