جھپیا پپیا،چوما چاٹییا،بال سنوارنا یہ سب لونڈے لپاڑوں والی حرکتیں سہیل آفریدی ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ کر رہا ہے
سہیل آفریدی میں افگانڈوز لوطیوں کے جراثیم وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں
حرم شریف میں خود کش بمبار حملہ آ ور کی خبر فیک ہیں
سعودی حکام نے اس خبر کی تردید کی ہیں
سعودی حکام کا کہنا ہے حرم میں کوئی شخص راہ گیروں کو پریشان اور حراساں کر رہا تھا
جسے گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم کسی بھی قسم کا خودکش بمبار نہیں ہے یہ جھوٹ پہ مبنی بات ہیں
بچہ بچہ جانتا ہے کہ بی ایل اے کے جو لوگ مارے جاتے ہیں یا جنکے کیمپوں پر حملے ہوتے ہیں انکے موبائل سے ایسا مواد نکلتا یے
یہ بات تو مستند ہے کہ یہ لوگ کوئی بلوچ شناخت یا بلوچ حقوق کے لئے نہیں بلکہ کسی مکروہ اور شیطانی ایجنڈے کے لئے لڑ رہے ہیں.
ہماری بچیوں کا جنسی اور نفسیاتی استعمال ہورہا ہے. انکو نشے پر لگاتے ہیں اور پھر بلیک میل کرتے ہیں
مکہ الائنس اور اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے، جیسا کہ ہم یہاں بھی واضح کر چکے ہیں، دفاعی اقدامات کو عملی شکل دینا آپریشنل ضرورت اور رازداری کا معاملہ ہے۔ یہ میڈیا کے لیے بحث کا موضوع نہیں ہے، اور کوئی بھی ملک ایسے معاملات کو عوامی سطح پر زیرِ بحث نہیں لاتا
#DGISPR
ڈی جی ائی ایس پی آر نے واضح طور پر کہہ دیا کہ صوبائی حکومتوں سے رابطہ رکھنا وفاقی حکومت کا کام ہے
ہمارا کام آئین و قانون کے اندر رہ کر کام کرنا ہے
#DGISPR
بھارت کی مکاریوں اور سازشوں پہ ڈی جی آ ئ ایس پی آ ر کا کھلا چیلنج!!
" سامنے آؤ برارست لڑو معرکہ حق کی طرح
تمہیں وہ سبق سیکھائیں گے تمہاری نسلیں یاد رکھیں گی "
#DGISPR
🔥🔥
یہ وہ ایس ایس جی جوان میں جو بھارت میں مختلف بار مختلف جگہوں پہ مختلف ناموں سے مارا گیا ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے جس ایس ایس جی کمانڈو محمد آصف، الیاس، ہاشم، موسیٰ زندہ ہے
#DGISPR
🤦🤦
بھارتی پروپیگنڈہ پھر سے بے نقاب ہو گیا
جس انسان کو بھارت پاکستانی فوج کا بتا کر 4 بار فالس فلیگ آپریشن میں مار چُکا ہے وہ زندہ ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں پیش کر دیا
بھارتیوں یہ تم سے نہ ہو پائے گا!!
#DGISPR
😂😂😂
9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں کے پی حکومت کی درخواست مسترد کر دی گئی
کے پی حکومت نے فارنزک معائنے کے حکم کے خلاف اپیل دائر کی تھی
پشاور ہائیکورٹ نے کہہ دیا کہ اے ٹی سی کے پاس منصفانہ فیصلے کے لیے الیکٹرانک ثبوتوں اور فارنزک معائنے کا کامل قانونی اختیار موجود ہے
🚨 Fact Check:
Afghan propaganda accounts are circulating an old video and falsely claiming that FC personnel burned a Baloch youth after tying him to a tree. In reality, the video was circulated by the Mexican Jalisco New Generation Cartel (CJNG) as psychological-operation propaganda and dates back to 15 November 2025.
The dense green forest vegetation shown in the footage is also inconsistent with the claimed location in Balochistan. Afghan accounts are recycling old foreign propaganda to fabricate a narrative against Pakistan.
طالبان کمانڈوز کے ایک اور غیر اخلاقی ویڈیو
منظر عام پہ آ چکی ہیں جس میں انہیں براہ
راست نام نہاد شریعت کے ٹھیکیداروں کو
پرچار کرتے دیکھا جا سکتا ہیں
👇👇
بلوچستان میں مسلحہ تنظیم میں اختلافات باہمی لڑائی میں تبدیل ہوگئے ۔ رپورٹس کے مطابق بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب اور کمانڈر کیپٹن رحمان گل کے درمیان فنڈنگ، اختیارات اور مسلسل پسپائی کے معاملات پر اختلافات اب کھلی دشمنی میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر دونوں رہنماؤں کے درمیان خونی رسہ کشی اس وقت منظرِ عام پر آئی جب حالیہ دنوں میں افغانستان کے سرحدی علاقوں اور بلوچستان کے مختلف مقامات پر بشیر زیب اور کیپٹن رحمان گل کے حامی مسلح دھڑوں کے درمیان آمنے سامنے فائرنگ اور خونریز جھڑپیں ہوئیں۔ ان اندرونی لڑائیوں میں دونوں اطراف سے بھاری جانی نقصان کی اطلاعات ہیں، جس نے تنظیم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
انکشاف ہوا ہے کہ بشیر زیب سے راہیں جدا کرنے کے بعد کیپٹن رحمان گل نے اپنی ایک الگ مسلح تنظیم قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بڑے پیمانے پر مالی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور ذرائع کے مطابق، رحمان گل کے بھارت (انڈیا) سمیت دو دیگر اہم ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں سے براہِ راست رابطے ہو چکے ہیں تاکہ نئی تنظیم کے لیے بھاری فنڈز اور جدید اسلحہ حاصل کیا جا سکے۔
سیکیورٹی اور سفارتی ذرائع سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق، بی ایل اے کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مسلسل ملنے والی شکست اور پسپائی کی وجہ سے اس کے بیرونی آقاؤں میں شدید مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ انڈیا اور دیگر دو اہم ڈونر ممالک اب بشیر زیب کی ناکام حکمتِ عملی اور تنظیمی کارکردگی سے بالکل خوش نہیں ہیں، کیونکہ کروڑوں ڈالرز کی فنڈنگ کے باوجود تنظیم بلوچستان میں اپنا اثر و رسوخ کھو چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اب بیرونی ڈونرز بشیر زیب کے متبادل کے طور پر دیگر چہروں پر جوا کھیلنے پر غور کر رہے ہیں، جس نے بی ایل اے کو اندرونی طور پر مکمل تباہی کے ��ہانے پر پہنچا دیا ہے۔