@SqpGulabJamunPk Sub bakwas hay.
Is se to behtar hay apnay city se Kisi bhi sweet shop se sweet len woh in k muqablay men kahen ziada behtar ho ge or paisay bhi Kam lagen gay
خان نے بہت سالوں پہلے ہی کہہ دیا تھا
میرا ووٹر ابھی چھوٹا ہے اسے زرا بڑا ہونے دو
وقت آگیا ہے خان کے نوجوانو ۸ فروری کو نکلو اور ایسا نکلو کہ ان زمینی خداؤں کی چیخیں امریکہ تک سنائی دیں اور یہ زمیں بوس ہوجائیں
یہ چند لاکھ ہیں اور تم پانچ کروڑ - ساری گیم تمھاری ہے اور خان تمھارا انتظار کر رہا ہے
#ووٹ_ڈالو_خان_نکالو
#ظلم_کا_بدلہ_ووٹ_سے
انتہائی سنگین ایمرجنسی اعلان⚠️‼
کمپنی نے عمران خان کو اٹھ فروری سے پہلے غیر قانونی بندوق کے زور پر سزا سنانی ہے تاکہ لوگوں میں اشتعال اور مایوسی پھیل جائے
تحریک انصاف کے لیڈر شپ کو صرف ایک کام کرنا ہوگا کہ ابھی سے ہائی کورٹ کے لیے پٹیشن تیار رکھیں اور اسی دن ایک ٹیم تشکیل دی جو پریس کانفرنس کرے اور عوام کا جذبہ گرنے نہ د�� اور عوام کو نفسیاتی طور پر قابو میں رکھیں تاکہ وہ ووٹ ڈالنے سے مایوس نہ ہو
@PTIofficial
مچھلی کے پیٹ میں قید یونس (ع) نے اللہ کے حضور اپنی دعا میں تسلیم کیا کہ ان سے ظلم ہوا۔ ایک پیغمبر، اللہ کی برگزیدہ ہستی نے (نع��ذ باللہ) کیا ظلم کیا ہوگا��
مایوسی! مایوسی ان کا اپنی ذات پر کیا ہوا ظلم تھا۔ یونس (ع) نے مایوسی میں ایک فیصلہ لیا اور اپنی دعا میں وہ اپنے اس فیصلے پر اپنے رب کے حضور پشیمانی کا اظہار کررہے ہیں۔ “لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین”۔
مایوسی آپ کے سامنے کی حقیقتوں کو دھندلا دیتی ہے اور کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اللہ کی ذات ہے۔ اس کا وحدہ لا شریک لہ ہونا ہے۔ اس کا “قادر” ہونا ہے۔ مایوسی انسان سے اللہ کی اِس صفت کو جھٹلاتی ہے۔ اسی لیے مایوسی کُفر ہے۔ مایوسی انسان کو شرک پر آمادہ کرتی ہے۔
یونس (ع) کی دعا میں اللہ کی وحدانیت کا اقرار بھی اسی لیے دہرایا گیا ہے کہ ہمیں یاد رہے کہ جب انسان کا ال��ہ کی قدرت پر یقین متزلزل ہونے لگتا ہے تب وہ لاشعوری طور پر دنیاوی خداؤں کی برتری تسلیم کرنے لگتا ہے۔ وہ مان جاتا ہے کہ گر کسی کی پاس طاقت ہے تو وہ مختار ہے آپ کے بھلے برے، عزت ذلت، زندگی موت کا، آپ کا ملک اس کے لگائے “وینٹی لیٹر” پر ہے۔ وہ رازق ہے آپ کا اور آپ اس کے سامنے “بیگرز کانٹ بی چوزرز” کی تفسیر۔ وہ جب کہتا ہے کہ “وی ول پش یو ان ٹو سٹون ایج” تو آپ اس کے قدموں میں اپنے بچوں کے سر لا کے رکھ دیتے ہیں۔ اُس کے دربار سے قاصد یہ حکم لے کر آجائے کہ فلاں قابلِ قبول نہیں تو آپ ایک ادنٰی نوکر کے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا کر، چُوم کر اپنی خوداری کو داو پر لگا، بے قصور لوگوں کو کچلتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کرنے نکلتے ہیں۔
