advancing women's political participation and good governance, is necessary to ensure that decision-making processes are participatory, responsive, equitable and inclusive. focused efforts through strategic entry points can advance the status of women
عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ نےپاکستان میں شرح غربت میں 7٪ اضافہ کے ہوشرباء اعداد و شمار نہایت تشویشناک ہیں۔ دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختنخؤاہ میں بھی 29.5فیصد افراد غربت کا شکار ہیں۔ بےروزگاری، کروڑوں بچوں کا سکول سے باہر ہونا اور معاشی بدحالی ان حالات کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے
وفاقی و صوبائی حکومتوں کے معاشی بحالی اور ترقی کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے۔
ان چشم کشا حقائق کے بعد حکومتوں اور پالیسی میکرز کو ہوش کے ناخن لینا ہونگے، این ایف سی ایوارڈ میں غربت کا خاتمہ پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ ایسی عوام دوست پالیسیاں مرتب کی جائیں جو صحیح معنوں میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہوں
#QWP #worldbank
میں حالیہ اقوامِ متحدہ کی دو ریاستی کانفرنس کے موقع پر برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلان کا پُرجوش خیر مقدم کرتا ہوں۔ اگرچہ یہ فیصلہ بہت دیر سے آیا ہے، لیکن بلاشبہ یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ فلسطینی عوام دہائیوں سے ریاست، امن اور باوقار زندگی کے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے دو ریاستی حل کے مؤقف پر مضبوطی سے کھڑا رہا ہے، اب دیگر ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہچکچاہٹ کو ترک کریں اور فوری طور پر فلسطین کو تسلیم کریں۔ انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ مزید فلسطینی نسلوں کو قبضے اور ظلم کی نذر ہونے سے پہلے عملی اقدامات کرے۔ قومی وطن پارٹی اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے
#qwp #UnitedNations #aftabkhansherpao
میں کل وادیٔ تیراہ کے المناک واقعے میں جان بحق ہونے والے معصوم شہریوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔ غم کی اس گھڑی میں میری دعائیں اور ہمدردیاں لواحقین کے ساتھ ہیں۔ معصوم جانوں کا ضیاع ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول ہے۔ عوام کے لیے پائیدار امن کا حصول پہلی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ایسے سانحات کو دوبارہ وقوع پذیر ہونے سے روکا جاسکے
#qwp #TrendingNow #sikandarkhansherpao
فرنٹیئر کانسٹبلری ہیڈکوارٹر کی تاریخی اہمیت اور افادیت مسلمہ ہے، اس کی اسلام آباد منتقلی صوبہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ یہ اقدام اضافی اخراجات کا باعث اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کو مزید خطرناک بنا دے گا، جبکہ صوبہ پہلے ہی دہشت گردی کی نئی لہر سے دوچار ہے۔
وفاق کو چاہئے کہ ہیڈکوارٹر اسلام آباد منتقل کرنے کے بجائے پنجاب کانسٹبلری کو مزید مضبوط کرے۔ ایف سی ہیڈکوارٹر مقامی روزگار کا ذریعہ ہے، جہاں مختلف قومیتوں اور قبائلی عوام کو ترجیح دی جاتی تھی، لیکن منتقلی سے روزگار کا یہ راستہ بھی چھن جائے گا۔ پہلے معدنی وسائل پر قبضہ کیا گیا اور اب ایف سی جیسے فعال ادارے کو صوبے سے دور کرنا ناقابل برداشت اقدام ہوگا۔
#KhyberPakhtunkhwa #FCHeadquarters
#punjabconstabulary #islamabad #FrontierConstabulary
@GovernmentKP
The Frontier Constabulary Headquarters holds undeniable historical significance and value; its transfer to Islamabad would be a grave injustice to #KhyberPakhtunkhwa. This move will not only burden the state with additional expenses but also aggravate the already fragile law and order situation, at a time when the province is grappling with a renewed wave of terrorism. Instead of shifting the Headquarters to Islamabad, the federal government should focus on strengthening the Punjab Constabulary. The #FC Headquarters has long been a vital source of local employment, where people from diverse ethnic backgrounds and tribal communities were given preference. Its relocation will deprive them of this crucial livelihood. Having already witnessed the exploitation of the province’s mineral resources, removing an active institution like the FC from the province would be an intolerable act. #PunjabConstabulary #Islamabad
@GovernmentKP
Two extremely worrying incidents where Frontier Corps and Army soldiers were martyred and injured. Yesterday in Lower Dir and today in South Waziristan. This demands a united resolve by all stakeholders across the board, with a clear and decisive action plan to bring the situation under control. The continued use of Afghan soil for such attacks, despite several meetings, remains an alarming issue that must be urgently addressed.
