“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا ��ھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر د��اؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد ��ور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
I strongly condemn the treatment being meted out to sisters of @ImranKhanPTI.
It is shameful indeed. They have not allowed the family to meet him and no calls even with his sons. Only selective information goes in, but I am still proud of my leader, that despite all these cruel shenanigans he has stayed steadfast to his vision, not yielding an inch to these cruel usurpers of power.
The people of Pakistan will prevail انشاللہ
Former Prime Minister Imran Khan’s Message from Adiala Jail - April 2, 2025
"I extend belated Eid greetings to all my fellow countrymen.
I have unwavering faith in God. No tool of oppression can break me. The darkness that has engulfed this nation will soon come to an end, and our struggle will bear fruit. I have complete faith in God that I will emerge victorious, and by His will, I shall celebrate the next Eid with my people.
My struggle is not for personal gain; everything I do is solely for the welfare of my nation. I fear no one but God. I never have nor will I ever, under any circumstances bow before anyone but God. I will not compromise on my ideology and will fight for my people until my very last breath.
The puppet government is making every effort to keep me imprisoned because they are concerned about their grip on power. They know that their illegitimate rule will collapse the day I walk free from prison. That is why they are relentlessly trying to break me.
I am not even allowed to hold political meetings, because they fear that we will formulate our political strategy and that threatens their hold on power.
I have only been allowed to speak to my children twice in the past seven months, and for several weeks now I have been denied communication with them once again. I was supposed to speak to my children on Eid, but even that was not permitted. My access to books has also been blocked. Despite my repeated requests, my personal physician, Dr. Faisal, has not been allowed to examine me. All of this is being carried out in blatant violation of court orders. However, there is no one left to hold them accountable since the judiciary has also been seized following the 26th constitutional amendment."
“میری طرف سے تمام اہل وطن کو گزشتہ عید مبارک ۔
میرا اللہ کی ذات پر کامل ایمان ہے۔ ظلمت کا کوئی بھی حربہ مجھے توڑ نہیں سکتا۔ اس ملک پر چھائے اندھیرے بہت جلد اختتام پذیر ہوں گے اور ہماری جدوجہد رنگ لائے گی۔ مجھے اللّہ پر پورا یقین ہے کہ میں سرخرو ہو کر باہر آؤں گا اور آئندہ عید انشاءاللہ اپنی قوم کے ساتھ کروں گا۔
میں اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کر رہا یہ جو کچھ کر رہا ہوں صرف اپنی قوم کی فلاح کی خاطر کر رہا ہوں۔ اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں۔ میں نہ پہلے کسی کے سامنے جھکا ہوں اور نہ اب کسی صورت جھکوں گا۔ میں اپنے نظریے پر کوئی سمجھوتا نہیں کروں گا اور اپنی قوم کی جنگ آخری دم تک لڑوں گا۔
اردلی حکومت کی مکمل کوشش ہے کہ مجھے قید میں رکھا جائے کیونکہ ان کو اپنے اقتدار کی فکر ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جس دن میں جیل سے باہر آ گیا ان کا جعلی اقتدار زمین بوس ہو جائے گا۔ اسی لیے یہ مسلسل مجھے توڑنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
میری سیاسی ملاقاتیں بھی نہیں کروائی جاتیں کیونکہ ان کو یہ خوف ہے کہ سیاسی ملاقات میں ہم اپنا لائحہ عمل دیں گے اور اس سے ان کو اپنی کرسیوں کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
میرے بچوں سے سات ماہ میں صرف دو بار بات کروائی گئی ہے اور اب دوبارہ کئی ہفتوں سے بات نہیں کروائی جا رہی۔ عید پر میری بچوں سے بات کروانی تھی مگر وہ بھی نہیں کروائی گئی۔ میری کتابیں تک روک لی گئی ہیں۔ میرے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل کو میری بارہا درخواست کے باوجود میرے معائنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یہ سب بار بار عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر کے کیا جا رہا ہے لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں پر بھی قبضہ ہو چکا ہے اس لیے کوئی پوچھنے والا نہیں-“
سابق وزیراعظم عمران خان
“پاکستان کے تمام مسائل حقیقی عوامی نمائندوں کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں- ملک کو 1971 کی طرح توڑنے کی بجائے جوڑئیے!!