دُنیا کا ہر بزدل، بے غیرت انسان دراصل اللہ کی قدرت سے مایوس، اُس کے اختیار میں اُس کی وحدانیت میں شراکت کا مُرتکب ہوتا ہے۔ اور دُنیا کا ہر ظالم، انسان ��ی اپنے رب کی قدرت سے مایوسی پر پنپتا ہے۔ مگر ہوتا وہی ہے جو آپ کا رب چاہتا ہے۔ وہ جب آپ کے سامنے ہر چہرہ عیاں کردیتا ہے، ہر اُس شخص، عہدے، ادارے، ہر اُس طاقت کی حقیقت کھول کے رکھ دیتا ہے کہ جس سے آپ نے آس ��گائ ہو تو مقصد آپ کو ہارنے پر آمادہ کرنا نہیں ہوتا۔ یہ تسلیم کرانا نہیں ہوتا کہ کسی کا اختیار تمہارے رب سے بڑھ کر ہے، کسی نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کوئ منظورِ نظر ہے سو اب وہ باعثِ تکریم ہے اور جو اُس سے ٹکرائے گا پاش پاش ہوجائگا۔۔ بلکہ آپ کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ اب جب کوئ نہیں رہا کہ جو تمہاری کامرانی کو اپنی عطا بتلا سکے تو اب تم نے میرے بھروسے میرے سہارے کھڑا ہونا ہے۔ اب تمہاری آنکھیں میری قدرت کے اعتراف کے لیے کھلنی ہیں۔ سوچیں کتنا ظلم ہو کہ جو پل آپ کے لیے طُور پر تجلی چمکنے جیسا ہو آپ آنکھیں موند لیں؟ جِس میں آپ کے لیے سمندر میں رستہ بننا ہو آپ عین اُس لمحے اپنے گھ��ڑوں کی بھاگیں کھینچ رہے ہوں۔ وہ کہ جس میں یہ فیصلہ ہونا ہو کہ آپ کے سامنے کی آگ نے آپ کے قدموں تلے گلزار بننا ہے آپ اُسی ساعت مایوسی کے بت کے سامنے سرنگوں ہوجائیں۔۔
اسی لیے بہادر آدمی نظر منزل پر رکھتا ہے۔ اُس کا محور اُس کا مقصد ہوتا ہے کیونکہ اُس کا رہ نما اُس کا ایمان ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے اس کے آس پاس گرتے بُرج اس کے رب کی حکمت کی نشانی ہیں اور جلد ہی اُس سے سوال ہوگا “اب کون ہے تمہارا میرے سوا” اور ایک وہی اپنی بے نیازی ترک کرکے سر جھکانے کا مقام ہوگا۔ اُس مقام تک اپنا سر اٹھا کر چلیں کیونکہ آپ کا لیڈر صرف “ایاک نعبد وایاک نستعین” کا دم بھرتا ہے۔ کوئ آپ کو اپنی جانوں پر مایوسی جیسا کفر طاری کرنے پر قائل نہ کرپائے کیونکہ آپ لاالہ الا للہ کے نعرے پر اکھٹی کی گئ قوم ہیں۔ اور لاالہ الا للہ کے ماننے والے کسی اور کی خدائ کے دعویٰ کے سامنے سرنگوں ہونے جیسے شرک کے مرتکب نہیں ہوسکتے۔
@TalkativePal7@soldierspeaks Yeh bat ek patwari Kabhi bhi nai samajh sakay ga .
Shaed jab us k apnay bchay marnay lagay to usay samajh AA jaey lekin meray kheyal men phir bhi mushkil hay
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا پیغام:
میری گرفتاری متوقّع تھی چنانچہ میں نے یہ پیغام اپنی گرفتاری سے قبل ریکارڈ کروایا۔
یہ لندن پلان پر عملدرآمد کی جانب ایک اور قدم ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے کارکنان پرامن، ثابت قدم اور مضبوط رہیں۔
ہم رب العزّت کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے جو ”الحق“ ہے۔ لاالٰہ الّا اللہ ہی ہمارا ایمان ہے۔
#لندن_پلان_نامنظور