بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کی کامیابی کا انحصار اعتماد پر، صرف تجارت پر نہیں: تجزیہ
نئی دہلی: ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) محض محصولات میں کمی کا معاہدہ نہیں بلکہ باہمی اعتماد، ضابطہ جاتی تعاون اور قابلِ اعتماد اقتصادی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مضمون کے مطابق موجودہ غیر یقینی عالمی ماحول میں تجارتی معاہدوں کی کامیابی کا انحصار صرف منڈیوں تک رسائی کے بجائے اعتماد اور مشترکہ اصولوں پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق دواسازی کا شعبہ اس کی واضح مثال ہے۔ بھارت دنیا بھر میں سستی جنیرک ادویات کا بڑا سپلائر ہے، تاہم یورپی منڈی میں اس کی موجودگی اب بھی محدود ہے۔ معاہدے کے ذریعے ٹیرف میں رعایت کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری منظوری، معیار، فارماکوویجیلنس اور تعمیل کے نظام میں ہم آہنگی دونوں فریقوں کے لیے زیادہ اہم ثابت ہوگی۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین دونوں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سپلائی چین کے خطرات اور اقتصادی تحفظ کے نئے تقاضوں کے پیش نظر قابلِ اعتماد شراکت داروں کی تلاش میں ہیں۔ ایسے میں ایف ٹی اے کو ایک ایسے فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، معیارات اور صنعتی تعاون کو طویل المدت بنیادوں پر مستحکم کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے کی حقیقی کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب دونوں فریق غیر ٹیرف رکاوٹوں میں کمی، ضابطہ جاتی تعاون، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ ان کے نزدیک یہی عوامل بھارت اور یورپی یونین کے اقتصادی تعلقات کو محض تجارتی شراکت داری سے آگے بڑھا کر ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
#India #EU #Europe
Igniting Young Minds 🔥💫 #IncredibleIndia channeling #globalchange#indiancompaniesandtalentgoinglobal 🇮🇳 🌎 🤝
Consul General Shri Pratik Mathur was delighted to meet with Mr. Zak Dychtwald, Founder of Bridge Works Global (BWG) consulting and Ms. Kanupriyah Singh, the head of BWG India to discuss #cross-geography collaboration and their growing operations in India.
CG was delighted to learn from Mr. Dychtwald (Author of Young China and regular contributor at Harvard Business Review) and Ms. Singh that India already sits at the centre of their work, with three on the ground running tripartite India-US-China training HR engagements (across Delhi-Mumbai-Bengaluru) and assured delivery support across India for global supply chains with a 21-market international integrated footprint👣⛓️
Conveying our best wishes, Consul General observed that as Indian companies scale globally and MNCs deepen their India operations, the ability to collaborate #acrossgeographies becomes a decisive factor.
💪🏾🌆
CG @PratikMathur1@zakdychtwald@indiandiplomacy@indiandiplomats@diaspora_india
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا پر عالمی ردعمل، پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نئی بحث
اسلام آباد: بلوچ انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ شاہ جی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف حلقوں نے مقدمے کے طریقۂ کار، شفافیت اور منصفانہ ٹرائل سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی نمایاں رہنما ہیں اور برسوں سے بلوچستان میں مبینہ جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ انہیں 2024 میں گوادر میں ایک احتجاج کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق دہشت گردی اور قتل کے مقدمے میں قانون کے مطابق سزا سنائی گئی، جبکہ ان کے حامی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں نے مقدمے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض تنظیموں کا کہنا ہے کہ جیل کے اندر ہونے والی عدالتی کارروائی، مبینہ خفیہ سماعتوں اور منصفانہ ٹرائل سے متعلق خدشات کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے، جبکہ پاکستانی حکام نے عدالتی کارروائی کو قانونی تقاضوں کے مطابق قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس مقدمے نے ایک بار پھر بلوچستان میں انسانی حقوق، احتجاج کے حق، ریاستی سلامتی اور قانون کے نفاذ کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو عالمی سطح پر اجاگر کر دیا ہے، جبکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قانونی ٹیم نے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
#Balochistan #Pakistan
لندن میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر بلوچ کارکنوں کا احتجاج، پاکستان کے خلاف عالمی کارروائی کا مطالبہ
لندن: بلوچ کارکنوں نے برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے کہا کہ بلوچستان میں ریاستی جبر، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جبکہ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو مقدمات، سزاؤں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
احتجاج میں شریک کارکنوں نے برطانوی حکومت اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے انسانی حقوق ریکارڈ پر خاموشی ختم کریں اور بلوچستان کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر سنجیدگی سے اٹھائیں۔
مظاہرین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی بلوچ اور دیگر بلوچ رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن سیاسی جدوجہد کو دبانے سے بلوچستان میں بے چینی مزید بڑھے گی۔
بلوچ کارکنوں کا کہنا تھا کہ برطانیہ سمیت عالمی برادری کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں انسانی حقوق کو بنیادی شرط بنانا چاہیے اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور سیاسی جبر کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
#Balochistan #Pakistan #UK
A landmark step in a decades-old terror case
Justice delayed, but not forgotten.