بلوچستان پر بھی اس وقت ایک جعلی حکومت مسط ہے، وہ کیسے مسائل کا حل کر سکتی ہے؟ مجھے بطور پاکستانی اور سابق وزیراعظم بلوچستان کے حالات پر شدید تشویش ہے۔ دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، پرامن احتجا�� کرنے والے نہتے لوگوں پر گولیاں چلانے، تشدد اور گرفتار کرنے پر بہت افسوس ہے- ریاست کا فرض ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کی آواز کو سنے اور ان کے مسائل کو حل کرے۔ جب تک وہاں کے حقیقی نمائندگان کو ساتھ نہیں بٹھایا جائے گا، ان کے مسائل نہیں سنے جائیں گے اور وہاں کی عوام کی منشاء کو مدنظر رکھ کر فیصلے نہیں کیے جائیں گے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ڈنڈے کے زور سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ بگڑتے جاتے ہیں۔
فارم 47 کے ذریعے مسلط کی گئی اردلی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے۔ ان کی خارجہ پالیسی ناقص ترین ہے۔ آپ افغانستان کے ساتھ بات چیت کر کے دہشتگردی پر قابو پانے کی طرف بڑھ سکتے ہی��- افغانستان کے ساتھ ہماری 2200 کلومیٹر کی سرحد ہے۔ ان کے ساتھ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے پر امن طریقے سے حل کرنا چاہیے۔ہماری حکومت میں افغانستان سے جا کر بات کی گئی، حالانکہ اس وقت کی افغان حکومت کے پاکستان سے اچھے تعلقات بھی نہیں تھے- ہم نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور میں افغانستان کے ساتھ جو پالیسی اپنائی تھی اس کی بدولت ملک میں دہشتگردی بالکل صفر ہو گئی تھی۔ ��مارے بعد جوبائیڈن پالیسی اپنانے سے کئی مسائل نے جنم لیا جس کا خمیازہ آج دہشتگردی کی صورت میں عوام بھگت رہی ہے ۔ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نہ پی ڈی ایم دور میں اور نہ ہی اب ایک دفعہ بھی وزیر خارجہ نے افغانستان کا دورہ کیا اور نہ کوئی مناسب سفارتی کوششیں کی گئیں-
چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا نظام مکمل طور پر تباہی کا شکار ہو چکا ہے- 9 مئی کے جھوٹے مقدمات میں میری ضمانت قبل از گرفتاری کا کیس کئی ماہ کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے بینچ نے سننا تھا مگر وہ بینچ ہی ٹوٹ گیا تاکہ ان کیسز کو مزید کھینچا جا سکے۔ توشہ خانہ کا مقدمہ، جس میں جیل ٹرائل ہو رہا ہے، اس کی سماعت بغیر کوئی وجہ بتائے روک دی گئی ہے۔ اس سے پہلے القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کو صرف اس لیے لٹکایا گیا تاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کورٹ پیکنگ کے عمل کے ذریعے جو من پسند ججز لائے جائیں گے ان کے سامنے میرا مقدمہ لگایا جائے۔ بہت دشواری کے بعد ہمارا کیس وہاں لگا مگر آج ہماری اپیل پر اعتراضات دائر کر کے اسے عید کے بعد تک ��لتوی کر دیا گیا ہے۔ اس سب سے واضح ہے کہ اردلی حکومت کا مقصد مجھے ہر حال میں جیل میں رکھنا ہے کیونکہ جب بھی میرے مقدمات کو میرٹ پر سنا جاتا ہے وہ زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ یہ سب ایک فکس میچ ہے جو کہ ایک منظم منصوبے کے تحت کھیلا جا رہا ہے-
اداروں کا فوکس اپنے کام اور دہشتگردی روکنے کی بجائے تحریک انصاف پر کریک ڈاؤن کرنے اور میڈیا، جیلیں اور عدالتیں کنٹرول کرنے پر ہے- اڈیالہ جیل ایک کرنل کنٹرول کر رہا ہے- کسی کرنل کو کیا اختیار ہے کہ وہ جیل میں بیٹھے اور جیل کنٹرول کرے؟ اس ہفتے میری بہنوں سے بھی ملاقات نہیں ہونے دی گئی- مختلف عدالتی احکامات کے باوجود نہ دوستوں سے ملاقات ہونے دی جاتی ہے، نہ بچوں سے فون پر بات، نہ ڈائری کی رسائی اور نہ ہی کتابوں کی رسائی ہونے دی جاتی ہے- سیاسی رفقأ سے 6 ماہ میں صرف ایک دن ملاقات ہونے دی گئی وہ بھی مقررہ وقت اور دن پر نہیں-کبھی کوئی پابندی لگائی جاتی ہے کبھی کوئی-
یہ چاہے جتنا زور لگا لیں، میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان، 25 مارچ 2025
An Important Message by Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - March 11, 2025
"Terrorism has once again taken root in the country. During our tenure, Pakistan had successfully curbed terrorism and was progressing towards promoting tourism. Our ranking in the Global Terrorism Index had improved by four places. However, the regime change reversed this progress, and unfortunately, Pakistan has once again become the second worst-affected country in the Global Terrorism Index.
Pakistan’s foreign policy is being handled in the worst possible manner, just like its internal affairs. Our border with Afghanistan is extensive, and matters with them should be resolved through dialogue. Peace in the country will remain elusive unless our foreign policy with neighboring countries is independent and sovereign. Military operations are never the solution to problems — even major wars have been resolved through negotiations and efforts for peace and stability.
The primary role of intelligence agencies is to protect borders and counter terrorism. If they remain occupied with political engineering and attempting to dismantle Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), then who will safeguard the borders? Terrorism is spreading in Balochistan, yet no political solution is being sought for the issue. Stability will not be possible until a government based on public trust is established across the country, including in Balochistan.
Governance across the country is in a dire state because, instead of genuine public representatives, those who were imposed through Form 47 are in control. Khyber Pakhtunkhwa is the only province where an elected government having real public mandate exists, and due to its representation of the people’s aspirations, its performance surpasses that of all other provinces. The province’s annual performance report is exemplary, and Chief Minister Ali Amin Gandapur is doing an excellent job.
Adiala Jail currently operates above the law. It is my legal and fundamental right to meet my wife regularly, but contrary to the jail manual, I am not being allowed to meet my wife for 72 hours within 90 days, which is my fundamental and legal right. Despite court orders, I have not been permitted to speak with my children for the past two weeks. I was allowed to speak with them only four times in the last four months. Even my books are not being delivered to me. All of this constitutes a grave violation of basic human rights, legal norms, and the jail manual. At present, Pakistan is being run in accordance with the law of 'might is right'."
