میں اک دنیا میں ہوں
اور دوسری دنیا کے خواب آتے ہیں آنکھوں میں
ادھوری چاہتیں میری
ادھوری داستاں میری
میرے جذبے ادھورے ہیں
میری خواہش کے پیمانے ادھورے ہیں
محبت کے میرے ہونٹوں پہ افسانے ادھورے ہیں
ادھورے پن کی اک دنیا میرے چاروں طرف ہے
پھر بھی اپنے دل کی سب گہرائیوں کے ساتھ
سنو کہ ہم بے زبان و بے کس
بشیر بھی ہیں نظیر بھی ہیں
ہر اک اولی الامر کو صدا دو
کہ اپنی فرد عمل سنبھالے
اٹھے گا جب جمِ سرفروشاں
پڑیں گے دار و رسن کے لالے
کوئی نہ ہوگا کہ جو بچا لے
جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی
یہیں عذاب و ثواب ہو گا
یہیں پہ روز حساب ہو گا....
فیض
غم زندگی کے فشار میں
میرا سارا وقت نکل گیا
میری بات بیچ میں رہ گئی
مجھے وہم تھا تیرے سامنے
نہیں کھل سکے گی زباں میری
سو حقیقتاً بھی وہی ہوا
میری بات بیچ میں رہ گئی
امجد اسلام امجد
تیرے اردگرد وہ شور تھا ،
میری بات بیج میں رہ گئی
نہ میں کہہ سکا نہ تو سن سکا ،
میری بات بیچ میں رہ گئی
میرے دل کو درد سے بھر گیا
مجھے بے یقیں سا کر گیا
تیرا بات بات پہ ٹوکنا
میری بات بیچ میں رہ گئی
تیرے شہر میں میرے ہمسفر
وہ دکھوں کا جم غفیر تھا
مجھے راستہ نہیں مل سکا 👇
کہیں آنسوؤں کا ہجوم تھا
میری بات بیچ میں رہ گئی
تھا جو شور میری صداؤں کا
میری نیم شب کی دعاؤں کا
ہوا ملتفت جو میرا خدا
میری بات بیچ میں رہ گئی
مری زندگی میں جو لوگ تھے
میرے آس پاس سے اٹھ گئے
میں تو رہ گیا انہیں روکتا
میری بات بیچ میں رہ گئی
تیری بے رخی کے حصار میں
👇
میری بات بیچ میں رہ گئی
وہ جو خواب تھے میرے سامنے
جو سراب تھے میرے سامنے
میں انہی میں ایسے الجھ گیا
میری بات بیچ میں رہ گئی
عجب ایک چپ سی لگی مجھے
اسی ایک پل کے حصار میں
ہوا جس گھڑی تیرا سامنا
میری بات بیچ میں رہ گئی
کہیں بے کنار تھیں خواہشیں
کہیں بےشمار تھیں الجھنیں 👇