عوام کا مینڈیٹ چوری کر کے آئین کی کھلی خلاف ورزی کرنے کے حوالے سے کمشنر راولپنڈی نے جو الزامات لگائے تھے بجائے اس پر تحقیقات کرنے کے کمشنر راولپنڈی کو ہی غائب کر دیا گیا
کیا اس مینڈیٹ چوری پر بھی کوئی "پریس کانفرنس" ہو گی؟ کیا اس سنگین جرم پر بھی "ریاست" حرکت میں آئے گی؟
2024 کے آغاز میں فائز عیسیٰ نے بلے کا نشان چھین کر اپنی طرف سے عمران اور PTI کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی-
اب 2025 آ گیا ہے، سیاست آج بھی عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے، جبکہ فائز عیسیٰ تاریخ کے کُوڑے دان میں گم ہوچکا ہے-
#2025YearOfImranKhan#حقیقی_آزادی_کا_سال2025
وہ لمحہ جب بلوچستان سے تعلق رکھنے والا عبد الرشید ڈی چوک میں شہید ہوگئے
ویڈیو میں باتیں کرنے والے کا نام نور کاکڑ ہے جو اس وقت سالار کاکڑ کے ساتھ گرفتار ہیں 💔
کا بھی مشکور ہوں جو (اپنے عطیات سے) ہمیں اس قابل بناتے ہیں کہ ہم کینسر میں مبتلا اپنے 75% مریضوں کو عالمی معیار کے علاج کی بلا معاوضہ فراہمی جاری رکھ سکیں۔ میں ہمیشہ یہ کہتا آیا ہوں کہ اگر ہم غور کریں تو بحثیتِ قوم کچھ بھی ایسا نہیں جسے حاصل کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے۔
سنٹرز کو جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل کی (تصدیقی)گولڈ سیل، جو کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی میں عالمی سطح پر بہترین معیار کی علامت ہے، دےدی گئی ہے۔میں ان ہزاروں کارکنان کا شکرگزار ہوں جو نہایت محنت اور جانفشانی سےشوکت خانم میں کام کرتےہیں۔میں ان لاکھوں عطیات کنندگان اور معاونین
مجھےیہ اعلان کرتےہوئےنہایت خوشی ہےکہ شوکت خانم جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل سے فل انٹرپرائز ایکریڈیشن حاصل کرنےوالا دنیا کا دوسرا ادارہ بن چکا ہے۔اگست/ستمبر 2022میں تین ہفتوں تک جاری رہنےوالی کڑی پڑتال کےبعد لاہور اور پشاور کے ہمارےاسپتالوں اور کراچی اور لاہور کے تمام ڈائیگناسٹک
دھرنے سے میری لاش آئے گی یا میں خان کے ساتھ آوں گا!
شہید احمد ولی کا وہ ہتھیار جس سے گھائل ہو کر اس جیسے کئی لوگوں پر فائر کرنے کا حکم ہوا اور وہ جو عہد کر کے نکلے تھے اس پر پورا اترے۔
گولیاں چلائی گئیں ہیں لیکن #گولی_کیوں_چلائی#گولی_کا_بدلہ_بائیکاٹ_سے
"کس نے آپکو یہ اختیار دیا کہ آپ ملک کی سب سے مقبول ترین اور سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت اور اس کے لیڈر کو انتشاری کہیں؟ کیا یہ سیاسی بیان نہیں ہے؟ کیا یہ سیاستمیں مداخلت نہیں ہے؟ کیا اس طرح کی زبان استعمال کرنے کی اجازت آئین دیتا ہے؟" اسد طور کا ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر تجزیہ @AsadAToor
#اپنا_ادارہ_ٹھیک_کرو
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو:
“حکومت کو اتوار، 22 دسمبر تک کا وقت دیا ہے، اگر کل تک حکومت نے ہمارے مطالبات پر سنجیدگی نہیں دکھائی تو ہماری سول نافرمانی کی تحریک کا پہلا مرحلہ یعنی ترسیلات زر کا بائیکاٹ شروع ہو جائے گا، جس کی اس نااہل حکومت کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہیں اندازہ نہیں کہ سول نافرمانی کی تحریک اس جعلی حکومت کے لیے کتنی مہلک ثابت ہو گی۔ اگر حکومت ہمارے مطالبات پر سنجیدہ ہے تو فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کرے۔
اسلام آباد قتل عام کو ایک ماہ ہوگیا ہے اور کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو قاتل اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے جبکہ یہاں ایک جوڈیشل کمیشن تک نہیں بن سکا- ہمارے کئی لوگ گمشدہ ہیں، جب تک ہمارے لاپتہ لوگوں کی تصاویر کے ساتھ تفصیلات نہیں شئیر کی جاتیں کہ وہ کہاں کہاں ہیں تب تک حکومت کی کسی بات پر یقین نہیں کریں گے-