No matter what they do, I will neither bow before their fascism nor will I surrender. I have always stood for Pakistan’s genuine sovereignty just as I stand for it now, and will continue to do so. Even if I have to spend my entire life in prison, I will, God willing, strive for the sovereignty of my nation until my very last breath." 2/2
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with his Lawyers and Family Members in Adiala Jail - March 19, 2025
"The scourge of terrorism in the country is out of control. The tragic incident of the Jafar Express is deeply saddening and condemnable. Such organized terrorist attacks raise serious questions about any country’s security. No one can feel the pain of losing precious military and civilian lives to terrorism as profoundly as we do, because PTI is the only political party with majority support across all provinces. Unfortunately, all agencies are focused on eliminating PTI instead of preventing terrorism.
PTI’s decision to boycott the National Security Committee meeting is absolutely justified. I was neither invited to the meeting nor was my opinion sought, and even the representatives of Balochistan were excluded. They would have first consulted with members of my party if they genuinely intended to address this issue. PTI is currently the only political party in Pakistan with support across all federal units, whereas PPP and PML-N are confined to specific regions of Sindh and Punjab. How can national consensus be achieved while excluding the leader of the country’s largest political party and the true symbol of the federation?
The subservient [to the military establishment] government’s foreign and domestic policies are proving to be disastrous for the country. The issue of terrorism can only be resolved through a political solution that aligns with the people’s will. Terrorism cannot be eradicated solely through kinetic military operations. Our foreign policy regarding neighboring countries must be independent and sovereign. Issues with Afghanistan should also be resolved through dialogue. Since the regime change, their lack of seriousness is evident from the fact that Bilawal toured the entire world but did not visit Afghanistan even once. Military operations have never been the solution— even major wars have ultimately ended through negotiations and sincere efforts for peace and stability.
The country can only remain united and strong if the public mandate is respected, political parties are allowed to function freely, and the establishment refrains from interfering in politics. In 1971, a political party was sidelined, and history has not forgotten what followed. The country would not have been divided back then had fair opportunities been given to political parties. Today, once again, the people’s voices are being suppressed, and political parties representing them are being strangled. The same oppressive model has been imposed in Balochistan, which is why the situation there has spiraled out of control. Until representative governments of the people are given power, these issues will persist and worsen.
The imposed regime is using all unlawful tactics to pressure me. My wife has been unjustly imprisoned. Yahya Khan did not jail Mujibur Rahman’s wife, neither did General Zia imprison Bhutto’s wife, nor did Musharraf incarcerate Kulsoom Nawaz. But this establishment has reached the lowest level of moral decline by imprisoning my wife in fabricated cases.
My communication has been severely restricted for nearly a week. To keep me uninformed about current affairs, television access has been banned, and newspapers and books are not being delivered. I have been denied contact with my children. Despite repeated reminders, the standard provision of a 72-hour meeting within 90 days with my wife has not been granted. My personal doctor is not allowed to meet me, nor is my dentist. My party leaders have also been barred from visiting me. I have been kept in complete isolation to prevent me from learning about the All Parties Conference (APC). 1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو:
“ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے- اس قسم کی منظم دہشتگردانہ کاروائیاں کسی بھی ملک کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات میں فوجی اور سویلینز کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا جتنا دکھ ہمیں ہے کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ تحریکِ انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام صوبوں کی اکثریت جڑی ہے- افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام ایجینسی��ں دہشتگردی کی روک تھام کی بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنے پر لگائی ہوئی ہیں-
تحریک انصاف کی جانب سے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس اجلاس میں نہ مجھے بلایا گیا، نہ میری رائے لی گئی اور نہ ہی بلوچستان کے نمائندوں کو بلایا گیا- ان کی نیت اس معاملے میں صاف ہوتی تو میری جماعت کے ارکان کو سب سے پہلے مجھ سے مشاورت کرنے کی اجازت دیتے۔ اس وقت تحریک انصاف پاکستان کی واحد جماعت ہے جس کی سپورٹ تمام وفاقی اکائیوں میں موجود ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون ��یگ سندھ اور پنجاب کے چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں- ملک کی سب سے بڑی جماعت اور فیڈریشن کی علامت واحد سیاسی پارٹی کے سربراہ کو باہر رکھ کر کون سا اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اردلی حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسیاں ملک کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف تب حل ہو گا جب اس کا سیاسی حل دریافت کیا جائے گا اور لوگوں کی منشاء کے مطابق ان کے فیصلے ہوں گے۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف فوجی حکمت عملی (Kinetic Operations)سے حل نہیں ہو سکتا۔ ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار ہونی چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات بھی بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ رجیم چینج کے بعد ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بلاول نے پوری دنیا کے دورے کیے لیکن ایک بار بھی افغانستان نہیں گیا- فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
