اگر آپ کے ideals درست ہوں گے تو آپ کی سوسائٹی بھی بہتر ہوگی۔ کیا آپ نے کبھی عمران خ��ن کو برانڈڈ چیزیں استعمال کرتے ہوئے دیک��ا ہے؟ عمران خان سادہ شلوار قمیص اور چپل پہنتے ہیں، جبکہ مریم نواز ہرمیز (Hermès) کا بیگ اٹھاتی ہیں۔
An unarmed Iranian ship was invited to take part in an Indian naval exercise alongside the United States.
Its sailors were welcomed on land and paraded before the president as a gesture of cooperation.
Then, at the last moment, the United States abruptly withdrew from the exercise,only to turn around and torpedo the very ship it had just stood beside.
What followed was even more grotesque.
After attacking an unarmed vessel, the US refused to rescue the sailors it had thrown into the sea, abandoning them to drown.
The grim work of recovering bodies was left to the Sri Lankan Navy.
This wasn’t warfare,it was treachery of the most disgraceful kind: an ambush carried out under the pretense of diplomacy, followed by a cold refusal to show even the most basic human decency to the dying.
It would represent a collapse of every norm that supposedly governs civilized conduct at sea.
And yet, instead of outrage, much of the American media response has been indifference or rationalization.
The bombing of a girls’ school is brushed aside; talk of carpet-bombing Tehran is floated as if it were just another policy option.
When atrocities are normalized and cruelty is laundered into “strategy,” the line between reporting and complicity begins to disappear.
شیخوپورہ کی سرزمین پر، ورک فارم 777 کے وسیع و عریض میدان میں، 14 دسمبر 2025 کو ایک عجیب تماشا دیکھنے کو ملا۔
ایک ٹک ٹاکر، عثمان ورک، نے اپنے فینز کے لیے ایک سادہ سا پروگرام رکھا تھا۔ نہ کوئی سیاسی نعرہ، نہ مذہبی جوش، نہ کوئی احتجاجی جلوس۔ بس ایک نوجوان کی اپیل پر ہزاروں لوگ، زیادہ تر نوجوان، گھروں سے نکلے، موٹرسائیکلوں، رکشوں اور بسوں پر سوار ہو کر جمع ہو گئے۔ ویڈیوز میں نظر آتا ہے کہ میدان بھرا پڑا ہے، لوگ ہنس رہے ہیں، تصاویر کھنچوا رہے ہیں، اور ایک celebrity کو دیکھنے کی خوشی میں مست ��یں۔یہ منظر دیکھ کر دل سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ یہی نوجوان، یہی جذبہ�� یہی ہجوم – کبھی اپنے حقوق کے لیے، اپنی قوم کے مستقبل کے لیے، اپنے مسائل کے حل کے لیے کیوں نہیں نکلتا؟
مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، تعلیم کا معیار گرتا جا رہا ہے، روزگار کی کمی نوجوانوں کو مایوسی میں دھکیل رہی ہے، اور ملک کے بڑے بڑے مسائل ہمارے سامنے کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ لیکن جب بات تفریح کی آتی ہے، ایک TikTok ویڈیو کی اپیل پر لاکھوں جمع ہو جاتے ہیں۔ہماری قوم کے نوجوانوں کے رول ماڈلز کیسے کیسے بن گئے ہیں؟
ایک طرف تو ہم انقلاب کی باتیں کرتے ہیں، تبدیلی کی آرزوییں رکھتے ہیں، لیکن عملی طور پر ہمارا جوش صرف لائکس، شیئرز اور celebrity meetups تک محدود
اگر یہ ہجوم، یہ توانائی، یہ ج��بہ کسی مثبت تبدیلی، کسی حقیقی مسئلے کی طرف موڑ دی جائے تو کیا نہیں ہو سکتا؟
نوجوان ہی تو قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر وہ اٹھ کھڑے ہوں تو کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔لیکن افسوس، کے ساتھ امید ہے کہ ایک دن یہ نوجوان سمجھیں گے کہ حقیقی ہیرو وہ نہیں جو اسکرین پر ناچ گانا کرتے ہیں، بلکہ وہ جو اپنی قوم کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ تب شاید یہ ہجوم تفریح سے نکل کر تبدیلی کی طرف قدم بڑھائے۔
Sangakkara is the epitome of a gentleman. He was hit by shrapnel in the Lahore attack, & centimetres away from him Samarweera was shot twice, yet the first thing he reflects on is how the team "had gone through 3-4 minutes of what Pakistani civilians & Army went through daily."
اعتزاز احسن 💥
فوج بہت ڈری ہوئی ہے عمران خان سے کہ ایک شخصیت کو پوری زندگی کے لیے پاکستان کے قانون سے بالا کر دے ۔صدر سے ذیادہ مضبوط عہدہ ہے ،یوں نہیں ہوتا۔ ہر وہ ترمیم جو بنا کسی بحث کے پاس ہوتی ہے،وہ قانون وہ ترمیم کبھی دیر پا نہیں ہوتی۔ انکا ہر منصوبہ ناکام ہوا ہے۔ جو نئے آتے ہیں وہ پچھلے کو اکھاڑ کے جاتے ہیں۔
بھولنا مت 🚨
عمر سرفراز چیمہ نے کچھ عرصہ پہلے عدالت میں کہا تھا، یا تو ہمیں مار دیں اور یا ہمیں انصاف دیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اتنی بیمار ہے کہ خود سے کپڑے بھی نہیں پہن سکتی۔
عمر سرفراز چیمہ اور ڈاکٹر یاسمین راشد کا کوئی مخصوص گروپ نہیں، سب آواز اٹھائیں
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے،
بے شرمی اور غلامی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے،غزہ کے جینوسائیڈ کے سرپرست، فنانسر،جس کے ہاتھ سے اہلیان غزہ کا خون ٹپک رہا ہے کی یہ تعریفیں؟؟؟آج قائد کی روح کیساتھ شہداء غزہ کے روحیں بھی تڑپی ہوگی۔
Moments before his execution, the Desert Lion uttered his immortal words:
"We do not surrender; we either win or die. This is not the end. You will have to fight the next generation and the ones after that. As for me, my lifespan will be longer than that of my executioner."
They fell one by one.. Scenes recorded by an Israeli soldier of a clash at zero distance with resistance fighters.
"When injustice becomes law, resistance becomes duty".
On October 7th , Free Palestine 🇵🇸