After 36 years, the #SIA has chargesheeted Yasin Malik and others in the 1990 abduction and murder of Kashmiri nurse #SarlaBhat@rishi_suri@kakar_harsha
بھارت-امریکہ تعلقات: شراکت داری مضبوط، مگر مکمل اعتماد اب بھی ایک چیلنج، تجزیہ
نئی دہلی: ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات اس وقت اس مرحلے میں ہیں جہاں دونوں ممالک کے اسٹریٹجک، اقتصادی اور دفاعی مفادات انہیں ایک دوسرے کے قریب رکھتے ہیں، تاہم باہمی اعتماد اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکا۔ تجزیے کے مطابق یہ تعلقات “ناکام ہونے کے لیے بہت اہم، مگر مکمل اعتماد کے لیے بہت پیچیدہ” ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ، بحرِ ہند و بحرالکاہل کی سلامتی، جدید ٹیکنالوجی، دفاع، سپلائی چینز اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود تجارت، محصولات، روس سے بھارت کے تعلقات، توانائی کی پالیسی اور اسٹریٹجک خودمختاری جیسے معاملات وقتاً فوقتاً اختلافات کا باعث بنتے رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک نے عبوری تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں تیز کی ہیں، جسے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ اکثر چاہتا ہے کہ نئی دہلی عالمی معاملات میں واشنگٹن کے مؤقف سے زیادہ ہم آہنگی اختیار کرے۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں وسعت کے باوجود بعض حساس معاملات پر اختلافات برقرار رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک اختلافات کو مؤثر انداز میں سنبھالتے ہوئے دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور خطے کے استحکام جیسے مشترکہ مفادات پر تعاون کو کس حد تک مزید مضبوط بناتے ہیں۔ ان کے مطابق باہمی اعتماد کو گہرا کرنا دونوں ممالک کی طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے ناگزیر ہوگا۔
#India #USA
Mass discontent continues to grow raised slogans asserting that #PoJK is not part of #Pakistan
Massive protests coupled with calls for political self-determination and criticism of alleged supply restrictions
@rishi_suri@Ahmad_Noorani@fhzadran
بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کی کامیابی کا انحصار اعتماد پر، صرف تجارت پر نہیں: تجزیہ
نئی دہلی: ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) محض محصولات میں کمی کا معاہدہ نہیں بلکہ باہمی اعتماد، ضابطہ جاتی تعاون اور قابلِ اعتماد اقتصادی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مضمون کے مطابق موجودہ غیر یقینی عالمی ماحول میں تجارتی معاہدوں کی کامیابی کا انحصار صرف منڈیوں تک رسائی کے بجائے اعتماد اور مشترکہ اصولوں پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق دواسازی کا شعبہ اس کی واضح مثال ہے۔ بھارت دنیا بھر میں سستی جنیرک ادویات کا بڑا سپلائر ہے، تاہم یورپی منڈی میں اس کی موجودگی اب بھی محدود ہے۔ معاہدے کے ذریعے ٹیرف میں رعایت کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری منظوری، معیار، فارماکوویجیلنس اور تعمیل کے نظام میں ہم آہنگی دونوں فریقوں کے لیے زیادہ اہم ثابت ہوگی۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین دونوں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سپلائی چین کے خطرات اور اقتصادی تحفظ کے نئے تقاضوں کے پیش نظر قابلِ اعتماد شراکت داروں کی تلاش میں ہیں۔ ایسے میں ایف ٹی اے کو ایک ایسے فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، معیارات اور صنعتی تعاون کو طویل المدت بنیادوں پر مستحکم کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے کی حقیقی کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب دونوں فریق غیر ٹیرف رکاوٹوں میں کمی، ضابطہ جاتی تعاون، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ ان کے نزدیک یہی عوامل بھارت اور یورپی یونین کے اقتصادی تعلقات کو محض تجارتی شراکت داری سے آگے بڑھا کر ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