ملک صرف تب ہی متحد اور مضبوط رہ سکتا ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، سیاسی جماعتوں کو ان کی جگہ دی جائے اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت سے باز رہے۔ اکہتر میں بھی ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا پھر جو ہوا وہ تاریخ بھلا نہیں پائی-تب بھی اگر سیاسی جماعتوں کو متوازن مواقع ملتے تو ملک دو لخت نہ ہوتا۔ آج بھی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں یہی ماڈل نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے آج وہاں کے حالات بے قابو ہیں۔ جب تک عوام کی نمائندہ حکومتوں کو اقتدار منتقل نہیں کیا جائے گا یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔
اردلی حکومت مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے تمام غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال ��ر رہی ہے۔ میری اہلیہ کو بے جا جیل میں ڈالا گیا ہے۔ نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔
پچھلے قریباً ایک ہفتے سے میری مواصلات کے ذرائع تک رسائی پر کڑی بندش ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد ہے اور اخبار اور کتابوں کی ترسیل بھی معطل ہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی گئی۔ بار بار یاددہانی کے باوجود مروّجہ طریقے کے مطابق 90 دنوں میں میری اہلیہ سے 72 گھنٹے کی ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ میرے ذاتی معالج کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی نہ ہی ڈینٹسٹ کو ملوایا جا رہا ہے۔ میرے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔ مجھے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا تا کہ اے پی سی کے بارے میں مجھے علم نہ ہو سکے۔
یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے ��ہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام:
“ملک میں اس وقت دہشتگردی اپنے قدم دوبارہ جما چکی ہے۔ ہمارے دور میں ملک دہشتگردی پر قابو پا کر سیاحت کے فروغ کی جانب گامزن ہو چکا تھا اور “گلوبل ٹیررازم انڈکس” میں پاکستان کی رینکنگ چار درجے بہتر ہوئی تھی- لیکن رجیم چینج نے اس سارے عمل کو بھی ریورس گئیر لگا دیا اور اب بدقسمتی سے ہم گلوبل ٹیررازم انڈکس میں دوبارہ دنیا کا دوسرا بدترین ملک بن گئے ہیں۔
اندرونی معاملات کی طرح اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی بدترین طریقے سے چلائی جا رہی ہے- افغانستان کے ساتھ ہماری سرحد بہت لمبی ہے ان کے ساتھ معاملات بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ جب تک ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار نہیں ہو گی ملک میں امن نہیں آ سکتا۔ فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟ بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، استحکام ممکن نہیں ہے-
ملک بھر میں گورننس کا برا حال ہے کیونکہ ہر جگہ عوام کے حقیقی نمائندگان کے بجائے فارم 47 والوں کا قبضہ ہے۔ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں عوامی حکومت موجود ہے اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کے باعث پختونخواہ کی کارکردگی تمام صوبوں سے بہتر ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بہترین ہے۔ علی امین گنڈاپور بطور وزیراعلٰی بہت اچھا کام کر رہے ہیں-
اڈیالہ جیل اس وقت قانون سے بالاتر ہے۔ جیل مینول کے برخلاف میری اپنی اہلیہ سے 90 دن میں 72 گھنٹے ملاقات نہیں کروائی جا رہی جو کہ میرا بنیادی اور قانونی ح�� ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود دو ہفتوں سے میرے بچوں سے بھی بات نہیں کروانے دی جا رہی۔ پچھلے چار ماہ میں صرف چار بار بات کروائی گئی- یہاں تک کہ میری کتابیں مجھ تک پہنچنے نہیں دی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ بنیادی انسانی حقوق ، قانون اور جیل مینول کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں اس وقت صرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء ٹیم سے گفتگو:
“جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ��ھماکے کے نتیجے میں مولانا حامد الحق سمیت ساتھیوں کی افسوسناک شہادت کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔ اللہ پاک شہداء کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین
پاکستان میں رجیم چینج کے بعد سے دہشتگردی کا ناسور مکمل طور پر بے قابو ہو چکا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دھماکے اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کی عوام نے دہشتگردی کے خلاف بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ گھر گھر جنازے اٹھائے گئے ہیں۔ ابھی امن قائم ہوئے کچھ عرصہ ہی ہوا تھا کہ ناقص پالیسیوں کی بدولت ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے۔
پاکستان کی عوام اب کسی پرا��ی جنگ کا ایندھن بننے کو تیار نہیں ہے۔ اس حوالے سے خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں امن مارچ کا انعقاد ہوا جس کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ جب عوام خود اپنے حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑنا سیکھ لے گی امن تب ہی ہمارا مقدر بنے گا۔
اس کے علاوہ ایک اہم مسئلہ پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں پانی کی تقسیم کا بھی ہے اور اس کا حل ہونا ناگزیر ہے۔ سندھ اس وقت خشک سالی سے گزر رہا ہے اور وہاں کی عوام اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں جس کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کے زرعی مستبقل کی حفاظت کے لیے اہم ہے کہ تمام صوبوں کو ان کے حصے کا پانی ملے۔ ہم سندھ کے عوام کے حقیقی نمائندگان کی رضامندی کے بغیر نئی نہروں کے منصوبے کے اجرا پر سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم سندھ کے حقوق کا ہر سطح پر دفاع کریں گے۔ آبی وسائل کی تقسیم تمام صوبوں کی باہمی رضامندی کے تابع ہے۔
جب تک تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں واپس نہیں جاتے اور ایک عوامی حمایت والی حکومت نہیں آتی تب تک ملک روز بروز نئے بحرانوں کا شکار ہوتا رہے گا- ایس آئی ایف سی ایک غیر آئینی ادارہ ہے جس کا مقصد غیرملکی سرمایہ کاری لانا بتایا گیا تھا- اب تک کوئی سرمایہ کاری تو نہیں ہوئی لیکن اس کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں کو فوجی کنٹرول میں دے دیا گیا ہے جس سے پہلے سے تنزلی کا شکار ریاستی نظام مزید تباہ و برباد ہو گیا ہے- اب مزید آگے بڑھتے ہوئے کسانوں اور نہروں کا مسئلہ بھی کھڑا کر دیا ہے-“
"The politically motivated charges against me are nothing more than an attempt to silence my fight for democracy. But this struggle is not about me alone. The erosion of democracy in Pakistan has far-reaching consequences," Imran Khan writes from prison https://t.co/1dMq1lTMCv
"The world must recognize the urgency of this crisis—not just for Pakistan’s future, but for the stability of South Asia and beyond.
