Solicitor of the Senior Courts of England & Wales Chief Editor Asian Observer Uk. RTs/retweets are not endorsement بڑا کریم ے وه ,جس کا گناه گار ہوں میں
ہانیہ کو ڈاکوؤں سے بچانے والی CCD نے مار دیا۔ جب پتہ چلا کہ بچی آسٹریلین نیشل ہے تو سہیل ظفر چٹھہ جو کہ اب اس درندہ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں وہ متاثرہ فیملی کے گھر گئے اور ایک جملہ بولا کہ ہمارے اہلکار نے ایس او پی فالو نہیں کیے، اسد طور
عمران خان کے دور میں 6.2 کی گروتھ سے آگے بڑھتا پاکستان، دنیا کا کرائسز کرونا تھا لیکن عمران خان احساس کفالت پروگرام چلا رہا تھا عمران خان ہیلتھ کارڈ چلا رہا تھا اور پاکستان کارڈ کی طرف بڑھ رہا تھا عمران خان کی قیادت ہی تھی کہ ایک کروڑ 65 لاکھ گھرانوں کو عمران خان نے غربت کی لکیر سے اوپر لے آیا تھا ۔
ثناء اللہ مستی خیل
یہ کرشمہ ساز جو چاہیں کریں ، اندازہ کریں کریں جس جماعت کو ایک بھی سیٹ الیکشن میں نہیں ملی ان کیساتھ بندے شامل کروا کر مخصوص نشستیں دلوا کر حکومت میں بھی شامل کروائیں گے
میں ان کو ایک اور چیلنج کرتا ہوں، آئیں اس ہاؤس میں بحث کر لیتے ہیں کہ ہمارے دور میں معیشت، ٹیکس وصولی اور مہنگائی کی کیا صورتِ حال تھی اور آج کیا صورتِ حال ہے۔ ہم نے کتنا قرض لیا اور آپ نے کتنا لیا۔ ہم نے کتنا قرض واپس کیا اور آپ نے کتنا واپس کیا۔ ہمارے وقت میں ڈالر کا ریٹ کیا تھا اور آج کیا ہے ہمارے وقت میں پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں کیا تھیں اور اب کیا ہیں۔ ایک شعبہ ہی بتا دیں جس میں آپ نے عوام کو ریلیف دیا ہو۔ آپ نے پنجاب کے کسان کا بھرکس نکال دیا۔ صرف گندم کی فصل میں پنجاب کے کسان کو 2.2 کھرب روپے کا نقصان ہوا، کسان تباہ و برباد ہو گیا۔ آپ نے صنعت کو تباہ و برباد کر دیا، اور پھر کہتے ہیں کہ آپ نے بہت بڑا تیر مار لیا۔ ذرا بتائیں کہ اب تک آپ ملک میں کتنی سرمایہ کاری لائے ہیں۔ 90 ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک سے جا چکی ہیں۔
منسٹر صاحب نے بہت لمبی چوڑی تقریر کی اور جس طرح انہوں نے حقائق کو مسخ کیا، جس طرح غلط بیانی کی، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ "منہ میں رام رام، بغل میں چھری" والی بات ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے ہمیشہ اصولوں کی بات کی ہے، قانون کی حکمرانی اور ملک میں آزاد عدلیہ کی بات کی ہے۔ ابھی یہ موصوف کہہ رہے تھے کہ آیا آپ نے آئی ایم ایف پروگرام کے خلاف کوئی خط لکھا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کو روکنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو خط آئی ایم ایف کو لکھا گیا ہے، کیا آپ نے خود پڑھا ہے۔ کیا اس میں کوئی ایسا لفظ ہے جو پاکستان کی ترقی، خوشحالی یا عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے کسی اقدام پر سمجھوتے کی بات کرتا ہو، ہم نے صرف اپنا نقطۂ نظر دیا ہے، ہم نے ہمیشہ پاکستان کی بات کی ہے۔
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ کس کی حکومت تھی جس نے اس ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا۔ ہمارے دور میں آپ کہتے تھے کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، پی ٹی آئی کا بجٹ نہیں۔ اب یہ کس کا بجٹ ہے۔ یہ سفارشات کہاں سے آئی ہیں۔ انہوں نے جو بجٹ بنایا ہے، یہ مکمل طور پر آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔ آئیں اس پر بحث کریں کہ ہم نے کیا اصلاحات کیں۔ ہم نے کنسٹرکشن انڈسٹری کو پروموٹ کیا اور کنسٹرکشن انڈسٹری کو بہت تقویت ملی۔ ہم نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو پروموٹ کیا اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بوم ملا۔ ہم نے کسانوں کے لیے کام کیا اور ان کی فصلوں کی قیمتوں کا تعین کیا۔ ہم نے پہلی دفعہ شوگر مافیا پر ہاتھ ڈالا، اور کسانوں کے واجبات زبردستی کسانوں کو دلوائے۔ یہ کریڈٹ پاکستان تحریکِ انصاف کو جاتا ہے۔
عمران خان کے فوج سے تنازعات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب ہندوستان نے کشمیر میں 370 والا معاملہ کیا تو جنرل باجوہ چاہتا تھا کہ بھارت سے اس معاملے پر زیادہ کچھ نہ کہا جاۓ
لیکن عمران خان نے کہا نہیں ہمیں بھارت کو تگڑا ہو کر جواب دینا ہو گا جو بھی ہو عمران خان محب وطن تو ہیں
نجم سیٹھی
ملک کے واحد منتخب وزیرِاعلیٰ، اُسکی کابینہ اور کارکنان کو 26 نمبر چونگی پر روک دیا گیا ہے۔ ایک صوبے کا منتخب وزیرِاعلیٰ اپنے ہی ملک کے دارالحکومت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ایسی شرمناک حرکات نہ صرف جمہوری اقدار کی توہین ہیں، ان شرمناک حرکتوں سے وہ عوام کی نظروں میں مزید گر رہے ہیں اور اپنا خوف خود ظاہر کر رہے ہیں۔
شہباز گل کی سہیل آفریدی، شفیع جان اور مزمل اسلم پر شدید تنقید
سہیل آفریدی کا رزلٹ ابھی تک زیرو ہے۔ ان کے آتے 50 سے 60 ڈرون حملے ہوئے لیکن ایک بھی FIRنہیں کروائی۔ کیا انہوں نے فوجی آپریشن کے بدلے کوئی ریلیف کیا؟ انہوں نے اسٹریٹ موومنٹ کے نام پر لوگوں کو ٹرک کی بتی میں لگایا۔ آپ کے ایک طرف شفیع جان ہیں جو اپنی باتوں سے ملٹری جنرلز کے لیے کام کرتے ہیں۔ دوسری طرف مزمل اسلم ہیں جو ملٹری جنرلز کے قریب ہیں تو کے پی کا پورا بجٹ جنرلز کے کنٹرول میں ہے۔
اخبارات کے فرنٹ پیج پر اوپر چھپی اکنامک سروے کی خبر کے مطابق “معاشی ترقی کے بیشتر اہداف حاصل نہ ہوئے، غربت بڑھ گئی” اور نیچے پورے صفحے پر سرکاری اشتہار کے مطابق معیشت ترقی کررہی ہے۔
آج سارے اخبارات میں غریب عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کروڑوں روپے کے اشتہار دے کر یہ جھوٹ پھیلایا گیا۔