یہی کمپنی چلے گی اب اس کمپنی کے علاوہ کسی کے پاس کوئی چوائس نہیں۔ عمران اب واپس نہیں آ سکتے، کسی معجزے سے ہی واپس آ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔عمر چیمہ
یہ اور اس جیسے کئی دانشور کہتے تھے عمران کے ہاتھ میں اقتدار کی لکیر نہیں ہے ان کا تھوکا ان کےمنہ آیا آئندہ بھی ایسے ہو گا، عمران واپس آئے گا اسے یہ قوم واپس لائے گی
🚨 گزشتہ تین برسوں سے ہم انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں،
مگر نظامِ عدل کی بے حسی اب حد سے بڑھ چکی ہے۔ ہمیں محض طفل تسلیوں کے پیچھے دوڑایا جا رہا ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کے حالیہ اعتراف نے اس سچائی پر مہر لگا دی ہے کہ عدالتیں آزاد نہیں، بلکہ پسِ پردہ احکامات پر عمل پیرا ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان عدالتوں سے عام آدمی کو انصاف ملنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔"
علیمہ خان
"ایک مسنگ پرسن کے نام "
یہ ٹویٹ ایک مسسنگ پرسن کیلئے ہے -
مسنگ پرسن جو پچھلے تین سال سے نہیں دیکھا گیا ' اور پچھلے 7 ماہ سے اس کے خاندان میں سے کسی نے اس سے نہ بات کی نہ ملاقات کی -
مسنگ پرسن جو پاکستان کا سب سے مقبول پرسن ہے لیکن غائب ہے -
مسنگ پرسن جس کی ایک آنکھ مسنگ کردی گئی لیکن اس نظام اور اس عوام کے کان پر جوں تک نہ رینگی -
مسنگ پرسن جس کا مقدمہ نہ کسی تھانے میں درج ہوتا ہے نہ کسی عدالت میں دائر ہوتا ہے -
مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کی سپریم کورٹ ہی مسنگ ہوگئی- وہاں عدل مسنگ ہوگیا - وہاں انصاف مسنگ ہوگیا -
مسنگ پرسن جس کس انتخابی نشان مسنگ کردیا گیا جس کا بیلٹ باکس مسنگ کر دیا گیا -
مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کا آئین ترمیم زدہ کرکے مسنگ کردیا گیا -
مسنگ پرسن جس کے سب مقدمے بھی ماوراے عدالت ' جس کی سب سزائیں بھی ماوراے عدالت - جس پر الزام بھی ماوراے عدالت - جس کا انجام بھی ماوراے عدالت -
مسنگ پرسن جس کے وسیلے سے اس ملک میں کینسر مسنگ ہونے لگا ' پر آج وہ خود آمریت کے کینسر سے گھائل مسنگ نظر آتا ہے -
مسنگ پرسن جس کے اپنے بھی مسنگ ' جس کے سجن بھی مسنگ ' جس کی عوام بھی مسنگ ' جس کے منسٹر بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے وکیل بھی مسنگ ' جس کے مشیر بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کی جیل کے باہر دھرنا بھی مسنگ ' عوام کا بپھرنا بھی مسنگ - پارٹی کا احتجاج بھی مسنگ - کوئی ہڑتال کوئی لانگ مارچ بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کی میڈیا پر سے اب خبر بھی مسنگ ' جس کا نام بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بغیر اس نوجوان کا سیاست میں اشتیاق بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بغیر اس ملک کے غریب کا "احساس " بھی مسنگ ' جس کے بعد بے گھر کی "پناہ گاہ " بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد بیمار کا "ہیلتھ کارڈ" بھی مسنگ ' جس کے بعد "بلین ٹری اور ماحولیات" کی بات بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد ملک کا وقار بھی مسنگ ' آزاد خارجہ پالیسی کا انداز بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد وردی کی حرمت بھی مسنگ اور پاسبان سے محبت بھی مسنگ -