The suppression of democratic voices in a country as pivotal to regional and indeed global security as Pakistan sets a dangerous precedent, one that should concern all who believe in free and fair governance."
Former Prime Minister Imran Khan's article in @TIME highlighting the pressing need for the world to pay attention to Pakistan.
Read full article by clicking the link or by scanning the QR
���️
https://t.co/5Ry1qndjtP
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Lawyers at Adiala Jail - February 25, 2025
“We will fight until the very end for the genuine freedom of our country.
Adiala Jail is being unlawfully controlled by a Colonel, which is entirely illegal. According to the jail manual, the jail authorities should be in charge, yet this Colonel disregards the law and has taken complete control. Despite being permitted by prison regulations, my meetings with my wife have been repeatedly obstructed. This is the third time that I have been denied a meeting with Bushra Bibi. Even though there are court orders, I am not allowed to meet her. I am also prevented from meeting political figures. People travel great distances to see me, yet they are forced to wait for hours and ultimately denied permission. Even my books are being withheld. The purpose of all these actions is to increase pressure on me and my wife, but we will not break!
Our petitions regarding human rights violations are still pending in the Lahore High Court before Justice Baqar Najafi, the Islamabad High Court, and the Supreme Court, yet no hearings have taken place. The sanctity of homes and personal privacy is being violated, and unlawful raids are being carried out. We are not even allowed to hold a rally or a convention. The Constitution grants us the right to assemble, yet our constitutional rights are being taken away. Human rights are being trampled upon across the country, and we are living in an era of utter despondency.
Pakistan has long been recognized internationally due to its cricketing prowess, but now, even this sector is being destroyed because of the appointment of favored individuals. What credibility does Mohsin Naqvi have besides being a pawn of the establishment? He has wreaked havoc on cricket. The entire cricket system functions under the chairman’s supervision, yet Mohsin Naqvi has no experience in this field. It is essential for a bowler to play Test cricket to build stamina, but selections are now being made of players who have never played a single Test match. When I was Prime Minister, I appointed Ramiz Raja as Chairman—an experienced cricketer.
When Mohsin Naqvi was first appointed as the caretaker Chief Minister, his tenure was marked with unprecedented human rights violations. On February 8th (2024), the largest electoral fraud in the country's history occurred under his supervision, where he oversaw electoral manipulation in Punjab. Now, as Interior Minister, the law-and-order situation in Pakistan has worsened. He has failed in every domain. Mohsin Naqvi considers Asif Zardari his role model — the same Asif Zardari who is known worldwide as "Mr. Ten Percent". What kind of performance can be expected from someone who idolizes him?
Only the party officials appointed by me to do so are authorized to issue party policy statements.
Party discipline is of utmost importance. The battle is against external adversaries, but speaking against our own members and diverting attention from the real issues only serves the agenda of other parties. Sher Afzal Marwat did not refrain from making controversial statements despite my repeated warnings, which is why he has been expelled from the party.”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو:
“اس ملک کی حقیقی آزادی کی خاطر ہم آخر تک لڑیں گے۔
اڈیالہ جیل کو ایک کرنل غیر قانونی طور پر کنٹرول کیے ہوئے ہے جو بالکل غیر قانونی ہے۔ جیل مینول کے مطابق جیل اتھارٹی انچارج ہے لیکن کرنل قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے سب کچھ قابو کیے ہوئے ہے۔ میری اہلیہ سے میری ملاقات جیل مینول میں اجازت کے باوجود بار بار رکوائی جا رہی ہے۔ یہ تیسری دفعہ ہے کہ میری ملاقات بشری بی بی سے نہیں کروائی گئی۔ عدالت کے احکامات کے باوجود مجھے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔میری سیاسی لوگوں سے بھی ملاقات نہیں کروائی جاتی، دور دراز سے لوگ مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں ان کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن ان کو اجازت نہیں دی جاتی۔ میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ کرنے کا مقصد مجھ پر اور میری اہلیہ پر دباؤ بڑھانا ہے لیکن ہم ٹوٹنے والے نہیں ہیں!!
