6/6
حسین۴ باغی نہیں ہںے میں زہراء۴ کا لعل حسین۴ ہوں میں نبیؐ کا نواسہ ہوں
عبداللہ نےکہا
حسین۴ مولا حکم کیجئے جنگ کرؤں.
فرمایا
عبداللہ واپس چلے جاؤ
عبداللہ نے کہامولیٰ واپس کوفہ کیوں جاؤں
فرمایا
میری بہن زینب۴ کوفہ آئے گی اسے کچھ چادریں لا کے دے د��نا
واغربتاً
💔💔😭😭😭
5/6
ارا��ہ کر کے تلوار نکالی انہوں نے مڑ کر دیکھا. کہا عبداللہ قریب آو. عبداللہ کہتا ہے میرے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے کے یہ کون ہںے جو مجھے نام سے جانتا ہںےفرمایا عبداللہ قریب آؤ. میں ڈرنے لگا انہوں نے اپنے ہاتھ سے انگوٹھی اتاری کہا یہ یمنی عقیق ہے😢 اپنی بیٹی کو جاکر دینا اور کہنا
4/6
پوچھا تم اس سے بھاگتے کیوں ہو. سپاہی نے کہا کہ اس کے ایک بھائی کا نام عباس۴ ہںے عبداللہ کہتا ہںےمجھےسمجھ میں نہیں آیا یہ کون ہے. مجھے بس اتنا پتا تھا کے اسے ماریں گے تو جنگ ٹھنڈی پڑے گی میں نے اپنا گھوڑا اس گھڑ سوار کے پیچھے لگادیا ابھی انکےگھوڑےسےتھوڑےفاصلےپرہںی تھا
3/6
میں جب کوفے سے کربلا پہنچا تو عصر عاشور کا وقت تھا جنگ کا میدان تھا میں نےدیکھا ایک تنہا بوڑھا ضعیف زخمی گھوڑے پر بیٹھا ہںے ہزاروں کا لشکر اسے مارنا چاہتا ہںے اس کا جلال ایسا ہںے کہ جہاں گھوڑے کو موڑتا ہںے فوجیں بھاگتی ہوئی نظر آتی ہیں میں نےایک بھاگتے ہوئے سپاہی سے
2/6
کیا ہے.حاکم نے اعلان کیا ہے کے کوفے میں کوئی مرد نہ رہنے پائے جو اسے مارنے نہ جائے. عبداللہ کہتا ہےمیں دوبارہ رخصت ہو رہا تھا کہ بیٹی نےکہا بابا جنگوں میں مالِ غنیمت ملتا ہے اگرمال غنیمت میں یمنی عقیق پتھر ملےتو میرےلئے لائیےگا میں گلے کا ہار بنانا چاہتی ہوں عبداللہ کہتاہںے
1/6
اپنی بیٹی سےکہنا حسین۴ باغی نہیں ہے
😭😭
6 ماہ کےسفر سےلوٹنےوالاعبداللہ ابن عفیف جب کوفےپہنچاتو دیکھاکوفہ میں کوئی مرد نظرنہیں آ رہا بازار بند تھے گھر پہنچا تودروازےپربیٹی نےاستقبال کیااورکہا باباجلدی واپس لوٹ جائیےساتھ ہی ایک بیابان ہےجسےکربلا کہتےہیں وہاں ایک باغی نےخروج
خیموں سے آ رھی ھے پیاسوںؑ کی یہ صَدا ،
پیاسی لَبِ فُرات ھے اولادِؑ مُصّطفیٰؐ ھے ،
دریا پہ ظالموں نے ھیں پہرے لگا دیئے
پیاسوںؑ کو تین دن سے ھے پانی نہیں مِلا ،
ہاتھوں میں خالی جام ھیں بچےؑ لیئے ھُوئے
کہتے ھیں سبؑ معّصومہؑ سے پانی ھمیں پلا ،
#العطش
شامیوں پر ڈال کر پہلی نظر عبّاسؑ نے
کثرتِ افواج کر دی مختصر عبّاسؑ نے
آج پہلی بار اِک کوزے میں دریا بند ہے
ہاتھ اپنا رکھ دیا ہے مشک پر عبّاسؑ نے!
سید ابوذؔر حسنین