ملٹری کورٹس کے ذریعے سیاسی ورکروں کو سزائیں دینے سے ںہتر ہے کہ ملک میں لگے مارشل لاء کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے- 9 مئی کے ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری کیں- جنہوں نے لوگوں پر گولیاں چلائیں وہی جج جیوری اور جلاد بنے سزائیں بھی سنا رہے ہیں۔ یہ جمہوریت نہیں جنگل کا قانون ہے-
ہمارا دوسرا مطالبہ 9 مئی کی آزادانہ تحقیقات ہیں جس کے لیے ہم بارہا سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کر چکے ہیں- 9 مئی کو بھی ہمارے دو درجن سے زائد کارکنان کو گولیاں برسا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ 15 کی تفصیلات ہم نے پبلک کیں۔ مزید براں ہمارے سینکڑوں کارکنان کو اس دن گولیاں ماری گئی تھیں- کسی ایک فوجی یا پولیس والے کی جان نہیں گئی تو دہشتگردی کیسے ہوئی؟ کیا نہتی عوام کا پرامن احتجاج دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے یا ان پر سیدھی گولیاں برسانا؟
مجھے معلوم ہے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے کیس کا فیصلہ کیا آنا ہے، یہاں سارے فیصلے پہلے سے لکھ کر آتے ہیں- میرے خلاف اڈیالہ جیل میں تین فیصلے سنائے گئے تینوں فیصلے اعلیٰ عدالتوں میں ختم ہوگئے کیونکہ سارے کیسز جھوٹے اور بے بنیاد تھے- حکومت کی غیر سنجیدگی سے میرا نہیں ملک کا نقصان ہورہا ہے-
لوگوں کے گھروں میں ماتم ہورہا ہے، ہمارے لوگوں کی اگر کوئی مجبوری ہو تو بند کمرے میں مذاکرات کریں، 26 نومبر قتل عام کے قاتلوں اور سہولتکاروں کے ساتھ تصاویر نہیں بنانی چاہیں۔
ہمارے جو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں انہیں سخت سردی میں اٹک جیل میں تمبووں میں رکھا گیا ہے جو کہ ناصرف قانون بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔ ہمارے ILF وکلأ کی ٹیمز مزید متحرک ہو کر ان کو ریلیف دلوائیں-
ہمیں امید تھی کہ قاضی فائر عیسیٰ کے جانے کے بعد ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف ملے گا لیکن مافیا نے ممبران پارلیمنٹ کے اغوا کے ذریعے آئین میں ترمیم کرکے عدلیہ پر قبضہ کرلیا اور اب عدلیہ کو سیاسی انتقامی کاروائی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے- پاکستان صرف سرمایہ کاری سے بچ سکتا ہے لیکن پاکستان میں اس وقت قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں اور دن بدن حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں- ملکی مفاد شخصی انا اور ایکسٹینشن کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ حالات کی بہتری کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ اقتدار عوام کی نمائندہ جماعت کو سونپا جائے تاکہ سیاسی اور نتیجتاً معاشی استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔”
اہـم اور افسـوسـناکــ🚨🚨
"صیـ.ـہونیوں نے کمـال عـ.ـدوان ہسپـ.ـتال پر دھـاوا بولنے کے بعد ہسپـتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسـ.ـام ابـ.ـو صفیـ.ـہ کو بری طرح زود و کوب کرنے کے بعد اغواء کر لیا ہے۔"
کمـال عـدوان غـزہ کا آخری آپریشنل ہسپتال تھا،اب غـزہ کے متاثرین کے پاس اپنے علاج کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔۔۔۔!!
اگـر یہ مجرمانہ خاموشی اب بھی برقرار رہی تو کیا آپ ان سختیوں کے بارے میں تـصـور بھی کرسکتے ہی۔۔۔؟؟
خدارا جاگــ جائیں🔻🔻
@SaveGazaPK
میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بیان کرتا ہوں کے شہید راشد کے بھائیوں اور رشتے دار سے میری تفصیلی بات ہوئی جس کے میرے پاس تمام ثبوت ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کے جس ان کے دوست نے راشد مرحوم کی لاش پمز ہسپتال سے موصول کی اس نے وہاں 100 سے زائد لاشیں دیکھیں جو کفن کے بھی بغیر تھیں۔
جس باکس/دراز سے راشد کی لاش نکالی اس میں دو اور لاشیں اس کے ساتھ ایک کے اوپر دوسری بغیر کفن کے پڑی تھی۔