الحمد للہ مدارس رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیمی بل مدارس دینیہ کے مطالبے کےمطابق گزٹ ہوگیا اللہ تعالیٰ اسکو مبارک فرمائیں آمین اس سلسلے میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مد ظلہم کی مضبوط اور اصولی حکمت عملی اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے متفقہ موقف اور سینیٹر کامران مرتضیٰ صاحب کی جدوجہد قابل صد مبارکباد ہے پوری قوم کو مبارک ھو اسکے نتائج بہترین ہوں اور صوبوں کو بھی اسکے مطابق قانون سازی کی توفیق عطا ہو اس موقع پر حکومت نے جس معاملہ فہمی سے کام لیا وہ بھی قابل تعریف ہے
26 ویں آئینی ترمیم میں اسلامی شقوں کی منظوری کا معاملہ
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کامران مرتضی کے اعزاز میں تقریب
تقریب میں مفتی تقی عثمانی صاحب، مولانا حنیف جالندھری،مولانا عبدالغفور حیدری شریک
تقریب میں خواجہ خلیل احمد، مولانا عطاء الرحمان، مولانا اسعد محمود، اسلم غوری شریک
تقریب میں مولانا عبدالواسع، مولانا صلاح الدین، میر عثمان بادینی، مولانا مصباح الدین، سینیٹراحمد خان، سینیٹرعبدالشکور شریک
تقریب میں ہارون محمود، صاحبزادہ اسجد محمود، مولانا فضل الرحمان خلیل، ملک سکندر، مفت ناصر محمود، سینئیر صحافی حامد میر، سلیم صافی شریک
مولانا سعیدالرحمان سرور، مفتی ذاہد شاہ، مولانا انعام اللہ، ڈاکٹر ضیاء الرحمان، قاری ابراہیم سمیت دیگر شریک
*مولانا فضل الرحمان کا تقریب سے خطاب*
کئی روز سے ملک میں آئینی ترمیم کی باتیں گردش کر رہی تھی۔
اس ترمیم میں کلیدی کردار سینیٹرکامران مرتضی کا ہے۔
میں آج کی تقریب کامران مرتضی کے نام کرتا ہوں۔
آج کی تقریب کی خوش قسمتی ہے کہ مفتی تقی عثمانی بھی اس میں شریک ہے۔
*مفتی تقی عثمانی کا تقریب سے خطاب*
آج میری حاضری اس لئیے ہوئی کہ جب ترمیمات منظور ہوئی صدرمملکت نے دستخط کردئیے۔
ان ترامیم میں مولانا فضل الرحمان صاحب کا کردار مسلسل نظر آرہا تھا۔
یہ ملک اور ملت کی بڑی عظیم خدمت ہوئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان ساری ساری رات جاگ کر ہر فرد سے ان ترامیم کیلئے ملے۔
یہ سچی بات ہے یہ ہم سب کیلئے بڑی نعمت ہے۔
مجھے معلوم نہیں تھا کہ مولانا صاحب نے آج کوئی تقریب منعقد کی ہے میں تو مبارکباد کیلئے آیا۔
اللہ تعالی مولانا فضل الرحمان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سر پر سلامت رکھے۔
*مولانا حنیف جالندھری کا تقریب سے خطاب*
کل تمام دینی مدارس میں دعائوں کا اہتمام کیا جائے، شکرانے کے نوافل آدا کئیے جائے
ہم مولانا فضل الرحمان کے مشکور ہے۔
آج حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے الفاظ نہیں مل رہے انہوں نے جس دانشمندی سے اس موقع پر ملک وملت کی رھنمائی کی اس سے کئی اسلامی مقاصد حاصل ھوے اور ملک شدید سیاسی انتشار سے بچ گیا سود کے خاتمے وفاقی شرعی عدالت اور مدارس کا مسئلہ حل ہوا اللہ تعالیٰ انکی عمر علم اور جدوجہد میں برکت عطا فرمائیں اور ملک وملت کے لئے انکی خدمات قبول فرمائیں آمین مدت کے بعد ایسی خوشی کی خبر ملی ہے قوم کو مبارک
پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہم تمام سربراہان اور مندوبین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت معیشت کو سنبھالنے میں ناکام رہی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کانفرنس پاکستان کے مستقبل کے لیے بہتر نتائج لا سکتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں سے گزارش ہے کہ اس اہم موقع پر داخلی تنازعات اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈالیں، حکومت کو بھی چاہئے کہ ترامیم کے معاملہ کو بھی فی الحال مؤخر کرے تاکہ ہم دنیا کو یکجہتی اور اتحاد کا پیغام دے سکیں۔
وزیر اعظم اور آرمی چیف کے دورہ چائنا کا اگرسفارتی طور پر جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی کامیابی نظر نہیں آتی،پاکستان میں چائنا کے معزز مہمان کے ساتھ بات چیت میں بھی ہم نے پاک چائنا دوستی، تائید اور حمایت کے حوالے دئے اور وہی حوالے انہوں نے بھی دئے لیکن سیاسی استحکام اور امن امان کی صورتحال پر اس نے عدم اطمینان کا اظہار کیا،ہم خود فیصلہ کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
اسلامی جمھوریہ پاکستان میں ھونا تو یہ چاھئیے تھا کہ حکومتی سطح پر فلسطینی مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ھوا جاتا لیکن یہاں اسلام آباد کی سڑکوں پر فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کرنے والوں کو بےدردی سے شہید کیا جارھاھے، ھم اس کی شدید مذمت کرتے ھیں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ھیں، اللہ تعالی انکی شہادت کو قبول فرمائے،میں غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ھوں اللہ تعالی انکو صبر جمیل عطاء فرمائے
ہم نے عزم کر رکھا ہے کہ اس غلامی کے خلاف جنگ لڑیں گے، میدان عمل میں آکر جنگ لڑیں گے ، عوام میں جا کر لڑیں گے، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر لڑیں گے اور ملک کو اس غلامی سے نجات دلائیں گے، ہم پر یا توعالمی قوتیں حکومت کر رہی ہیں یا پھر اسٹیبلشمنٹ حکومت کر رہی ہے، یہ نظام ہمیں قبول نہیں ہے، ہماری پوزیشن اس حوالے سے واضح ہے، اس لیے ہمارا پیغام ہر سطح پر چلا جانا چاہیے۔
ہمیں سنجیدگی سے دیکھنا پڑے گا ہمارا ملک اب کہاں کھڑا ہے، اس ملک کو حاصل کرنے میں اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کریسی کا کوئی کردار نہیں، آج بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ کہاں ہے اور عوام کہاں ہے،ہماری عوامی نمائندگی پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے بڑی جدو جہد کے ساتھ عوام کو ووٹ کا حق ملا، عوام کو بڑی جدو جہد کے بعد پارلیمانی جمہوری نظام ملا، قائد اعظم کا پاکستان کہاں ہے آج ؟ یہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی،ہم نے اپنی جمہوریت کو بیچا، ہم نے اپنے ہاتھوں سے آقا بنائے، ہم اپنی مرضی سے قانون بھی نہیں بناسکتے ، دیوارکے پیچھے جو قوتیں ہمیں کنٹرول کرتی ہیں فیصلے وہ کریں اور منہ ہمارا کالا ہو، پاکستان کا ہر فرد تین لاکھ کا مقروض ہے ہم نے قوم کو ہجوم بنا کر رکھ دیا، ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا آج ہم سیکولر ریاست بن چکے ہیں، 1973 سے اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سفارش پر عمل نہیں ہوا ، کیسے ہم اسلامی ملک ہیں؟ ہم دیوالیہ پن سے بچنے کیلئے بھیک مانگ رہے ہیں اور آئی ایم ایف کی قسط پرجشن منایا جارہا ہے، انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دو مئی کو کراچی اور نو مئی کو پشاور میں ملین مارچ ہوگا، اگر ہمارا راستہ کسی نے روکا یا کوشش کی تو پھر وہ خود ہی مصیبت کو دعوت دے گا۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان
آپ آئیں ذرا لاہور سے ذرا سفر کریں اور آئیں ذرا میں آپ کو دعوت دینا چاہوں گا ڈیرہ اسماعیل خان میں، ٹانک میں، وزیرستان میں، لکی مروت میں، باجوڑ میں، آپ وہاں آکر ذرا دیکھ تو لیں کہ ہماری وہاں کیا حالت ہے! ہمیں تو الیکشن میں نکلنے ہی نہیں دیا گیا ایک طرف طالبان کی طرف سے اعلان ہوتا تھا کہ ہم الیکشن میں کوئی کاروائی نہیں کریں گے، دوسری طرف ہمیں دھمکی ملتی تھی، پھر ادھر سے ہمیں چٹیاں ملتی تھی تھریٹ لیٹر آجاتے ہیں جی آپ نہ جائیں، پبلک سے رابطہ ہی نہیں کرنے دے رہے تھے اور جونہی الیکشن گزرا سارے تھریٹس لیٹرز بند ختم ہوئے خیر خیریت ہوگئی، اب نہ وہاں کوئی قتل کرنے والا ہے نہ کوئی دہشت گرد ہے کچھ نہیں لیکن یہ بات جو ہمارے ان علاقوں سے متعلق لوگ ہیں یا بلوچستان سے متعلق لوگ ہیں چاہے وہ پشتون بیلٹ ہے یا بلوچ بیلٹ ہے، وہاں پر کنٹرول ریاست کا نہیں ہے اور میں بڑے ادب سے کہوں گا مجھے یہ لفظ نہیں کہنا چاہیے لیکن حقائق کو سامنے لاتے ہوئے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک غیر محفوظ ریاست ہے، جب ریاست غیر محفوظ ہوگی تو ذمہ دار کون ہوگا! دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی پالیسی بنائی جنرل مشرف صاحب کے دور میں جو امریکہ نے کہا وہ ہم پہ مسلط کر دیا گیا اور آج تک اس پالیسی میں کوئی فرق نہیں آرہا، آپریشنز ہوئے، طالبان کا خاتمہ کر دیا، دہشت گرد ختم ہو گئے، آج اس سے کئی گنا طاقتور بن کر کیسے آگئے!
یہ جو بات یہاں کی جا رہی ہے جناب اسپیکر یہ میرے پوائنٹس میں لکھی ہوئی ہے اور آج بھی مولانا مصباح الدین صاحب میرے پاس تشریف لائے، اس سے پہلے وفود آئے ہمیں ملتے رہتے ہیں یقین جانیے ان کی زندگی جانوروں سے بدتر گزر رہی ہے نہ زندگی محفوظ ہے نہ ان کو روزگار مل رہا ہے بجلی بھی نہیں ہے کیسے وہ زندگی گزار رہے ہیں آپ اندازہ نہیں لگا سکتے، تو صورتحال آج یہ ہے کہ امن و امان کدھر ہے آپ کا؟ مغرب کے بعد آپ کے تھانے بند ہو جاتے ہیں، مغرب کے بعد پولیس چوکیاں بند ہو جاتی ہیں، آپ کی ساری پولیس محفوظ پناہ گاہوں میں چلی جاتی ہے اور مسلح گروپ جو ہے وہ کنٹرول لے لیتے ہیں پورے علاقے کا، کیا اس پر کبھی غور ہوا ہے؟ بس الیکشن ہے بس اپنی مرضی کا ایوان بنانا ہے اپنی مرضی کی اسمبلی بنانی ہے، کس حکمت عملی کے بنیاد پر بناتے ہو! ووٹ تو علمائے کرام فرماتے ہیں شہادت ہے کوئی کہتے ہیں امانت ہے کوئی کہتا ہے بیعت ہے تو یہاں تو نہ شہادت ہے نہ امانت ہے بیعت ہے، بیعت میرے نام پر کرتے ہیں بکسہ کھلتا ہے تو کسی اور کے نام پر بیعت نکل آتی ہے، امانت آپ کے حوالے کرتے ہیں بکسہ کھلتا ہے تو اس میں امانت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی خیانت ہی خیانت ہوتا ہے، شہادت میں صداقت ہوتی ہے جب بکسہ کھلتا ہے تو صداقت کا نام و نشان نہیں ہوتا جی، شہادت بھری پڑی ہوتی ہے جی، اس ساری صورتحال میں ہمیں ذرا بتائیں کہاں ہم کھڑے ہیں؟ باجوا صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے باڑ لگا دیا ہے اور کوئی افغانستان میں جا سکے گا نہ آسکے گا، وہ باڑ کدھر ہے؟ اس باڑ میں جو اربوں روپے خرچ ہوئے ہیں وہ کدھر ہیں کوئی پوچھ سکتا ہے ان سے اور 30 40 ہزار نوجوان یہاں سے کیسے گئے ادھر، بیس سال وہاں لڑے اور باڑ بھی لگ گیا تھا پھر وہ اس سے بڑھ کر طاقتور بن کر کیسے واپس آئے؟ افغانستان سے آپ ضرور گلہ کریں کہ ہم نے جن کو پکڑا ہے جن کو مارا ہے اس میں افغانی نیشنل بھی ہے بالکل گلہ کریں آپ ان سے کہ ان کی سرزمین سے کیسے لوگ ادھر آئے، ان سے کوتاہی ہوئی ہوگی جو انہوں نے اپنے سرحد کو کنٹرول نہیں کیا لیکن آپ بھی تو سرحد میں بیٹھے ہیں! آپ کیوں نہیں روک سکے ان کو؟ کیسے مجھ تک رسائی کی اور مجھ پر حملہ کر دیا؟ کیسے آئے اور باجوڑ میں میں نے 80 لوگوں کے لاشیں اٹھائیں ایک ہی جلسے میں، یہ تلخ واقعات کوئی ہمیں سمجھائے تو سہی کیا سیاست ہو رہی ہے! قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان
ہم نے عزم کر رکھا ہے کہ اس غلامی کے خلاف جنگ لڑیں گے، میدان عمل میں آکر جنگ لڑیں گے ، عوام میں جا کر لڑیں گے، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر لڑیں گے اور ملک کو اس غلامی سے نجات دلائیں گے، ہم پر یا توعالمی قوتیں حکومت کر رہی ہیں یا پھر اسٹیبلشمنٹ حکومت کر رہی ہے، یہ نظام ہمیں قبول نہیں ہے، ہماری پوزیشن اس حوالے سے واضح ہے، اس لیے ہمارا پیغام ہر سطح پر چلا جانا چاہیے۔
ہمیں سنجیدگی سے دیکھنا پڑے گا ہمارا ملک اب کہاں کھڑا ہے، اس ملک کو حاصل کرنے میں اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کریسی کا کوئی کردار نہیں، آج بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ کہاں ہے اور عوام کہاں ہے،ہماری عوامی نمائندگی پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے بڑی جدو جہد کے ساتھ عوام کو ووٹ کا حق ملا، عوام کو بڑی جدو جہد کے بعد پارلیمانی جمہوری نظام ملا، قائد اعظم کا پاکستان کہاں ہے آج ؟ یہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی،ہم نے اپنی جمہوریت کو بیچا، ہم نے اپنے ہاتھوں سے آقا بنائے، ہم اپنی مرضی سے قانون بھی نہیں بناسکتے ، دیوارکے پیچھے جو قوتیں ہمیں کنٹرول کرتی ہیں فیصلے وہ کریں اور منہ ہمارا کالا ہو، پاکستان کا ہر فرد تین لاکھ کا مقروض ہے ہم نے قوم کو ہجوم بنا کر رکھ دیا، ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا آج ہم سیکولر ریاست بن چکے ہیں، 1973 سے اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سفارش پر عمل نہیں ہوا ، کیسے ہم اسلامی ملک ہیں؟ ہم دیوالیہ پن سے بچنے کیلئے بھیک مانگ رہے ہیں اور آئی ایم ایف کی قسط پرجشن منایا جارہا ہے، انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دو مئی کو کراچی اور نو مئی کو پشاور میں ملین مارچ ہوگا، اگر ہمارا راستہ کسی نے روکا یا کوشش کی تو پھر وہ خود ہی مصیبت کو دعوت دے گا۔
Ufone Telenor، Jazz, zong کمپنیوں کی ناقص سروس کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلاٸیں ۔کمپنیاں کسٹمرز کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔اور کال ملانے اور انٹرنیٹ سروس براٸے نام ہے ۔عوام کو کوٸی فاٸدہ نہیں . بکواس نیٹ ورک,🌵🖐️
#Ufone4G#Ufone#ufonetwork#Zong#Zong4G#TelenorPakistan #Telenor4G #Telenor #jazz #UFONEWS