#India #EU #Europe
راولاکوٹ میں ہزاروں مظاہرین کا پاکستان مخالف اعلان، خوراک کی ناکہ بندی پر بھارت کی جانب دیکھنے کی دھمکی
راولاکوٹ: پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر (پی او جے کے) کے شہر راولاکوٹ میں جاری احتجاج کے بائیسویں روز عیدگاہ گراؤنڈ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جہاں مقررین نے پاکستانی حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی او جے کے پاکستان کا حصہ نہیں ہے اور اگر خوراک کی ناکہ بندی جاری رہی تو عوام بھارت کی جانب رجوع کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
احتجاج کی قیادت مقامی رہنما اور سول رائٹس کارکن سردار امان خان سمیت دیگر رہنما کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے اشیائے خور و نوش اور ضروری سامان کی فراہمی میں رکاوٹوں نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سردار امان خان نے دعویٰ کیا کہ “پی او جے کے پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔ ہمیں پاکستان کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کو ہماری ضرورت ہے۔” ان کے اس بیان پر شرکاء نے بھرپور نعرے بازی کی۔
امان خان نے مزید کہا کہ اگر پاکستانی حکام نے خوراک کی ترسیل پر پابندیاں برقرار رکھیں تو عوام متبادل راستوں پر غور کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات یہی رہے تو باقی سرحدیں بھی کھل سکتی ہیں اور اس صورت میں اسلام آباد کو عوام کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے کوشش کرنا پڑے گی۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک 38 نکاتی مطالبات پر مبنی ہے، جن میں مہنگائی، انتظامی بدحالی، بنیادی حقوق اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف مطالبات شامل ہیں۔ ان کے مطابق احتجاج گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل جاری ہے اور مظاہرین دن رات دھرنے میں شریک ہیں۔
احتجاجی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ 5 جون سے خطے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر کے احتجاج کی اطلاعات کو باہر جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کے بقول اس اقدام کے باوجود تحریک جاری ہے۔
مقررین نے دعویٰ کیا کہ بیرون ملک مقیم پی او جے کے سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی مختلف ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں اور ہائی کمیشنز کے باہر یکجہتی مظاہرے کیے ہیں۔ احتجاجی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے۔
#Rawalkot #PoK #PoJK #AJK #AzadKashmir #Pakistan #JKJAAC
مہیش دکشت نے انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھال لیا
نئی دہلی: Mahesh Dixit نے Intelligence Bureau (آئی بی) کے ڈائریکٹر کے طور پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھال لیا۔ وہ 1993 بیچ کے آندھرا پردیش کیڈر کے آئی پی ایس افسر ہیں اور داخلی سلامتی و انٹیلی جنس کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
#India #IB @HMOIndia
چین میں اسلامی تربیتی نشستوں پر شی جن پنگ کی مرکزیت، مذہبی امور پر کمیونسٹ پارٹی کی گرفت مزید مضبوط
بیجنگ: چین میں اسلامی تنظیموں کے لیے منعقد کی جانے والی سرکاری تربیتی نشستوں میں صدر شی جن پنگ کے نظریات اور کمیونسٹ پارٹی کی پالیسیوں کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے، جسے مذہبی امور پر ریاستی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان نشستوں میں ائمہ، مذہبی رہنماؤں اور اسلامی اداروں سے وابستہ افراد کو اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ مذہبی سرگرمیوں کو چینی کمیونسٹ پارٹی کی ہدایات، قومی اتحاد اور “چینی خصوصیات” کے مطابق ڈھالا جائے۔ اس عمل کو بیجنگ کی جانب سے اسلام کی “سینیکائزیشن” یعنی مذہب کو چینی ریاستی نظریے کے مطابق بنانے کی پالیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ تربیتی پروگراموں میں قرآن، اسلامی تعلیمات یا مذہبی فقہ کے بجائے شی جن پنگ کی تقاریر، پارٹی دستاویزات، قومی سلامتی، حب الوطنی اور سوشلسٹ اقدار پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس سے مذہبی آزادی محدود ہوتی ہے اور مذہبی ادارے عملی طور پر ریاستی نگرانی کے تابع ہو جاتے ہیں۔
