میں تمہاری دھمکیوں، تمہارے مظالم سے نہیں ڈرتا! میرا حوصلہ تمہارے تمام سات لاکھ فوجیوں سے زیادہ ہے۔
آج علیمہ خان، نورین خان اور ان کی بیٹی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عمران خان کا سارا کنبہ جیل میں ہے۔
حسینیت اور یزیدیت کی جنگ اس نے لڑ کر دکھائی ہے، ہم سب کو بھی لڑنی ہوگی۔
یہ لوگ 27 ستمبر کو ہر حال میں ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ تمہارے یہ چند کنٹینر کیا پورے پاکستان کو روک لیں گے؟ تم نے پورے پاکستان کو مذاق سمجھ لیا ہے۔
عوام عاصم منیر سے کہہ رہی ہے: بیرکوں میں جاؤ یا اپنے گھر جاؤ، یہاں سے نکلو! عوام تو اپنا حساب لے گی۔
اپنے کان کھولو اور میری بات غور سے سنو۔ شاید تم سمجھ نہیں سکتے، لیکن یہ بات یاد رکھو: ایسے اقدامات سے لوگوں کی آواز ختم نہیں کی جا سکتی۔
قائد اعظم کی بہن ہماری مادرِ ملت نے اپنی ساری زندگی اپنے بھائی کے لیے وقف کر دی۔
عمران خان بھی اس قوم کا بہادر لیڈر ہے اور اس کے لئے علیمہ خان نے جو قربانیاں دیں ہیں انکا بھی کوئی ثانی نہیں۔
مادرِ ملت سے لے کر علیمہ خان تک، یہ جرنیلی ٹولہ نہیں بدلا۔
Today, my aunt, Aleema Khan, has been abducted by police in Lahore. Our family has been told nothing about where she has been taken. Her family and lawyers cannot reach her.
This is the behaviour of a fascist government - abducting people, terrorising families and trampling human rights, due process and the rule of law while pretending to stand for democracy.
First they imprisoned my father. Now they are coming after his family.
We demand immediate access to her for her family and lawyers, full disclosure of where she is being held, and her immediate release.
The world cannot keep looking away from what is happening in Pakistan.
Imran Khan’s sister Aleema Khan was snatched off the streets of Lahore. Family phones went dead. Her car appeared at a police station. Only then did the regime tell the media she had been arrested.
There was no fresh criminal case that justified grabbing her this morning. They used 3-MPO, preventive detention without charge,to disappear a woman whose only offense is speaking for her imprisoned brother.
This is how Field Marshal Asim Munir and his fellow generals are turning Pakistan into another North Korea, pick up family members first, invent the paperwork later, and dare the world to notice.
واضح ہو گیا ہے کہ ہمارے جرنیل یا اسٹیبلشمنٹ، انڈیا سے بڑھ کر ہمارے دشمن ہیں۔ کوہاٹ کے دھماکے کے بعد محسن نقوی آ کر کہہ رہے ہیں کہ جماعتِ اسلامی یا تحریکِ انصاف اپنے دھرنے ختم کرو۔
تم نے پہلے بھی اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے بے قصور لوگوں کو قتل کیا ہے۔ تم جو اتنی مہنگائی کر رہے ہو، عوام کو لوٹ رہے ہو، تو عوام اسلام آباد کیوں نہ آئے؟ پیٹرول پر لیوی کس چیز کی ہے؟ کیا آئی پی پیز تمہارے نہیں ہیں؟ غریب عوام کہاں جائیں؟ کوئی بات ہو جائے تو آئی ایم ایف کو سامنے کر دیتے ہو۔
تمہیں آئی ایم ایف گیارہ، گیارہ ارب کے جہاز لینے دیتا ہے، لیکن عوام کو ریلیف نہیں دینے دیتا۔ ان کے پاس اس جہاز کی کوئی جسٹیفکیشن نہیں ہے۔
