ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق کا کہنا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو نو ماہ اس لیے کوکھ میں نہیں رکھتیں کہ آپکے وزیر اعلیٰ، وزیر بلدیات اور مئیر کی نااہلی کی وجہ سے گل پلازہ کا حادثہ ہوجائے اور آپ استعفیٰ مانگنا تو درکنار، سانحے کو حادثہ کہہ کر گزر جائیں۔بلاول بھٹو کے پمز اسپتال کے واقعے کے ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے آسیہ اسحاق نے کہا کہ مائیں اپنے بچوں کو نو ماہ اس لیے بھی کوکھ میں نہیں رکھتیں کہ آپکی وزیر پھوپھی کی نااہلی کی وجہ سے وہ ایڈز میں مبتلاء ہوجائیں اور آپ اپنی پھوپھی کو برطرف کرنا تو درکنار، آپکے منہ سے شرمندگی کا ایک لفظ بھی نہ نکلے۔انہوں نے مزید کہا کہ مائیں اپنے بچوں کو نو ماہ اس لیے بھی کوکھ میں نہیں رکھتیں کہ آپکی وزیر پھوپھی کی نااہلی کی وجہ سے 88 بچے ویکسین موجود نہ ہونے کی وجہ سے خسرہ سے مرجائیں اور آپ کسی سے جواب طلب کرنا تو درکنارسانحے کے ذکر سے بھی گریزاں رہیں۔
#TOKAlert #BilawalBhutto #PIMS
اس حیوان نے آیت نور سے کہا کہ تمہیں تمہارے ابو بلارہے ہیں اور دیکھیں کہ وہ معصوم بچی کیسے دوڑتے ہوئے جارہی ہے ۔
یہ حیوان حسن سدوزئی اسی علاقے میں رہتا تھا اور اسی کی نشاندہی پر بچی کی لاش کنویں سے ملی ۔
یہ اس جرم میں پوری طرح شریک ہے ۔ اس کو صرف بچہ ہونے کی وجہ سے رعایت نہیں ملنی چاہیے بلکہ آیت نور جیسے کیسز میں عام رائج قوانین سے ہٹ کر خصوصی فیصلے ہونے چاہئیں
#JusticeForAyatNoor
اس لڑکے حسن سدوزئی نے آیت نور سے کہا کہ تمہیں تمہارے ابو بلارہے ہیں اور وہ بچی خوشی سے دوڑتے ہوئے اس کیساتھ گئی یہ سوچ کر کہ ابو کے پاس جارہی ہوں ۔
یہ اسی علاقے میں رہتا ہے ۔ اس نے پولیس کو بہت گھمایا پھر ایس ایچ او نے اس کو 2 ہزار روپے دئے اور بہلا پھسلا کر اس سے سچ اگلوالیا اور پھر اس نے اس کنویں کی نشاندہی کردی ۔ جہاں بچی کو پھینکا گیا تھا ۔
یہ اس سارے معاملے میں برابر کا شریک ہے ۔ حکومت کو عدالتوں کو قصور کی زینب کی طرح آیت نور کے کیس کو خصوصی طور پر دیکھنا ہوگا اور فیصلہ عام رائج قوانین سے ہٹ کر خصوصی بنیادوں پر کرنا چاہیے ۔
#JusticeForAyatNoor
جب میری بچی کی چیخیں نکل رہی تھی
اس نے میری بچی کے منہ میں پلاسٹک کی بوتل گھسائی تھی۔۔۔
جس طرح اس نے پلان کر کے سب کیا ہے
پاگل ایسے نہیں کرتے
ہم نے کس چیز کی آزادی منائی ہے؟
ڈیڑھ سال کی بچی یہاں محفوظ نہیں
کس چیز کی آزادی منائی ہے؟
اگر کسی ایک بھی درندے کو سب کے سامنے سزا دی جاتی
تو میری بچی آج زندہ ہوتی۔۔۔
ایزل کی والدہ کی گفتگو۔۔۔
یہ بھی دلچسپ ہے کہ پنجاب حکومت کے قیدی عمران خان جیسی ریلیف مانگنے تو عدالت پہنچ گئے ہیں مگر کسی نے نوازشریف والی ریلیف نہیں مانگی، وہ سہولت صرف نوازشریف کیلئے مختص تھی جو انہیں عدالتی اور حکومتی سہولت کاری سے ملی تھی۔