تجزیے کے مطابق چین میں مسلمانوں، خاص طور پر سنکیانگ کے اویغوروں اور دیگر مسلم برادریوں پر پہلے ہی سخت نگرانی، مذہبی پابندیوں اور نظریاتی دباؤ کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ایسے میں اسلامی تربیتی نشستوں میں شی جن پنگ کو مرکز میں رکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بیجنگ مذہب کو آزاد سماجی قوت کے بجائے پارٹی کے سیاسی ڈھانچے کے اندر محدود رکھنا چاہتا ہے۔
#China #CCP #XiJinping #Islam
ترکی کی بنگلہ دیش پالیسی پر نئی بحث، 1971 میں پاکستان کی حمایت سے جماعتِ اسلامی تک روابط کا تجزیہ
ڈھاکہ: ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے حوالے سے ترکی کی خارجہ پالیسی گزشتہ پانچ دہائیوں میں نمایاں تبدیلیوں سے گزری ہے، تاہم 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران پاکستان کی حمایت اور حالیہ برسوں میں جماعتِ اسلامی سے تعلقات کے حوالے سے سوالات آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 1971 میں ترکی نے پاکستان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کی تھی اور بنگلہ دیش کو آزادی کے بعد 1974 میں باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں بہتری آئی، لیکن جنگِ آزادی سے متعلق تاریخی حساسیت اور جماعتِ اسلامی کے بعض رہنماؤں کی حمایت کے تاثر نے وقتاً فوقتاً اختلافات کو جنم دیا۔
مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ترکی نے بنگلہ دیش کی بعض مذہبی اور اسلام پسند جماعتوں، خصوصاً جماعتِ اسلامی، کے ساتھ روابط میں دلچسپی دکھائی ہے، جسے بعض مبصرین بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں نرم اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے مختلف حلقوں کی آراء ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ اور 1971 کے تاریخی واقعات آج بھی ملکی سیاست اور خارجہ تعلقات میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مستقبل میں ترکی اور بنگلہ دیش کے تعلقات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک تاریخی حساسیت، باہمی احترام اور مشترکہ اقتصادی و سفارتی مفادات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتے ہیں۔
#Turkey #Bangladesh #JamaatIslami
بھارتی دفاعی برآمدات کا دائرہ وسیع، ‘میڈ اِن انڈیا’ ہتھیار عالمی منڈی میں تیزی سے جگہ بنا رہے ہیں
نئی دہلی: بھارت کی دفاعی برآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ‘میڈ اِن انڈیا’ دفاعی سازوسامان اب ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں کے متعدد ممالک میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کی دفاعی برآمدات میں 56 گنا اضافہ ہوا ہے، جس سے ملک عالمی اسلحہ برآمد کنندگان کی صف میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت نے حالیہ برسوں میں براہموس سپرسونک کروز میزائل سمیت کئی جدید دفاعی نظاموں کی برآمد میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ ویتنام اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی فضائی دفاعی نظام، ریڈار، توپ خانے، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر دفاعی آلات بھی عالمی خریداروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی دفاعی مصنوعات کی جنگی حالات میں مؤثر کارکردگی اور مقامی دفاعی صنعت کی بڑھتی صلاحیت نے عالمی اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم برآمدات کو مزید وسعت دینے کے لیے فروخت کے بعد تکنیکی معاونت، دیکھ بھال اور طویل مدتی لاجسٹک سپورٹ کے مضبوط نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت ایک بڑے دفاعی درآمد کنندہ ملک سے اب دفاعی برآمد کنندہ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ آتم نربھر بھارت مہم، مقامی دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک شراکت داریوں نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے بھارت کی عالمی دفاعی اور سفارتی موجودگی مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