انسانی حقوق سے متعلق ہماری پٹیشنز ابھی تک لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس باقر نجفی، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں جن پر اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ملک میں چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہے، غیر قانونی چھاپے مارے جا رہے ہیں ہمیں ایک جلسہ یا کنونشن تک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آئین ہمیں یہ حق دیتا ہے کہ ہم جلسے کریں لیکن ہم سے ہمارے آئینی حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ ملک میں ہر طرف انسانی حقوق پامال ہیں اور اندھیروں کا دور دورہ ہے۔
پاکستان کو کرکٹ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملتی آئی ہے مگر اب اس شعبے کی بھی منظور نظر افراد کی بھرتیاں کر کے تباہی کر دی گئی ہے۔ محسن نقوی کی ساکھ کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ ہے۔ اس نے کرکٹ کی تباہی کر دی ہے۔ کرکٹ کے حوالے سے پورا نظام چیئرمین کے زیر سایہ ہوتا ہے، محسن نقوی کے پاس کرکٹ کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں ہے۔ کسی بھی باؤلر کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلتا ہو تاکہ اس میں stamina موجود ہو مگر یہاں ٹیم میں ایسی سلیکشن کی گئی ہے جس میں کھلاڑیوں نے ایک ٹیسٹ میچ تک نہیں کھیلا۔ جب میں وزیراعظم تھا تو رمیز راجہ کو چیئرمین بنایا تھا جو کرکٹ کا کھلاڑی اور تجربہ کار تھا۔
محسن نقوی کو پہلے نگران وزیراعلٰی لگایا گیا اس کے دور میں جس طرح انسانی حقوق کی پامالی ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ آٹھ فروری کو ملک کا سب ��ے بڑا فراڈ ہوا تب بھی یہی نگران وزیراعلٰی تھا اور اس کی سرپرستی میں پنجاب میں انتخابی فراڈ ہوا۔ اب یہ وزیر داخلہ ہے اور پاکستان میں امن و امان کے حالات خراب ہیں یہ شخص ہر شعبے میں ناکام ہے۔ محسن نقوی آصف زرداری کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے وہی آصف زرداری جس کے مسٹر ٹین پرسنٹ کے قصے پوری دنیا میں مشہور ہیں جس شخص کا آئیڈیل آصف زرداری جیسا شخص ہو اس کی کارکردگی کیا ہی ہو سکتی ہے۔
میرے مقرر کردہ پارٹی عہدیداران ہی پارٹی پالیسی دینے کے مجاز ہیں-
پارٹی ڈسپلن کی بہت اہمیت ہے- جنگ باہر والوں کے خلاف ہوتی ہے اپنے لوگوں کے خلاف بات کر کے اور اصل موضوعات سے توجہ ہٹا کر دوسری جماعتوں کا ایجنڈا پروان چڑھتا ہے۔ میرے بار بار منع کرنے کے باوجود شیر افضل مروت بیانات دینے سے نہیں رکا اسی لیے اس کو پارٹی سے نکالا گیا ہے”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Lawyers and Media:
15 February 2025
"After the holy month of Ramadan, we will formulate a strategy in collaboration with all opposition parties and launch a nationwide protest movement. To this end, I have directed my negotiation committee to expedite communications. We will invite individuals from all sectors of Pakistan — including lawyers, farmers, laborers, scholars, and students — to participate in this protest and take to the streets to reclaim their rights. This protest will be for the restoration of democracy and the Constitution, and for our genuine freedom and sovereignty.
It is the duty of any judge to refrain from passing judgments or making remarks until both sides have been heard, as judicial comments and rulings influence not only the immediate cases but also future ones. Judicial ethics demand that a judge should exercise restraint when making remarks during hearings. Justice Musarrat Hilali should have considered both perspectives before making unilateral comments on the May 9th (2023) incident. No independent commission has been formed, nor have judicial inquiries been conducted regarding this incident. The police and intelligence agencies have not presented any evidence in court to support the cases they have registered concerning May 9th. Even CCTV footage of the incident is missing. The Supreme Court has already declared my arrest from the Islamabad High Court illegal.
We were the victims of oppression on May 9th. Our workers were martyred, yet we were held responsible and persecuted. The mothers and sisters of our nation were dragged through the streets that day in an absolutely disgraceful manner. The events of May 9th were a premeditated and an orchestrated false-flag operation, and no rational individual should have any doubt about this.
On that day, I was unlawfully and disrespectfully taken into custody by paramilitary Rangers from within the premises of the Islamabad High Court without a warrant, as part of a pre-planned scheme to provoke public outrage. Then, infiltrators were planted within our peaceful protests to turn them into a false-flag operation. Even before May 9th, lists of 10,000 of our workers had already been prepared, and within days, they were arrested. Under the pretense of May 9th, immense oppression and fascism were unleashed upon the people of Pakistan. Our people were martyred and injured, thousands were illegally detained in raids, forcibly disappeared, and handed over into military custody where they were subjected to torture. Many of our leaders and workers remain wrongfully incarcerated to this day. The real objective of May 9th was to crush Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), and this campaign continues. Under the guise of a fabricated narrative about May 9th, people’s fundamental rights have been stripped away, depriving them of their right to live. In our country's history, only during the fall of Dhaka had a political party been treated in such a manner, where even the dignity and innocence of women and children was violated.