یہ میرا کالم اس مسنگ پرسن کے نام ہے جس کا مسنگ ہونا اب اس ملک ؛ اس نظام اور اس عوام کیلئے ایک نیو نارمل بنتا جارہا ہے اور سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس نسیان اور اس بیوفائی اور طوطا چشمی پر ہمارا ضمیر بھی مسنگ -
#ImranKhanisEssentiallyaMissingPerson
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@SabeeKazmi786@ARYSabirShakir@MarioNawfal@soulful7867@salmanAraja@SohailAfridiISF
شوکَت نواز میر کی گرفتاری صرف ایک شخص کی گرفتاری نہیں، بلکہ حق، انصاف اور عوامی آواز کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ ظلم اور جبر کی تاریخ گواہ ہے کہ نہ قیدیں نظریات کو روک سکتی ہیں، نہ ہتھکڑیاں آزادی کی خواہش کو ختم کر سکتی ہیں۔
یاد رکھو، کشمیر کا ہر بچہ، ہر نوجوان، ہر باہمت انسان شوکت نواز میر ہے۔ تم آخر کس کس کو گرفتار کرو گے؟ کس کس کی آواز دباؤ گے؟ حق کی صدا دیواروں اور زنجیروں سے نہیں رکتی۔
ریاستی دہشت گردی بند کرو۔ اختلافِ رائے کو جرم بنانا اور حق کی آواز کو طاقت کے زور پر خاموش کرنا انصاف نہیں، کمزوری کی علامت ہے۔
قفس میں قید پرندوں سے یہ کہنا اے صیاد،
پرواز کا حوصلہ زنجیروں سے نہیں مرتا۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ خاتون (بشری بی بی) کا کیس سامنے آیا ہے جہاں فائننشل کرپشن کیس میں معاونت کے الزام پر قید خاتون کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ، سلمان صفدر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے دلائل ۔۔ !!
چور لٹیرے حاکم اور غنڈے بدمعاش صرف گھر میں موجود زیورات اور موبائل لیپ ٹاپ ہی چوری کرسکتے ہیں، جس گھر میں ہم دن رات اپنے گمشدہ باپ کی اذیت میں ماتم کرتے ہیں اس گھر سے تصویروں اور پوسٹر کے علاوہ انہیں اور ملتا ہی کیا؟ میرے گھر سے کوئی اسلحہ اور بم تو ملا ہی نہیں تو بے چاروں نے تصویریں اور کتابیں ہی چوری کر لیں۔
سترہ سال سے میرے گمشدہ باپ کو لوٹانے کی انکی اوقات اور جرات نہیں ہے اب یہ ہم سے صرف تصویروں کی شکل میں یادیں ہی چھین سکتے ہیں۔
انکی بے بسی اور خوف پر ترس ہی کھایا جاسکتا ہے۔
پہلے قوم کو سیاسی شعور دینے والے محسن قائد عمران خان کو پسِ زندان ڈالا گیا، پھر ایمان مزاری کی آواز کو زنجیروں میں جکڑا گیا، اس کے بعد مہرنگ بلوچ اور اب شوکت نواز میر کو بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر دبائی گئی آواز کے بدلے کئی نئی آوازیں جنم لیتی ہیں۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت اور جبر سے نہیں، بلکہ دلیل، انصاف اور آئین کی بالادستی سے دیا جاتا ہے۔ گرفتاریاں نظریات کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ انہیں مزید مضبوط اور توانا بنا دیتی ہیں۔آوازِ حق کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ سچ ہمیشہ اپنی راہ خود بنا لیتا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک بوکھلائے ہوئے اور خوف زدہ نظام کی بے بسی کی علامت ہیں۔
یہ آوازیں اب کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں رہیں، بلکہ اس دھرتی کے ہر مظلوم، ہر محروم اور ہر پسے ہوئے انسان کی دھڑکن بن چکی ہیں۔
بات نہ ہوتی اگر جہاز باپ کے پیسے سے خریدا ہوتا جہاز عوام کے خون پسینے کی کمائی سے خریدا تبھی بات ہوئی ، بے شرمو تم جہاز میں بیٹھ کر سیریں کررہے ہو اور عوام اپنے پیاروں کو غربت کے ہاتھوں مجبور بغیر کفن دفنانے پر مجبور ہے اوپر سے اتنی ڈھٹائی اور بے شرمی سے چوری پر سینہ زوری بھی کرتے ہو۔