اے میرے اللہ جس جس پیر مولوی کے دل کے اندر یہ بات چل رہی ہے کہ اگر ہم نے دجالی میڈیا (جیو نیوز) والے معاملے پر کچھ بولا تو ہمارے مدرسے بند ہو جائیں گے ۔ ہمارا مال پانی بند ہو جاۓ گا ۔ ہماری خانقائیں بند ہو جائیں گی ۔ ہمارا وہ اپنا ناراض ہو جاۓ گا یا وہ بیگانہ ناراض ہو جاۓ گا ۔
میرے خیال سے یہ مرشد کی اج کی تصویر نہیں یہ پہلے کی ہے اور کمپنی نے جان بوجھ کر لیک کی ہے میرا پی ٹی آئی لیڈر شپ سے اپیل ہے خان سے ملاقات پر زور دیا جاے کیوں یہ تصویر اس لیے لیک کی گئی کہ پی ٹی آئی قیادت اور سپوٹر کو تسلی ہو جاے خان ٹھیک ہے اور وقت مل جاے خان کا پتہ کیا جاے پلیز
اللہ کی فوج کے سربراہ نے ناحق قید میں ، ملک کے ہیرو اور سابق وزیراعظم عمران خان سے تمام سہولیات چھین کر، ملاقاتوں پر پابندی لگا کر اور ان کے ساتھ جیل میں ہر طرح کا غیر انسانی سلوک کرنے کے بعد، ان کی عید کی نماز اور جمعہ کی نمازوں پر بھی پابندی لگا رکھی ہے
عمران خان کی حکومت میں 30 ہزار والا غریب تھا وہ کیسے مہنگائی کا سامنا کرے گا؟
اور آج اپنی حکومت میں 8 ہزار ماہانہ کمانے والا غریب نہیں ہے؟
ایسی حرامزدگیاں کیسے کر لیتے ہیں؟
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ - بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان
#غدار_کون_تھا
یاد دہانی 🚨
مرد مجاہد نے بلکل سچ کہا تھا، کہ اگر ان کو موقع ملے تو یہ اسرائیل کو بھی تسلیم کریں گے، کشمیر کا بھی سودا کرکے ہندوستان سے دوستی کریں گے
#StopCrueltyAgainstKhan
آج کوئٹہ میں بلیلی کسٹم کے مقام پر ایف سی کے میجر حیدر مروت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رہنما اور انصاف یوتھ ونگ کے ایڈوائزر حاجی گل خان اچکزئی اور ان کے اہلِ خانہ پر سرعام وحشیانہ حملہ انتہائی افسوسناک اور قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔
اس بزدلانہ تشدد کے نتیجے میں عصمت اچکزئی کے دونوں پاؤں توڑ دیے گئے، جبکہ حاجی گل خان کے بیٹے اور بھانجے شدید زخمی ہوئے۔ صرف سیاسی وابستگی اور عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہونے کی پاداش میں سرکاری افسر کی غنڈہ گردی اور بربریت کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ ان کے ہوٹل پر تحریک انصاف کا جھنڈا اور عمران خان کی تصاویر لگی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف مقتدر حلقوں، حکومت اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ قانون کی بالادستی یقینی بناتے ہوئے میجر حیدر مروت کو فوری طور پر عہدے سے معطل کیا جائے اور واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اعلیٰ سطح کی انکوائری شروع کی جائے۔ شہریوں کے جان و مال کے محافظوں کی جانب سے اختیارات کا سنگین غلط استعمال صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید بگاڑنے کا سبب بنے گا۔
آئین و قانون کی پاسداری کا تقاضا ہے کہ ریاست طاقت کے ناجائز استعمال کا فوری نوٹس لے اور ملوث افراد کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