Despite our repeated demands, no judicial commission has been formed to investigate the events of May 9th and November 26th (2024). The truth would have been revealed to the public if such a commission had been established. The purpose of a judicial commission is to conduct transparent investigations into disputed matters and determine the real culprits, based on facts. We also demanded the retrieval of CCTV footage related to the May 9th incidents. We have approached every court regarding human rights violations. A bench of the Lahore High Court, headed by Justice Baqar Najafi, heard our petition, but its decision has been ‘reserved’ for over a year and a half. From Aamer Farooq to Qazi Faez Isa and now Yahya Afridi and the constitutional bench, no one heard our human rights petitions. 1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام
مورخہ 8 اگست 2024
۱۔
۷ مئی کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ۹ مئی پر ہمیں معافی نہیں دیں گے۔ ہمارا موقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے کہ معافی مظلوم نہیں، ظالم مانگتا ہے۔ ۹ مئی کو عدالت کے شیشے توڑ کر مجھے اغوا کیا گیا جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام قرار دیا ہے- ہمارے درجنوں کارکنان کو شہید، سینکڑوں کو اغواء اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا، گھروں کے تقدس کو پامال کیا گیا اور صرف سیاسی وابستگی کے جرم میں لوگوں کے کاروبار تباہ کر دئیے گئے۔ اس فسطائیت کے تناظر میں معافی تو مجھ سے اور تحریک انصاف سے مانگنی چاہیے-
۲-
میرے بیان کو بلا سیاق و سباق چلایا جا رہا ہے۔ حالانکہ میرا موقف شروع سے وہی ہے کہ ۹ مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا، جس میں جرم کو چھپانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کر دی گئی۔ میرا مطالبہ اب بھی وہی ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو منظر عام پر لایا جائے اور اس کی روشنی میں شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد جو بطور تحریک انصاف کی نمائندہ ۹ مئی کو کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود تھیں، انہیں متعدد ویڈیوز میں کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایات دیتے سنا جا سکتا ہے- یہ ثابت کرتا ہے کہ ۹ مئی کو ہماری جماعت کا کوئی رہنما توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں شامل نہیں تھا- میری طرف سے میری جماعت اور کارکنان کو ہمیشہ ایک ہی ہدایت ہوتی ہے کہ پاکستان میں جہاں بھی احتجاج کریں پر امن احتجاج کریں۔ کنٹونمنٹ کا علاقہ ہو یا جی ایچ کیو ، ہمیں پاکستان کا آئین یہ حق دیتا ہے کہ ملک میں جب بھی ظلم ہو آپ کہیں بھی جا کر پر امن احتجاج کر سکتے ہیں - اگر شفاف تحقیقات کے نتیجے میں تحریک انصاف سے وابستگی رکھنے والا کوئی رہنما جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں ملوث قرار پایا گیا تو اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔
۳-
جیل میں بیٹھ کر پیشگوئی کر رہا ہوں کہ حکومت کے پاس 2 ماہ سے زیادہ وقت نہیں۔ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے نام ای سی ایل میں ڈالیں، یہ بھاگ نہ جائیں۔ کیسز بنائیں یا جیل میں رکھیں، میں ڈیل کرنے کو تیار نہیں؛ ڈیل وہ کرتا ہے جس نے کوئی جرم کیا ہو-میرا کوئی پیسہ باہر نہیں پڑا نہ کوئی جائیداد،میں نے سارے کیسز لڑے ہیں، مزید بھی لڑوں گا،مجھ پر اور میری اہلیہ پر کیسز کرنے کا مقصد پی ٹی آئی کو توڑنا تھا۔
۴-
مذاکرات کی خواہش کو کمزوری سے تعبیر نہ کیا جائے۔ میرے لیے میرا ملک پاکستان مقدم ہے اور اسی کے سیاسی و معاشی مفاد کے لیے میں کشیدگی میں کمی کا حامی ہوں۔ مذاکرات مشروط اور اصل فیصلہ سازوں سے ہی ہونگے۔ حکومت میں موجود ریلو کٹے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے ملکی مفاد کو داؤ پر لگانا چاہتے ہیں۔ یہ ریلو کٹے فوج کو ورغلاتے ہیں کہ تحریک انصاف کو ختم کر دو۔ کیا ۹۰% عوام کی نمائندہ جماعت کو ختم کرنا ممکن ہے؟ جو بھی یہ خواب دیکھ رہا ہے، اسے تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔
۵-
جس طرح مغربی عدالتوں نے اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کی کھلی اجازت دی ہوئی ہےاسی طرح قاضی فائز عیسٰی نے ریاست کے ساتھ ہم پر ظلم کرنے میں مکمل شراکت داری کی ہے اور ان کا اس ظلم اور فسطائیت میں پورا پورا ساتھ دیا ہے- اسی تعصب اور انصاف کی عدم فراہمی کی بنیاد پر ہم نے کافی عرصے سے قاضی فائز عیسٰی کی میرے مقدمات سے علیحدگی کی درخواست دے رکھی ہے۔ آٹھ فروری کے انتخابات میں بھی ہماری پارٹی سے بلے کا نشان چھین کر قاضی فائز نے جس طرح پی ڈی ایم اور الیکشن کمیشن کی سہولت کاری کی ہے وہ سب کے سامنے ہے-
1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام تی��را کھلا خط:
میں اپنی ذات کے لیے کوئی ڈیل یا اپنی جماعت کے لیے کسی سے کوئی رعایت ��ہیں مانگ رہا- بطور سابق وزیراعظم اور محب وطن پاکستانی مجھے صرف اپنی فوج کی ساکھ کی بحالی اور وطن عزیز کا مفاد مقصود ہے۔ اس امر کے باوجود کہ فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اورروزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے باعث عوام اور فوج کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے۔
میں آئی ایس پی آر سے کہتا ہوں کہ جھوٹا بیانیہ نہ دیا کریں۔ بار بار یہ کہنا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی، قوم کی عقل کی توہین ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں کوئی چیز نہیں چھپ سکتی، ملک کا بچہ بچہ واقف ہے کہ آرمی چیف ہی اس ملک کا نظام چلاتے ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی ہو یا اراکین پارلیمینٹ کی خرید و فروخت، عدلیہ کی تباہی ہو یا عوامی رائے دہی پر قدغن کے کالے قانون، ناصرف ہماری باشعور قوم بلکہ عالمی برادری کو بھی معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون سے "نامعلوم” ہاتھ کارفرما ہیں۔ لہذا میری ان سے گزارش ہے کہ غلط بیانی سے گریز کیا کریں کیونکہ یہ صرف من ��یث الادارہ فوج کی بدنامی کا سبب بنتی ہے۔
میں پانچ نکات پر روشنی ڈالوں گا جس کی وجہ سے پاکستان آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے:
۱- دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے قوم کی جانب سے مسترد شدہ چہروں کو ملک پر مسلط کرنا:
اسٹیبلشمنٹ کی اس پالیسی کی وجہ سے ملک کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔ ابھی چند سال قبل تک جن کی سرے محل اور مے فئیر فلیٹس جیسی بے شمار کرپشن کی داستانیں قوم کو سنائی جا رہی تھیں، انہی کے لیے پوری ریاستی مشینری اور ایجینسیز کو استعمال کر کے ناصرف قبل از انتخابات بدترین دھاندلی کی گئی بلکہ پولنگ ڈے اور اس کے بعد بھی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ ڈالا گیا اور ان کو قوم پر مسلط کر دیا گیا۔
یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شریف خاندان اور زرداری پر کیسز سیاسی نوعیت کے تھے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دور میں نیب کے کوئی کیسز نہیں بنائے گئے- انٹیلی جنس ایجینسیوں نے انکی کرپشن کے ثبوت اکٹھے کئے- جنرل احتشام ضمیر اور فاروق لغاری نے ان کے اربوں روپے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ڈوزئیر دئیے تھے کہ یہ لوگ کتنے کرپٹ ہیں- نیب تو ہمارے کنٹرول میں بھی نہیں تھا، جنرل باجوہ نیب کو کنٹرول کرتا تھا- انکے خلاف تمام کیسز ہمارے دور سے پہلے بنائے گئے- ہمارے دور میں صرف شہباز شریف کے خلاف مقصود چپڑاسی والا رمضان شوگر مل کیس بنا- اس کیس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ قوم نے دیکھا کہ انھی نیب زدہ چہروں کو ڈیل کی ڈرائی کلین مشین سے گزار کر دوبارہ پاکستان پر مسلط کر دیا گیا۔ نیب ترامیم کے ذریعے این آر او دینے کے اس عمل سے ملکی معیشت کو ۱۱۰۰ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اس فراڈ کے تانے بانے ملائیں تو تمام کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ایک ہی ہاتھ کی طرف جاتی ہیں اور اسکا سارا نزلہ فو�� پر گر رہا ہے-
۲ - جمہوریت کا خاتمہ:
جمہوریت اخلاقیات پر چلتی ہے- حکومت کے پاس اخلاقی قوت ہو تو ہی جمہوریت چل سکتی ہے- 30 سال لگا کر پاکستان میں رفتہ رفتہ جمہوریت کی کچھ بحالی ہوئی تھی، عدلیہ مسلسل جدوجہد سے خودمختار ہوئی تھی اور میڈیا کچھ آزاد ہوا تھا اور ملک بہتری کی طرف جا رہا تھا۔ لیکن پہلے سازش سے ہماری حکومت کو ہٹایا گیا، پھر ناصرف ایک جعلی حکومت کو مسلط کیا گیا بلکہ ان کو ��وبارہ ملک پر مسلط کرنے کے لیے آئین توڑا گیا، انتخابات ملتوی کیے گئے، الیکشن سے پہلے ہر حربہ آزمایا گیا، قاضی فائز عیسٰی کے ذریعے ہمارا نشان چھینا گیا، ہمارے ترجیحی امیدواروں کو میدان سے ہٹوایا گیا، حتیٰ کہ الیکشن کمپین تک نہیں کرنے دی گئی- یہ سب کرنے کے باوجود جب الیکشن میں پاکستانی عوام نے ہمیں دو تہائی سے بھی زیادہ نشستوں پر کامیاب کیا تو فارم 47 کے ذریعے رزلٹ تبدیل کر کے صرف 17 سیٹیں جیتنے والی پارٹی کو ملک پر مسلط کر دیا- اور اس انتخابی فراڈ کو چھپائے رکھنے کے لیے اور تحریک انصاف کو کچلنے کی کوشش میں جمہوریت کو مکمل طور پر پاؤں تلے روند دیا گیا ہے۔
الیکشن آڈٹ کے ��ودمختار ادارے “پتن” کی رپورٹ اس سلسلے میں سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کیسے اس ملک میں جمہوریت کا نقصان کر کے دھاندلی کے 64 نئے طریقے اپنائے گئے۔ میڈیا پر بدترین قدغنیں لگا کر اور انسانی حقوق کو پامال کر کے جمہوریت کے تمام ستونوں کو برباد کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو ان کے نمائندگان چننے کا حق نہیں ہے۔
الغرض جمہوریت کے تمام بنیادی ستون بشمول خودمختار عدلیہ، حق آزادئ رائے، آزاد میڈیا اور انسانی حقوق ختم کر دئیے گئے ہیں۔ اس سب کے پیچھے بنیادی طور پر تحریک انصاف کو کچلنے اور الیکشن ڈاکے پر پردہ ڈالنے کی قبیح کوشش کارفرما ہے۔
1/3