یہاں کتنے لوگ اولاد کے لئے اللہ سے دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں اور یہیں اسی دنیا میں ننھے بچوں کو کہیں جلا دیا جاتا ہے، کہیں ریپ کرکے مار دیا جاتا ہے تو کہیں ڈرگ دے کر بھکاری بنا دیا جاتا ہے۔ جو بچ جاتے ہیں وہ میر رضا علی بن جاتے ہیں اور قسمت اگر اچھی رہی تو پاکستان سے نکل جاتے ہیں
میں ابھی پمز سے واپس آئی ہوں، وہاں جو صورتحال دیکھی اور کچھ متاثرہ خاندانوں سے بات چیت کی، تو میں آپ سب کو بتانا چاہتی ہوں، کہ یہ ہوئی قدرتی حادثہ نہیں بلکہ کریمنل نیگلیجینس تھی، وہاں سیفٹی کے انتظامات ہی موجود نہیں تھے، مہر بخاری
عمران خان کے بیٹوں نے تاریخی انٹرویو دیا ہے!!
آج تک تاریخ میں ایسا نہیں ہؤا, کہ lord's جیسے گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ جاری ہو, اور چائے کے وقفے میں, عمران خان کے لیے عمران خان کے بیٹوں کی انٹرویو Sky Sports پر نشر کی جارہی ہو!!
پوری دنیا عمران خان کے لیے آواز اٹھا رہے, سوائے پاکستانی کھلاڑیوں کے, آخر ایک انسان کی صحت کا سوال ہے, تم سب اتنے مردہ ضمیر لوگ ہو!!
پمز ہسپتال کی روتی بلکتی مائیں صرف یہ ویڈیو دیکھیں اور حکمرانوں کی ترجیحات ماحظہ کریں کہ
حکمرانوں کے ترجمان جب اس ڈھٹائی سے اربوں روپے ایک جہاز پر غیر ضروری طور پر ضائع کرنے پر اکڑ دکھائیں۔
یہاں دو دن کا بچہ مر رہا ہے یا نوجوان۔ ان سب کی بلا سے۔
Funerals have begun for the 14 babies who were killed in a fire at Islamabad’s Institute of Medical Sciences.
Families have accused hospital staff and emergency services of abandoning the infants.
انگلینڈ کے سابق کپتان پاکستان اور انگلینڈ کے میچ کے دوران عمران خان کی صحت اور ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں۔ہمارے سابق کپتان پینشن کے ڈر سے زبان کھولنے سے ڈرتے ہیں،، وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق، جاوید میانداد، رمیز راجہ سمیت سب کو ڈر ہے کہیں اظہار یکجہتی کرنے پر دہشت کردی کا مقدمہ پی ناں درج ہوجائے
بس صرف ایک قانون بنا دو.... اسمبلیوں میں موجود تمام سیاستدان، تمام سرکاری ملازم، تمام بیوروکریٹ، تمام فوجی اور ان کے گھر والے صرف اور صرف سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروائیں گے.
بریکنگ: جب آپ متاثرین والدین کی تعداد گنتے ہیں تو وہ 14، 15 نہیں ہیں، وہ بہت زیادہ ہیں؟ حامد میر
نرسری میں جب آگ لگی ہے، اس میں صرف 15 بچے جلے نہیں ہیں، 15 کی صرف شناخت ہوئی ہے، سب سے بات کرکے پتہ چلا کہ اس نرسری میں اس وقت 40 سے 50 بچے موجود تھے، رکن قائمہ کمیٹی برائے صحت قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ کا انکشاف
I would suggest PM and his cabinet should have all their tests and treatment at PIMS from now on and their children/grandchildren should only be birthed at PIMS.
No inquiry will ever be needed again, as all certification and SOPs shall be up to the mark.