بہادر لوگ ہی ایران گئے ہیں سپریم لیڈر کے جنازے پر یہ سعادت بھی خدا کسی کسی کو دیتا ہے،
ورنہ تو ایسے حرامی بھی ہم نے دیکھے جو چار کلو میٹر دور امریکہ کے ڈر سے ڈاکٹر قدیر خان کے جنازے میں نہیں گئے تھے،
دنیا کی کسی بھی مہذب معاشرے میں صحافی یوں مخاطب نہیں ہوتے جبکہ پاکستان میں صوبائی دارلحکومت کے ڈی آئی جی کو گفتگو کرنے پر کتوں کی طرح پڑ جانے والے صحافتی کارڈ گلے میں ڈال کر تشریف لے ائے ہیں
زمین ملی تو بنجر صحافی ملے تو کنجر