دیگیں اور نیازیں مان کر کیے گئے پتروں کا ایک اور کارنامہ۔
اس بچی کا مسئلہ بھی لباس تھا؟؟
یہ بھی کردار کی اچھی نہیں تھی؟؟
اسے بھی گھر کے اندر رہنا چاہیے،کیونکہ باہر سوکالڈ مرد ذات پھر رہی ہے؟
کہنے کو اتنا کچھ ہے،مگر ساتھ دینے کو الفاظ اور زبان نہیں۔💔
خدا ہم سب کا پسندیدہ مضمون ہے۔
ان کا بھی جو خدا کو مانتے ہیں، اور ان کا بھی جو اُس کے ہونے کو جھٹلاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماننے میں بھی محور اُسی کی ذات ہے اور انکار میں بھی۔ شاید انسان کو خدا سے زیادہ کوئی خیال مسلسل مصروف نہیں رکھتا۔
اپنی زندگی کی تقریباً ڈھائی دہائیاں پاکستان میں، ایک مذہبی گھرانے میں گزارنے کے باوجود بھی مجھ پر مذہب اُس طرح طاری نہ ہو سکا جیسے توقع کی جاتی تھی۔
شاید کچھ لوگ عقیدے میں پیدا ہوتے ہیں، اور کچھ سوال میں۔
میرے بچپن کی کئی دوپہریں اکیلے جھولے پر جھولتے ہوئے خدا سے باتیں کرتے گزری ہیں، اور کئی راتیں ننّا کی جائے نماز کے ساتھ لیٹ کر۔ وہ عشاء پڑھتے ہوئے جس انہماک اور ایثار سے محوِ کلام ہوتیں، مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے خدا واقعی اُن کے سامنے موجود ہے، اور اُن کی ضرور سنے گا۔
بچپن میں شاید ہم خدا کو دلیل سے نہیں، دوسروں کے یقین سے پہچانتے ہیں۔
میں نے شاید کبھی خدا کی ذات کو جھٹلایا نہیں، ہاں روایتی طور پر اپنایا بھی نہیں۔
نمازیں پڑھیں، مگر وہاں ایک نہایت خوبصورت زبان کے درست تلفظ پر اتنی توجہ تھی کہ سارا دھیان اُسی پر رہتا۔ عبادت میرے لیے ایک صوتی ترتیب بن گئی تھی، روحانی تجربہ نہیں۔
یہ عمل meditative ضرور تھا، مگر اُس میں خدا کم تھا۔ ویسے meditation تو میرے لیے برتن دھونا اور کھانا پکانا بھی رہا ہے۔
شاید انسان جس لمحے مکمل انہماک میں داخل ہو جائے، وہ لمحہ کسی نہ کسی صورت عبادت بن ہی جاتا ہے۔
خیر، نماز سے آہستہ آہستہ دوری ہو گئی، خدا سے نہیں۔
گھر میں جب سب مل کر مغرب کی نماز پڑھتے، تو میں باہر نکل آتی تھی، اور پھر میری اور خدا کی براہِ راست یکطرفہ گفتگو شروع ہو جاتی۔
اور جیسے ہم سب جانتے ہیں، خدا بولنے سے زیادہ سننا پسند کرتا ہے، اور میں بولنے کی شوقین رہی ہوں، خاص طور پر جب کوئی چپ کرانے والا نہ ہو۔
اگر یہ کہوں کہ مجھے کبھی جواب نہیں ملے تو شاید یہ غلط ہوگا۔
ہاں، جواب براہِ راست نہیں ملے، مگر ملے ضرور۔
کبھی کسی حادثے کی صورت، کبھی کسی انسان کے جملے میں، کبھی کسی بے سبب سکون میں۔
شاید خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہونے کا اعلان کم کرتا ہے، احساس زیادہ دلاتا ہے۔
کبھی کبھار رنجش بھی رہی کئی کئی دن، ہفتے، مہینے، جیسے پرانے دوستوں میں ہو جایا کرتی ہے۔
مگر میرے اس خیالی دوست کی سب سے خوبصورت بات شاید یہ لگی کہ اُس نے میرے مزاج کے ساتھ ساتھ خود کوڈھالا، اور ہمیشہ ہر دور میں relevant رہا۔
انسان بدلتا رہا، خدا کا تصور بھی بدلتا رہا، مگر گفتگو کبھی ختم نہیں ہوئی۔
اب خدا وہ بچپن والی، آسمان سے اونچی اور کائنات در کائنات پھیلی ہوئی ہستی نہیں رہا؛ اب وہ کہیں زیادہ رسائی میں ہے۔
اب خدا سے بات کرنے کے لیے جائے نماز بچھانی نہیں پڑتی۔
وہ کبھی چائے بناتے ہوئے مل جاتا ہے، کبھی رات کے آخری پہر، اور کبھی کسی بے نام اداسی میں۔
اور میں منصور کو دُہرا کر خود کو مزید مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتی۔
میں نے ایسی کئی کتابیں خریدیں،
جس سے میں جان پاتی کہ باقی لوگ خدا کو کیسے دیکھتے ہیں، صرف ایک مذہب یا ایک نظریے سے نہیں بلکہ مختلف زاویوں سے۔
کچھ کتابیں پڑھیں، کچھ اب بھی بک شیلف میں سجی ہوئی ہیں۔
کبھی ایک نہایت سمجھدار اور خوش گفتار شخص سے سنا تھا کہ تمام کتابیں پڑھی نہیں جاتیں، بعض کی محض سنگت ہی روح کو لطف دیتی ہے۔ شاید اسی لطف کو قائم رکھنے کے لیے ہم کتابیں خریدتے رہتے ہیں، پڑھتے رہتے ہیں، اُن میں الجھتے رہتے ہیں۔ اور یہ گورکھ دھندا گھوم پھر کر آخر ہمیں اُسی مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں دل میں بس ایک ہی صدا ابھرتی ہے:
”یہ خودی مجھ میں نہ ہوتی تو خدا ہو جاتا“
کیونکہ اناالحق کو سمجھنے والے نہ اُس دور میں تھے، نہ اس دور میں ہیں۔
ہم اپنے اندر بسنے والے منصور کو تھپکی دے کر سلاتے رہیں گے، اور خدا کو اس کائنات کی ہر شے میں تلاش کرتے رہیں گے۔