#India #Defense #MakeinIndia
پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ایک سنگین چیلنج، سماجی رویوں اور کمزور نفاذ کو بڑی وجوہات قرار دیا گیا
اسلام آباد: ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اب بھی ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل، تیزاب گردی، جبری شادی اور جنسی تشدد جیسے جرائم کے باوجود متاثرہ خواتین کو انصاف دلانے میں قانونی نظام، کمزور نفاذ اور سماجی دباؤ بڑی رکاوٹیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ مختلف صوبوں میں خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے، مقدمات کے اندراج میں مشکلات، کم شرحِ سزا اور سماجی بدنامی کے خوف کے باعث متعدد متاثرہ خواتین انصاف حاصل نہیں کر پاتیں۔ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال کو پاکستان میں صنفی مساوات کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتی ہیں۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں خواتین پر تیزاب حملوں اور کام کرنے والی خواتین کے خلاف تشدد کے متعدد واقعات نے ملک بھر میں عوامی احتجاج کو جنم دیا۔ ان واقعات کے بعد خواتین کے تحفظ، تیزاب کی فروخت پر سخت ضابطوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائی کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد میں کمی کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ مؤثر نفاذ، فوری انصاف، سماجی رویوں میں تبدیلی، خواتین کی معاشی خودمختاری اور عوامی آگاہی کو بھی یکساں اہمیت دینا ہوگی تاکہ متاثرہ خواتین کو بہتر تحفظ اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔
#Pakistan #ViolenceAgainstWomen
بنگلہ دیش میں مذہبی علامات کی عوامی نمائش پر تشویش، عالمی تشخص متاثر ہونے کے خدشات
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں عوامی مقامات پر عربی خطاطی والے سفید اور سیاہ جھنڈوں کی بڑھتی ہوئی نمائش نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سفارت کاروں، سکیورٹی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ ان جھنڈوں کو مقامی سطح پر مذہبی اظہار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر ان کی ظاہری مماثلت بعض انتہا پسند تنظیموں کی علامات سے ہونے کے باعث بنگلہ دیش کے عالمی تشخص پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 17 جون کے بعد ڈھاکہ کے جاتراباڑی فلائی اوور سمیت مختلف شہروں اور اضلاع میں ایسے جھنڈے نمایاں طور پر آویزاں کیے گئے، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کئی مقامات سے انہیں ہٹا دیا اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جانچا جا رہا ہے کہ آیا یہ سرگرمیاں محض مذہبی اظہار ہیں یا ان کے پیچھے کوئی منظم مقصد کارفرما ہے۔
سابق سفیر منشی فیض احمد، سکیورٹی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) فضل الٰہی اکبر اور دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان جھنڈوں کی نمائش کرنے والوں کا مقصد انتہا پسندی کی ترویج نہیں ہو سکتا، لیکن عالمی میڈیا اور بیرونی مبصرین ان علامات کی مختلف تشریح کر سکتے ہیں، جس سے بنگلہ دیش کی ساکھ، غیر ملکی سرمایہ کاری اور بیرون ملک کام کرنے والے بنگلہ دیشی شہریوں کے مفادات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ بنگلہ دیش کو مذہبی آزادی اور ثقافتی اظہار کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ عوامی سطح پر استعمال ہونے والی علامات عالمی تناظر میں کس طرح دیکھی جاتی ہیں، تاکہ ملک کی بین الاقوامی ساکھ، اقتصادی مفادات اور سماجی ہم آہنگی محفوظ رہ سکے۔
#Bangladesh