مَیں نے حِساب لگایا ہے ایک یہ اُداسی ہے جِس سے میرا پُرانا یارانہ ہے مَگر یہ جو بیزاریت کی انتہا ہے نا یہ عجیب ہے، ایک بے کَلی سی ہے ایک بے بَسی سی ہے اور دونوں سے بنتی نہیں میری ۔
ہر خاموش یا محتاط شخص لازماً کسی شدید صدمے سے نہیں گزرا ہوتا بعض لوگوں کی فطرت شخصیت یا زندگی کے تجربات بھی انہیں زیادہ محتاط اور کم اظہار کرنے والا بنا دیتے ہیں۔
مُجھے تو نہیں پتہ چلا پر یار لوگو سے سُنا یہاں بھی کُچھ محسُوس ہُوا، ابھی ریکٹر اسکیل پر شِدت کا اندازہ نہیں، جب اپنے اندر اِتنی ہَلچَلیں مَچی ہو تو پانچ اَعشارہ نو کیا ہی کر لے گا،
اِن زَلزلوں کو بتایا نہیں گیا شاید
مُجھے پکڑ کے ہِلاؤ تو بات سُنتا ہُوں ۔
بھائی صاب ہَوا میں نَمی کا تناسُب بڑھ چُکا ہے اور پسینے والی گندی گرمی کا آغاز ہوچکا ہے، اپنے اپنے حالات کے مُطابق اِس چِپ چِپ کا مُقابلہ کرنے کی تیاری شروع کردیں، مَیں نے مُقابلہ کرنے کی کوشِش کی تو ساڑھے تَینتیس ہزار کا ٹیکا لگ گیا ۔
اُداسی کی
کوئی تو آخری حَد ہو
کہ جِس کے بعد
مُمکن نہ رہے کُچھ اور غَم سَہنا
شِکستہ،ٹُوٹتے اَعصاب پر طاری تَھکن نہ ہو
لبوں سے بے اِرادہ آہ نہ نِکلے
نہ دِل ڈُوبے
لبوں کو سِی لِیا جائے
نَمی کو پی لِیا جائے
چُبھن میں اور تَھکن میں
خاموشی سےجی لِیا جائے
اُداسی کی
کوئی تو
آخری حَد ہو!
اِقرا مُبین!
اس کیفیت کو منیر نیازی ایسےبیان کر گئےہیں،
بے چین بہت پھرنا گھبرائےہوئےرہنا
اک آگ سی جذبوں کی دہکائےہوئےرہنا
یہ داخلی اضطراب،جذباتی شدت،روحانی بیقراری اور اندرونی کشمکش کا آئینہ ہے،یہ کیفیت ایسے شخص کی ہے جو کسی ایک جگہ قرار نہیں پکڑتا،نہ دل کو سکون ہےنہ ذہن کو چَین۔