مریم نواز نے برطانیہ جانے کا اڑھائی کروڑ روپے کرایہ دیا ہے۔ اگر یہ جہاز نہ ہوتا تو بھی آپ اڑھائی کروڑ میں سفر کرتیں۔ کل وہ ملتان میں اپنے UK کے سفر کی رسیدیں پیش کر رہی تھیں۔
کل مریم نواز ملتان میں کہہ رہی تھیں کہ کارڈیالوجی میرے والد نے بنایا۔ جس مینارِ ہسپتال میں وہ کھڑی تھیں، اس کا آغاز کس نے کیا؟
کارڈیالوجی کا منصوبہ میں نے بنایا، جب میں ہیلتھ منسٹر تھا۔ اس کے فنڈز بھی میں نے مختص کیے۔ مینار کینسر ہسپتال پہلے سے موجود تھا، لیکن میں نے اسے بھی اپ گریڈ کیا اور جدید مشینری فراہم کی۔
میرے علاوہ ملتان کے کسی اور ممبر نے نشتر کالج، ایئرپورٹ اور باقی بڑے بڑے منصوبوں کا مطالبہ ہی نہیں کیا۔ صرف میں تھا جو اس خطے کے لیے آواز اٹھاتا رہا۔
نواز شریف ایئرپورٹ کا کریڈٹ یوسف رضا کو دیں گے، کارڈیالوجی کا کریڈٹ پرویز الٰہی کو دیں گے، اس کا فنڈ فنانس ڈویژن سے بھی میں نے منظور کروایا، لیکن جاوید ہاشمی کا نام وہ کبھی نہیں لیں گے۔ حالانکہ کبھی یوسف رضا اور پرویز الٰہی نے کبھی کلیم بھی نہیں کیا۔
اس وقت میاں نواز شریف خود کہتے تھے کہ جاوید ہاشمی بازو مروڑ کر کام لے لیتا ہے۔
میرے بھائی کا فارم اب گرایا گیا ہے۔ کیا میں نے مریم نواز کا نام لیا؟ میں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے گرایا۔ ان کی اتنی ہمت بھی نہیں۔
میرا کنٹرول شیڈ عمران خان کی حکومت میں گرایا گیا۔ مجھے پتا تھا کہ گرانے والی اسٹیبلشمنٹ ہے۔
میں اگر ان کی کرپشن کا حصہ دار بنتا تو اپنے علاقے میں کوئی ترقیاتی کام نہ کروا سکتا۔ اگر میں نواز شریف کی شوگر مل کی پیشکش مان لیتا، پلاٹ لے لیتا، تو آج بات کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ مجھے اپنے موقف کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
سہیل آفریدی مضبوطی سے کھڑا ہے، اسے salute کرتا ہوں۔
آج پاکستان کا جرنیل بزدل اور ڈرپوک ہے، ورنہ اسی مٹی نے دنیا کے بہادر ترین جرنیل پیدا کیے ہیں۔ تم نے ان کا نام مٹی میں ملا دیا۔
مجھے یہ کیوں نہیں پکڑتے؟ پہلے ایک عمران خان ان سے نہیں سنبھل رہا۔
میرا پیغام چودہ کروڑ لوگوں تک پہنچا ہے، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، جیسے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک وغیرہ۔
اللہ کا شکر ہے مروت جب پہلے دن پی ٹی آئی میں سرگرم ہوا میں نے خان صاحب کو جیل میں پیغام بھیجا کے یہ جنرلز کا ٹاؤٹ ہے۔
اللہ کا شکر ہے اس غدار کو پہلے دن پہچان لیا تھا۔ لیکن کچھ لوگ اسے باقاعدہ پرموٹ کرتے رہے۔
زرا آج یاد کریں کس کس نے پروموٹ کیا۔ وہ سب جنرلز کے کہنے پر اس کے سہولت کار تھے۔
I said those words at a press conference. @AmmyVirk turned them into music. And now they’ve taken on a life of their own. ❤️
What an unexpected and beautiful surprise. Thank you, Ammy, for giving those words a whole new life. Much love and respect from Lehnda Punjab Pakistan. ❤️
میرے کل کے ٹویٹ پر ہونے والا ردِعمل میں نے دیکھا۔ جو بات میں نے کل کی، وہ میں روزانہ کرتا ہوں۔
اس پر آنے والے ردِعمل اور کمنٹس پڑھے۔ عوام کی نبض اور دل کی بات یہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور عاصم منیر کو میری بات سمجھنی چاہیے کہ عوام نے اتنا ردِعمل کیوں دیا۔
آج میرے مرحوم بھائی کے فارم کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔
لگ رہا ہے کہ آج رات مجھے گرفتار کر لیا جائے۔ پولیس کے جتھے میرے گاؤں میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
میں تیار بیٹھا ہوں۔ آؤ اور کر لو گرفتار!
