قصے میری الفت کے جو مرقوم ہے سارے
آ دیکھ تیرے نام سے موسوم ہے سارے
شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک
ورنہ تو تیرے عیب بھی معلوم ہیں سارے
سب جرم میری ذات سے منسوب ہے محسن
کیا میرے سوا اس شہر میں معصوم ہے سارے۔۔
🖤
زندگی تیرے عطا تھی سو تیرے نام کی ہے
ہم نے جیسے بھی بسر کی تیرا احساں جاناں
دل یہ کہتا ہے کہ شاید افسردہ تو بھی ہے
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں۔۔
رندگی کو تنہا ویرانوں میں رہنے دو
وفا کی باتیں خیالوں میں رہنے دو
حقیقت میں آزمانے سے ٹوٹ جاتے ہیں دل اکثر
یہ عشق دوستی ، اور محبت کتابوں میں رہنے دو۔۔
🖤