Determine the resultant of the three forces acting on the dam shown. And locate its intersection with the base AB for good design, this intersection should occur within the middle third of the base
کوئٹہ کے سینڈیمن سول ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکنے کا افسوس ناک واقعہ نہ صرف ایک فرد پر حملہ ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک لمحۂ فکریہ بھی ہے۔ ایک ایسی بیٹی، جو اپنی تعلیم، صلاحیت اور محنت کے ذریعے انسانیت کی خدمت میں مصروف تھی، اسے اس سفاکانہ انداز میں نشانہ بنانا انتہائی قابلِ مذمت، غیر انسانی اور دل دہلا دینے والا فعل ہے۔
اگرچہ پولیس کے مطابق ملزم ہلاک ہو چکا ہے، تاہم اس واقعے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جن��وں نے ایک شخص کو اس سنگین اور انسانیت سوز جرم پر آمادہ کیا؟ کیا اس کے پیچھے ذاتی عناد، انتہا پسندانہ سوچ، نفسیاتی مسائل یا کوئی اور محرک کارفرما تھا؟ ان سوالات کے جوابات تک پہنچنا ناگزیر ہے تاکہ معاشرہ ایسی ذہنیت کی جڑوں اور اسباب سے آگاہ ہو سکے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اگر ملزم کو زندہ گرفتار کیا جاتا تو ممکنہ طور پر اس جرم کے پس منظر، محرکات اور ممکنہ سہولت کاروں تک رسائی آسان ہو سکتی تھی۔ انصاف صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں بلکہ جرم کے اسباب، محرکات اور اس سے جڑے تمام پہلوؤں کو بے نقاب کرنا بھی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔
آج ہم اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا رہے ہیں، انہیں ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور دیگر شعبوں میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ س��ال بھی اہم ہے کہ کیا ہم اپنے بیٹوں کو احترامِ انسانیت، برداشت، ذمہ داری اور خواتین کے حقوق کا شعور دے رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں یہ سکھا رہے ہیں کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر میں برابر کے شریک ہیں؟ اگر نہیں، تو ہمیں اپنی تربیتی ترجیحات پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنا ہوگی۔
تیزاب گردی جیسے جرائم صرف ایک فرد کو جسمانی نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ ایک پوری زندگی، خاندان اور معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے واقعات کے اصل محرکات تک پہنچنا، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلوانا اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ہم اس دل خراش واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ ساتھ ہی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کیس کے تمام پہلوؤں کی شفاف، غیر جانبدار اور جامع تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آئے، انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور آئندہ کسی بیٹی، بہن یا ماں کو ایسی بربریت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