کنزالعلماء مرشد
ایک ایسی شخصیت ہیں جو صرف ایک شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک تنظیم، ایک فکر، عقیدہ کی ایک پہچان، اہل سنت کی ایک ڈھال، فکر رضا کی ایک چٹان، چودہ صدیوں سے مسلک اہل سنت پر قائم اکابر کی شان کا نام ہے
@DrJalaliTLY
عید الاضحی شعائرِ اسلامی کو زندہ رکھنے کا پیغام دیتی ہے۔ 70 ہزار شہداء کا مَشہَد، غزہ اور
بے یار و مدد گار فلسطینی ذہن میں رکھتے ہوئے اور انہیں دعاؤں میں یاد کرتے ہوئے عیدِ قربان منائی جائے۔ جانوروں کی قربانی خواہشِ نفس کی قربانی کی ایک ٹریننگ ہے۔
حدیث غدیر“ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حد درجہ فضائل پر دلالت کرتی ہے۔ اس حدیث شریف میں اُمت مسلمہ کے لیے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت کی فرضیت کا ذکر ہے لیکن اس میں امامت، امارت یا خلافت بلا فصل کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔
اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی جارحیت ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے تھوڑی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور مغربی قوتیں ایک ایک کر کے معاذ اللہ تمام اسلامی ممالک کو اپاہج کرنا چاہتی ہیں۔ ایسے حالات میں مسلم ممالک کا اتحاد ناگزیر ہو چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تنظیم اپنی افادیت کھو چکی ہے
تل ابیب سے اٹھتے شعلوں سے فلسطینیوں کے دل ٹھنڈے ہوئے ہیں۔ امریکہ سے کبھی بھی خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ پاکستان کی ایٹمی قوت بھی امریکہ کی آنکھ میں کھٹک رہی ہے۔ اس لیے بہت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کی چودھراہٹ کا بت زمین بوس کیا جائے۔
مظلوم فلسطینیوں کی آہیں اسرائیل پر آگ بن کر برس رہی ہیں۔ بالاخر ہزاروں فلسطینی بچوں کی چیخوں اور ان کی غم سے نڈہال ماؤں کے نالوں نے اسرائیل پہ قیامتِ صغریٰ برپا کر دی ہے۔ صیہونی اپنی فطرت کے لحاظ سے بڑے بزدل اور ڈرپوک ہیں اور ان کی بزدلی دنیا پر عیاں ہو رہی ہے۔
امریکہ کا ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ مبینہ غنڈہ گردی ہے۔ یہ بات واضح دیکھی گئی ہے کہ امریکہ پہلے دوستی کرتا ہے، اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے اور پھر دشمنی پہ اتر آتا ہے۔ امریکہ بہت کذاب اور عیار ہے، اس کی کسی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
شہنشاہ نقوی نامی شخص نے توہینِ کلمہ اسلام، توہینِ انبیاء کرام علیہم السلام، توہینِ اہل بیت رضی اللہ عنہم، توہینِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور جمہور امت کی تکفیر کے جرم کا ارتکاب کیا ہے، اسے گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے۔
ٹرمپ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان یوں خودمختار نظر آر ہا ہے جیسے وہ دو سگے بھائیوں میں صلح کروا رہا ہے، وہ دونوں کا باپ، یا چچا یا ماموں ہے۔ یہ وہی ٹرمپ ہے جو غزہ کی سیز فائر کی قراردادوں کو کئی بار ویٹو کر چکا ہے۔
حکومت کا ایک ہی ملک میں دو طرح کا قانون ہے تبراء بازی کرنے والے روافض کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے۔ دوسری طرف علماء اہل سنت پر محرم میں پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔حکومت کو اس طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ اہل سنت اس ملک کی غالب اکثریت ہیں جو ایسی ٹیڑھی تقسیم کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے
میدانِ کربلا میں سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دینِ اسلام کی حفاظت کا حق ادا کر دیا۔ شہدائے کربلا نے اسلام کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے قیامت تک کیلئے حق کا پرچم بلند کیا ہے۔ امام عالی مقام نے اُمت مسلمہ کو قیامت تک باطل قوتوں سے نمٹنے کا طریق کار عطا کیا ہے
شہنشاہ نقوی، شبیہ الحسن شمسی اور رجب بٹ ان کی گستاخیوں کے کلپ سوشل میڈیا پہ وائرل ہیں شرعی فتوی کے مطابق یہ تینوں مجرم ہیں، انہیں فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ایسے گستاخوں کو سزا نہ ملنے کی وجہ سے آئے روز مقدس ہستیوں کے خلاف زبان طعن دراز کی جا رہی ہے
غزہ کو شعلوں کی لپیٹ میں چھوڑ کر ایران کا اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر متفق ہو جانا قابل افسوس ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزر رہا جس میں غزہ پر بارود نہ برسایا گیا ہو. توقع کی جا رہی تھی کہ شاید فلسطینی بھی سکھ کی سانس لے سکیں گے مگر ایران نے اپنا نقصان کروا کے بھی یہ موقع ضائع کر دیا۔
احترام محرم الحرام امتِ مسلمہ کا شعار ہے۔ محرم الحرام بدی کی قوتوں کے خلاف جہاد کرنے کا درس دیتا ہے۔ یکم محرم الحرام کو خلیفہ دوم حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور دس محرم الحرام امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ ﷺ کے عظیم رفقاء کا یوم شہادت ہے
بجٹ الفاظ کا ہیر پھیر ہے، عوام کے ریلیف کے لیے کچھ نہیں۔ عوامی بجٹ وہ ہوتا ہے جس میں نچلی سطح تک ریلیف پہنچے۔ بڑے بڑے مگرمچھ اور تجوریاں بھر کے بیٹھے ہوئے لوگوں کی جمع تفریق سے عوام میں خوشحالی نہیں آ سکتی۔ عام آدمی کا چولہا بجھ چکا ہے
پاکستان کے تحفظ کی تڑپ صرف افواج پاکستان کو ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر فرد اور ہر خاندان میں ہے۔ پاکستان کی بحری اور فضائی افواج پر قوم کو فخر ہے۔ ملک کے چپہ چپہ کی حفاظت کے لیے بچہ بچہ پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہے۔
مسلم حکومتوں پر اسرائیل کے خلاف جہاد فرض ہو چکا ہے۔ اسرائیل اور اس کے سہولت کاروں کی مصنوعات کا سختی سے بائیکاٹ کیا جائے۔ پاکستان سے امریکی سفیر کو نکالا جائے۔ فلسطین، فلسطینیوں کا ہے۔ اسرائیل کی وہاں ایک انچ بھی جگہ نہیں ہے
فلسطینی شہداء اور مجاہدین نے استقامت کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ شب و روز برستی آگ،پھٹتا بارود اور شہیدوں کے اجسام کے بکھرتے چیتھڑے بھی ان کے جذبہ جہاد کو شکست نہیں دے سکے۔ حماس اور مجاہدین کے دیگر گروپ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک بار اسرائیل کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