حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا ایک غلام تھا، جس کا نام درہم تھا۔ وہ ان کے لیے لکڑیاں جمع کیا کرتا تھا۔
ایک دن حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اس سے پوچھا:
”درہم! لوگ کیا کہتے ہیں؟“
اس نے کہا:
”لوگ کیا کہیں گے؟ سب لوگ تو خیر و عافیت میں ہیں، صرف میں اور آپ ہی مصیبت میں ہیں!“
حضرت عمرؒ نے فرمایا:
”وہ کیسے؟“
درہم نے کہا:
”خلافت سے پہلے میں نے آپ کو دیکھا تھا کہ آپ خوشبو لگانے والے، عمدہ لباس پہننے والے، بہترین سواری رکھنے والے اور لذیذ کھانے کھانے والے تھے۔ جب آپ خلیفہ بنے تو میں نے سوچا تھا کہ اب مجھے بھی آرام ملے گا اور میں اس مشقت سے نجات پاؤں گا، لیکن آپ کا کام تو پہلے سے بھی زیادہ سخت ہوگیا، اور اب آپ کی وجہ سے میں بھی آزمائش میں مبتلا ہوں!“
یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے فرمایا:
”تم آزاد ہو! میرے پاس سے چلے جاؤ، اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے اس آزمائش سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا فرما دے۔“
📖 العقد الفريد
📖 نهر الذهب في تاريخ حلب