میرے پاس نا تو مستند زرائیع ہیں نا ہی مقتدرہ کا نمبر ! لیکن اتنی بات مجھ نادان کو بھی معلوم ہے کہ اگر کہیں عمران خان کے قتل کا منصوبہ بن رہا ہے تو اُس میں تحریک انصاف کی اہم قیادت اور عمران خان کے قریبی لوگ شامل ہیں
یہ عورت آج ریٹائر ہو رہی ہے۔ اس کو ساری عمر آپ نے یاد دلانا ہے کہ اس عورت نے کتنی ماؤں کے ساتھ ظلم کیا۔ اس عورت کو اللہ لمبی عمر دے، اور اس زندگی کا ہر دن وہ درد ملے اس کو، جو اس نے مظلوم بچوں کو اور ان کی ماؤں کو دیا۔ اور ایک دن یہ رو رو کر ان ماؤں سے معافی مانگے۔ جس بے غیرتی سے اس نے انصاف کی دھجیاں اڑائیں، اس کا حساب تو قیامت کے دن بھی ایسا ہو گا کہ بس۔ ایسے جج جہنم میں سب سے نچلے درجے میں ہوں گے، ان شاء اللہ۔ مریم ریاض وٹو
#pakistan @soulful7867
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
یہ پاکستان ہے…
جہاں قانون کی کتاب ایک ہے، مگر انصاف کے ترازو الگ الگ ہیں۔
شاہ رخ جتوئی ہو یا نتاشہ دانش، ایسے مقدمات ایک سوال ضرور چھوڑ جاتے ہیں:
کیا پاکستان میں قانون بھی دولت، طاقت اور حیثیت دیکھ کر اپنا لہجہ بدل لیتا ہے؟
غریب کے لیے قانون کی پوری طاقت،
اور طاقتور کے لیے قانون کی نرم زبان۔
جب انصاف جیب دیکھ کر ملے تو قانون کتاب میں زندہ رہتا ہے، معاشرے کے دل میں نہیں۔
عاصم منیر پاکستان کو تو لے ڈوبے گا ہی ساتھ ساتھ اپنے ادارے کو بھی لے ڈوبے گا اس لیے عاصم منیر کو کسی دن ادارے کے اندر سے ہی push آئے گی ! عائشہ صدیقہ ۔۔۔
ادارے کو سوچنا چاہیے کہ یہ شخص ملک اور ادارے کو کس طرف لے کر جا رہا ہے ایسا نہ ہو دیر ہو جائے اور نہ ملک رہے نہ ادارہ ۔۔۔
کیا آپ جانتے ہیں ؟
چولستان میں جن کمپنیز کو لاکھوں ایکڑ الاٹ کردیے گئے اور وہ وہاں کوئی بھی فصل اگانے میں ناکام رہیں ان کمپنیز کا نام کیا کیا ہے؟ جی ہاں !
فوجی فرٹیلائزرز
فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن
فوجی فاونڈیشن
عمران خان کو پاکستان سے باہر جانے کی آفر ان کی فیملی کے مطابق بار بار دی گئی ہے
ذرائع کے مطابق عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے بھی یہ بات کی کہ لندن چلیں لیکن عمران خان یہ بات نہیں مانتے وہ کہتے ہیں میں نے ادھر ہی رہنا ہے ادھر ہی جینا ہے ادھر ہی مرنا ہے
عادل راجہ
https://t.co/qeNltYsIJx
امریکہ کی بدلتی سیاست؟ کیا ڈاکڑ عبدل سید، امریکہ کی دو سو پچاس برس کی تاریخ کے پہلے سینیٹر بن جایں گے؟ امریکہ کی سیاست میں جھنڈا گاڑنے کے لئے امریکہ مسلمانوں کو کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
ٹاؤٹس یہ چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان کو بطور ملک یا قوم کوئی بھی کامیابی ملے تو اسے ظالموں کے اقتدار کے لیے جواز بنایا جائے۔
یہ معاہدہ بہت اچھا ہے، مگر اس سے حکومت جعلی سے اصلی نہیں بن جائے گی۔
یہ معاہدہ شاندار ہے، مگر 45 اور 47 والا فرق ختم نہیں کر سکتا۔
یہ معاہدہ تاریخی ہے، مگر یہ آئین کی خلاف ورزیوں اور حلف توڑنے کو جسٹیفائی نہیں کرتا۔
یہ معاہدہ کمال ہے، مگر یہ انسانی حقوق کی پامالیوں اور بار بار ریاستی قتل عام پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔
یہ معاہدہ جتنا بھی اچھا ہو، یہ جبری گمشدگیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
اس معاہدے کو سونے سے لکھیے، مگر یہ جیلوں میں پڑی بے گناہ خواتین کو گناہ گار یا مجرم نہیں بنا سکتا۔
یہ معاہدہ فریم کروا کر ہر پاکستانی کے گھر میں لگوانا چاہیے، مگر یہ معاہدہ 9 مئی، 26 نومبر، مریدکے اور راولہ کوٹ جیسے قتل عام کو جائز نہیں کر سکتا۔
لوگ اس معاہدے سے کتنے بھی خوش ہوں، یہ ان کی زندگیوں کو نہیں بدل سکتا۔ جو تلخ حقیقتیں ہمارے سامنے ہیں، انہیں تبدیل نہیں کرے گا۔
کیا اس شاندار معاہدے میں یہ لکھا ہے کہ آج کے بعد کوئی بنگالی، مہاجر، پٹھان، بلوچ، کشمیری، پنجابی یا سندھی غدار نہیں کہلائے گا؟ یہ آگ تو جلتی رہے گی۔
قوم خود تو خوش ہے مگر وہ خود پر زبردستی مسلط ظالم رجیم کے ساتھ ناچنا گانا نہیں چاہتی۔ بس یہی فرق ہے جو ٹاؤٹس کو سمجھ نہیں آرہا۔
کشمیر میں امدادی سامان، ادویات وخوراک لیجانے والے تمام نوجوان اور مددگار کارکن پاکستان کی جیل میں بند ہیں۔ اسوقت غزہ اور کشمیر میں امداد لیجانے پر پابندی ہے۔