@ForeignOfficePk@AmbassadorSadiq@OfficialDGISPR@TOLOnews@AfghanistanTime@Reuters
کل لوئر دیر اور آج جنوبی وزیرستان میں پیش آنے والے اندوہناک واقعات جن میں فرنٹیئر کور اور پاک فوج کے جوان شہید اور زخمی ہوئے نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔ ان سنگین حالات پر قابو پانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکجہتی اور قومی عزم کے ساتھ ایک واضح اور فیصلہ کن لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ متعدد کاوشوں کے باوجود افغان سرزمین کا ایسے حملوں کے لیے استعمال ہونا انتہائی تشویشناک ہے جسے فوری طور پر حل کیا جانا ضروری ہے۔
@ForeignOfficePk@AmbassadorSadiq@OfficialDGISPR
خیبر کی تحصیل لنڈیکوتل میں خواتین کو اغواء کرکے فروخت کرنے کا انکشاف۔۔۔
پولیس نے مبینہ طور پر بردہ فروشی کے الزام میں مقامی دوکاندار گرفتار کرلیا
گرفتار ملزم کی شناخت نصیب ولد رحمان اللہ سکنہ لنڈیکوتل کے نام سے ہوئی ہے،
ملزم لنڈیکوتل سے لڑکیوں کو ورغلا کر سوات میں فروخت کرتا رہا ہے،
ملزم سوات پولیس کو بھی مختلف مقدمات میں مطلوب ہے،
ملزم کی گرفتاری کے متعلق سوات پولیس کو بھی آگاہ کردیا ہے،
I reached out to all the political parties who participated in the death anniversary congregation of Sardar Ata Ullah Mengal to condole and sympathize with them over the tragic incident last night in which 18 precious lives were martyred and dozens were injured. The situation is extremely grave, and every day we are losing innocent lives. I strongly call for a judicial inquiry to investigate this incident and to hold accountable those responsible for the security failures.
#quettablast #Quetta
@sakhtarmengal@MediaCellBNP_@BalochistanPost@MKAchakzaiPKMAP
بی این پی جلسہ کے دوران دہشتگردی حملہ متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ میری تمام ہمدردیاں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں، جلسہ میں سابق وزیر اعلیٰ اور بی این پی سربراہ اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی بھی موجود تھے جو اس حملہ میں محفوظ رہے۔ اگر اس قدر پائے کے سیاستدان بھی دہشتگردوں کی پہنچ میں ہیں تو سیکورٹی صورتحال یقینا نہایت ناگفتہ بہ ہے،
شدت پسندی ہر طرف تیزی سے پھیل رہی ہے اگر حکومت اور اداروں نے موثر اقدامات نہ اٹھائے تو معاشی ترقی، سیاسی استحکام اورسماجی پائیداری کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا.
@sakhtarmengal@MediaCellBNP_@BalochistanPost@MKAchakzaiPKMAP
سکندر شیرپاؤ کا وزیر اعلیٰ گنڈاپور پر سخت وار – کالاباغ ڈیم پر بڑا بیان اور دھواں دار پریس کانفرنس
--------------------
پشاور( )قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپاؤ نے کالاباغ ڈیم کے حوالے سے وزیر اعلیٰ علی آمین گنڈاپور کے حالیہ بیان پر انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ایک متنازعہ ایشو ہے۔انھوں نے کہا کہ قومی وطن پارٹی نے کالاباغ ڈیم منصوبے کی ہر فورم پر مخالفت کی ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی۔وطن کور پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تین صوبائی اسمبلیوں نے متفقہ طور پر کالاباغ ڈیم منصوبے کے خلاف قراردادیں پاس کی ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے جہاں پر تمام فیصلے اتفاق رائے سے لینے کی ضرورت ہے لہٰذا ایسے بیانات سے وفاق کی وحدت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔قومی وطن پارٹی کے رہنماء نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جن کی تکمیل 2030اور2027تک پوری ہوجائے گی جس کے سبب کالاباغ ڈیم منصوبہ ایک مردہ گھوڑا بن چکا ہے۔انھوں نے کہا کہ کچھ عناصر اپنے مقاصد کیلئے ایسے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں جس کا نقصان وفاق کو ہوگا۔پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے وفاقی حکومت سے متاثرہ لوگوں کی آباد کاری کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیاتاہم انھوں نے واضح کیا کہ صوبہ پنجاب میں حالیہ سیلابوں کا کالاباغ ڈیم سے کوئی لینا دینا نہیں اور اس کی بنیادی وجہ دریا راوی اور ستلج میں طغیانی ہے۔انھوں نے کہا کہ آبی ذخائر کے حوالے سے وزیر اعظم کی موجودگی میں ہونے والی ایک بریفینگ کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کالاباغ کی تعمیر کا مسئلہ اٹھایا۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ صوبے کو درپیش مسائل جس میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال،میگاکرپشن سکینڈلز اور خراب طرز حکمرانی جیسے سنگین معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے اس قسم کے بے سر و پا بیانات دے رہے ہیں۔سکندر شیرپاؤ نے مشرقی افغانستان میں حالیہ زلزلے میں جاں بحق ہونے والے افرادکے لواحقین سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کہا کہ برادر پڑوسی ملک کو اس وقت ادویات اور ملبہ ہٹانے کیلئے بھاری مشینری کی ضرورت ہے لہٰذا اس کی افغان حکومت کو فراہمی یقینی بنائی جائے۔اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے مرکزی سیکرٹری انفارمیشن طارق احمد خان،صوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فاروق افضل،صوبائی وائس چیئرمین سید فیاض علی شاہ،صوبائی سیکرٹری فنانس اخونزادہ سکندر زمان اور صوبائی سیکرٹری انفارمیشن شکیل وحیداللہ خان بھی موجود تھے
#kalabaghdam #QWP #SikandarSherpao