حویلی کے عوام کا مقدمہ، جن کا ووٹ چوری کر لیا گیا۔
6 اگست 2026 کو 19 جولائی 2021 کا ریکارڈ ٹوٹ چکا تھا ایک بار پھر چوہدری محمد عزیز مرحوم کے چاہنے والوں نے نئی تاریخ رقم کر ڈالی تھی۔ نہ ہونے کے برابر ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کی بندش کے باوجود لوگوں نے جزبوں سے سب کچھ فتح کر لیا تھا، عوام کا ایک سمندر تھا جو کہوٹہ شہر کے طول و عرض میں پھیل چکا تھا، پیدل قافلوں کا ایک سلسلہ تھا جو دوپہر تک جاری و ساری تھا، ٹرکوں، ٹرالیوں میں میرے لوگ جلسہ گاہ کی طرف آ رہے تھے جس کی گنجائش جواب دے چکی تھی۔ اور مجھے حویلی کے دور دراز علاقوں سے اپنی عظیم ماوں، بہنوں کی کالیں موصول ہو رہی تھیں، جن کے لہجے ان کی اشک بار آنکھوں کا حال سنا رہے تھے کہ وہ گاڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مرحوم قائد کے بیٹے کے انتخابی جلسہ میں شریک نہ ہو سکیں، یہ عظیم اور بے مثال جلسہ چوہدری محمد عزیز سے محبت کرنے والوں اور قائد پاکستان میاں محمد نواز شریف کے متوالوں کا عوامی ریفرنڈم تھا۔ میں اپنی تقریر کرنے کھڑا ہوا تو سامنے دو گراونڈ تھے، ایک میرے حلقے کی عزت مآب خواتین نے کچھا کچھ بھر دیا تھا اور دوسری طرف بڑا گراونڈ پھیل کر قرب و جوار کی سڑکوں، گھروں، چھتوں اور دور دور تک اونچے ٹیلوں تک جا پہنچا تھا۔ اس سارے اجتماع میں بہار ان پرچموں کی تھی جن کی کثرت پاکستان کے قومی پرچم، کشمیر کے جھنڈے اور مسلم لیگ ن کے سبز رنگوں پر مشتعمل تھی۔ اس مجمع میں میری آواز میں ہم آواز ہو کر جو سب سے بلند آواز اور دل کی گہرائیوں سے نعرہ گونجا تھا وہ۔۔ ہم پاکستانی ہیں۔۔ پاکستان ہمارا ہے۔۔
یہ نعرہ ان حالات میں، لائن آف کنٹرول پر اس جوش سے لگنا جہاں میری آنکھوں میں نمی بھر رہا تھا وہیں پر مسلم لیگ ن کی عوامی مقبولیت ، پاکستان سے پیار اور میاں محمد نواز شریف سے عشق کا ناقابل تردید ثبوت بھی تھا۔
اپنے حلقے کے ماضی کی صورتحال، مخالف امیدوار ، وقت کے وزیراعظم کی حکومتی مشینری کے سفاکانہ استعمال، ہر صورت نتیجہ اپنے حق میں آنے کے کھلم کھلا دعووں، ضلعی انتظامیہ کے عدم تعاون بلکہ قدم قدم پر آڑے آنے اور وزیراعظم کو خوش رکھنے کی محنت اور رئٹرننگ آفیسر کی دیوار سے لگانے کی پالیسی کے مد نظر عوامی مطالبہ پر میں نے الیکشن پاک فوج کی نگرانی میں کروانے اور اپنا مینڈیٹ اپنی جماعت کے بڑوں کی سپرد کرنے کا مطالبہ اور اعلان کیا۔
الیکشن کا پورا دن وزیراعظم کی تحصیل میں وزیراعظم کی موجودگی میں حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر تین چار پولیس والوں جن کے ہاتھوں میں لاٹھی تک نہیں تھی میرے ووٹرز مسلح جتھوں، جدید اسلحہ سے لیس غنڈوں حکومتی مشینری اور پیپلزپارٹی کے جیالوں کی طرح وزیراعظم کی خوشنودی کی خاطر اپنے فرائض سے مجرمانہ کوتاہی کی مرتکب ہوتی انتظامیہ سے لڑتے میرے ووٹرز اپنا ووٹ ڈالنے کی مشقت اور میں اپنے ووٹرز کے تحفظ کی خاطر دفاتر کے چکر لگاتا رہا لیکن سارے جواری میچ فکس کر چکے تھے۔ اس سارے شیطانی کھیل کے باوجود جب شام کو نتائج آنا شروع ہوے تو عوام جیت رہی تھی اور الیکشن فکس کرنے والے بری طرح ہار رہے تھے، جوں جوں نتائج آتے گئے وقت کے وزیراعظم اور شکست فاش کے درمیان فاصلے سمٹتے گئے، اور انہی لمحوں میں ایک نئی بے ایمانی متعارف کروا کے عوام کے حق حکمرانی پر ڈاکا ڈالا گیا، اپنے لگاے، سدھاے اور سمجھاے گئے پریزاہیڈنگ آفیسرز کے زریعے فارم چوبیس کو انتہائی بھونڈے طریقے سے بدل دیا گیا، ایک بڑی، یقینی، حتمی، مکمل اور تاریخی عوامی فتح کو چوری کر لیا گیا۔ ایک ہی شخص نے کچھ جلدی میں یا حد سے زیادہ اعتماد میں ایک ہی لکھائی میں ضلع حویلی کے عوام کے ریفرنڈم پر ڈاکا مار ڈالا، اور اپنی چوری کا ناقابل تردید ثبوت چھوڑ دیا، جس نے نہ صرف اس کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا بلکہ اپنے آقا کو بھی سر بازار نقاب الٹ کر بے نقاب کر ڈالا۔
میرے لوگوں نے کمال جرات، ہمت اور حوصلے سے اس ڈا کے کا مقابلہ کیا ہے، اپنی راتیں اپنے مینڈیٹ کی حفاظت کی خاطر سڑکوں پر گزاری ہیں، انہیں پتہ، ہے وہ جیت چکے ہیں اور انہیں یقین کامل ہے وہ ضرور فتح یاب ہوں گے، ان کا مینڈیٹ بازیاب ہو گا اور چور کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگے گی۔
ہمارا مینڈیٹ چوری کرنے والوں کی سزا شروع ہو چکی ہے، ان کا نام نشان عبرت بن چکا ہے، وہ ریاستی عوام کے لیے نفرت، جرم اور بددیانتی کی علامت بن چکے ہیں، ان کا نام اب حکومتی اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے والوں بد دیانتوں کی لسٹ میں لگ چکا ہے۔ ان کا اصولوں کا بھاشن ان کا منہ چڑا رہا ہے، ان کی اخلاقیات کا درس اب ان کی بے ایمانی کے بوجھ تلے دب چکا ہے، ان کے مسکراتے چہرے کا نقاب اٹھ چکا ہے جس کے پیچھے سے انتقام، بدلے، ظلم، جبر، سازش، نفرت، بد دیانتی ، جھوٹ، فراڈ اور عوامی راے کو پاوں تلے روندنے کا جنون آشکارا ہو چکا ہے۔
سورہ الاحزاب (آیت 56) کے مطابق اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رسول ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں، اور ایمان والوں کو بھی اس کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ عملِ عظیم رحمت، گناہوں کی معافی، درجات کی بلندی اور رسول ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔
ایک نہایت اہم پیغام:
“پاکستانی قوم کو اپنی امیدیں ٹوٹنے نہیں دینی چاہئیں۔ اس کے برعکس، ہمیں آج ہی ایک غیر مبہم فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم متحد اور یکجا ہو کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کھڑے ہوں گے، اور دہشت گردوں اور اُن کے ہمدردوں کے چنگل سے اپنا امن اور خوشحالی چھین کر واپس لیں گے۔ یہ ہمارا ملک ہے اور ہمیں اسے حملہ آوروں سے بچانے کا عہد کرنا ہوگا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے, فرض ہے، قرض ہے۔ 🇵🇰
پاک فوج کے بہادر جوان سپاہی فراز پاک افغان بارڈر پہ دشمنوں کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں اللہ پاک شہید کی سعادت قبول فرمائے اور گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے