یہ آنسو پاکستان میں نظامِ عدل کی لاش پر ہیں…
یہ وکیل 10 سال سے سندھ کے 8 لاکھ مزدوں کے بنیادی حقوق کا کیس لڑتا رہا جسے آئینی عدالت نے کل ایک جھٹکے میں ختم کر دیا۔ آئینی عدالت نے کل ارشد شریف کا کیس بھی بند کیا ہے۔
ملک کو یہ تحفہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے آئینی ترمیم سے دیا ہے۔
شہر بانو کی حرکات موجودہ نظام کی بہترین عکاسی کرتی ہیں کیا کسی مہذب معاشرے میں کوئی پولیس آفیسر ڈیوٹی کے دوران یوں پوڈکاسٹ کروا سکتی ہے اور پھر ایک گھنٹے کے اندر قتل کا معمہ حل کر کے واپس بھی آ جاتی ہے
اطہر کاظمی
منیب فاروق میجر جنرل فیصل نصیر پر سیاستدانوں اور میڈیا کے لوگوں پر تشدد کرنے کی گواہی دے رہا ہے۔ انشاللہ جس دن ہماری حکومت آئی منیب فاروق کو بلایا جائے گا اور انوسٹی گیٹ کیا جائے گا کہ وہ ایسے تشدد کے بارے کیا جانتا ہے۔
رؤف کلاسرا ٹھیک کہتے ہیں، ان کا پروگرام عمران خان کے زمانے میں بند ہوا تھا، اور فوجی افسروں کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے دباؤ پہ ایسا ہوا تھا۔ وہ بات غلط تھی - کلاسرا کے ساتھ زیادتی ہوئی
مگر عمران خان کے دور میں ایسے واقعات اکا دکا ہوے! اب تو لاین لگی ہوئی ہے! دو روزہ کانفرنس میں صدیق جان صاحب نے جب نامُ لے لے کر ایک فہرست گنوائی تو معلوم ہوا کہ ایک درجن سے بھی زیادہ صرف TV اینکر اور تجزیہ کار ہیں جنھیں سکرین سے ہٹا دیا گیا ہے! نوکریاں ختم کر دی گئی ہیں! اور موجودہ ریجیم نے ایک بہت بڑی سوشل میڈیا ٹیم بنائی ہوئی ہے جس نے مختلف چیزیں ڈھونڈ کے بہت سے صحافیوں کے یوٹیوب بھی بند کروا دیے ہیں، جیسا کہ ہرمیت سنگھ نے کانفرنس میں بات کرتے ہوے بتایا۔ اور کاشف عباسی نے صرف پروگرام بند ہونے کا نہیں بتایا بلکہ کاشف نے بتایا کہ کیسے اس کے بینک اکاؤنٹ بند ہوے، ٹیکس کے گوشوارے کھول دئے گے، اور رشتے داروں تک کو ہراساں کیا گیا!
مگر خدا کا شکر ہے کہ کاشف کو گرفتار نہیں کیا گیا، دھشت گردی کے مقدمے نہیں بنے، سڑکوں پہ گھسیٹا نہیں گیا۔ جمیل فاروقی اور عمران ریاض سمیت کئی صحافیوں کو زدوکوب کیا گیا، عمران ریاض، صابر شاکر اور میرے سمیت درجنوں صحافیوں پہ جھوٹے مقدمے بنائے گے، انٹرپول تک کو لکھا گیا، عدالتوں سے انصاف کے راستے بند کر دیے گے، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کر دیے گے، یوں کہیے کہ شہریت چھین لی گئی، آج بھی سہراب برکت اور کئی دوسرے صحافی جیلوں میں پڑے ہیں، عمران خان کے دور حکومت میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوا، اینکر، صحافی یا مدیر پہ حکومتی مقدمے کا کوئی تصور نہیں تھا، ارشد شریف کی طرح کے قومی شہرت کے قتل کا کوئی سوچ نہیں سکتا تھا۔ جب ایجنسی نے متی اللہ جان کو اٹھا لیا تو عمران خان نے فورا جنرل فیض کو بلا کر کہا کہ اس قسم کی چیزیں نہیں ہو سکتیں!
کلاسرا صاحب کی تحریر سے ایسا لگا جیسا نواز شریف اور عاصم منیر کا دور اور عمران خان کا زمانہ ایک طرح کے ہیں! کلاسرا صاحب ایک تجربہ کار صحافی ہیں، ان سے اتنی نا انصافی کی توقع نہیں تھی! بہت افسوس ہوا! @KlasraRauf@SdqJaan@Kashifabbasiary@meherbokhari@ImranRiazKhan@ARYSabirShakir