لیکن ضرور سوچنا کہ اس ٹویٹ سے بھونچال کیوں آیا اور حقیقت میں عوام کی رائے کیا ہے۔
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
ضروری اپیل
میری ٹوئیٹر پر موجود انصافینز اور عمران خان کے چاہنے والوں سے گزارش ہے کہ پنجاب اسلمبلی اور قومی اسمبلی ، سینیٹ پر توجہ دیں۔ ممبران کو مجبور کریں کہ وہ ایکٹویٹی کریں۔
پنجاب اسمبلی میں تو باقاعدہ ایک پالیسی ہے کہ احتجاج کرنے کا کیا فائدہ۔ تقریر میں ایسا جملہ بولیں جو وائرل ہو جائے بس کام ہو گیا۔ مطلب توجہ صرف ایک جملے پر چٹکلے پر جو وائرل ہو جائے۔ اور بس اسے دکھائیں کہ یہ ہم نے کیا ہے۔
ایک لمحے کو مان لیں انہیں خان پر بات کی اجازت نہیں۔ تو مریم جیسی نالائق وزیراعلی کبھی نہ آئی لیکن دیکھیں یہ اسے بھی ایکسپوز نہیں کر پاتے۔
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
عمران خان کو سلام۔ عمران خان کے بعد سوشل میڈیا پر ہزاروں مرد و خواتین۔ نام والے اور خصوصا گمناموں کو سلام۔ آپ نے جم کے مقابلہ کیا۔ آپکی قربانی کا صلہ صرف اللہ دے سکتا ہے۔
ہر اس شخص کو جو کھڑا رہا اس کو سلام ۔
حکومتی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فروری ۲۰۲۶ تک عمران خان کا بلڈ پریشر نارمل تھا۔ پچھلے دنوں اُن کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبروں کے باوجود بحث خبر دینے والوں پر فوکس رہی، جب کہ اُس خبر کی اب تصدیق ہورہی ہے۔ آنکھ ضائع ہوگئی، ناحق اسیری کو تین سال ہوگئے، ملاقاتیں بند کروائی گئیں، جان لیوا حملے ہوئے اور اب کبھی آپ کی صفوں کے اندر سے نئی بحث شروع کروا کر اصل ایشو کا رخ موڑ دیا جاتا ہے کبھی کوئی شوشہ چھوڑ کر تو کبھی کوئئ تماشہ لگا کر۔ آہستہ آہستہ سب نارملائز ہوچکا ہے۔ لندن پلان سے لے کر آج تک کے تمام واقعات، حادثات اور حالات سے اگر ابھی تک کے تمام حالات اور واقعات کو جانتے ہوئے بھی، ان کے مضموم مقاصد کے متعلق اگر کسی کی آنکھ نہیں کھلتی، نشانہ سیدھا نہیں رکھتا، فوکس نہیں رہتا تو پھر وہ بھی کسی نہ کسی انداز سے سہولت کاری کرکے پاکستان کے مستقبل اور عمران خان کی زندگی سے کھیل رہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے خان صاحب نے کہا تھا کہ ذاتی ڈاکٹرز یعنی ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم تک رسائی اور انصاف کے حصول کے لیے کیسسز کی سنوائی تک سپریم کورٹ کے باہر پر امن دھرنا دیا جائے۔خان صاحب کی ہدایت بروقت پہنچائی بھی گئیں اور یاد دہانی بھی کرائی گئی۔
لاحاصل بحثوں میں پڑنے اور خبر دینے والوں کا زائچہ تیار کرنے کے بجائے خان صاحب کی ہدایت پر عمل کریں۔
کیا وہ نا حق مقید ہیں؟ جی۔
کیا خان صاحب کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ ان کی تحویل میں ہیں؟ جی۔
کیا ان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوئ ہیں؟ جی۔
کیا اسیری سے قبل صحت مند ہونے کے باوجود ان کی آنکھ کو نقصان پہنچایا گیا؟ جی۔
کیا ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کن معلومات موصول ہورہی ہیں؟ جی۔
کیا عمران خان کی کسی سے ملاقات کروائ گئی ہے؟ نہیں۔
کیا عمران خان کی آنکھ میں خرابی کی خبر سے لے کر آنکھ ضائع ہونے اور ابھی تک ذاتی ڈاکٹرز یا کسی سے ملاقات ہوئی؟ نہیں۔ تو جب ان کے صحتمند ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی تھی تو بار بار ان کی جان کو لاحق خطرات کا علم ہونے کے باوجود تردید کیوں کی جاتی ہے؟ ان کی فوری ہسپتال منتقلی ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں تمام ٹیسٹ اور علاج کا سوال اہم ہے، ناحق اسیری ختم ہونا اہم ہے یا دیگر بحث؟
ہر فورم استعمال کرکے فوری ذاتی ڈاکٹرزکی موجودگی میں علاج اور کیسسز کی سنوائی اور انصاف کے حصول تک جدوجہد یہی عمران خان کی ہدایت تھی، یہی عمران خان کی ہدایت ہے۔ اس ہفتے خان صاحب کے کیسسز لگے ہیں،مستقل دھرنا تو نہیں دیا گیا امید ہے خان صاحب کے کیسسز کی سنوائی کے لیے متعلقہ تمام زمہ داران پہنچ جائینگے۔ ہاں احتجاج کے لیے کارکن سے لے کر سوشل میڈیا تک کی رائے اور آپشنز مختلف ہوسکتے ہیں لیکن خان صاحب کی یہی ہدایت تھی ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی اور تمام کیسسز کی سنوائی اور انصاف تک وکلاء اراکین اسمبلی اور مرکزی قیادت کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا۔