Our home is under siege. Both ends of our street have been cordoned off, effectively placing our entire family under house arrest.
@ImranKhanPTI@Kasim_Khan_1999
علی اصغر خان
پاکستان تحریکِ انصاف، صوبائی جنرل سیکرٹری، خیبر پختونخوا:
صوبائی وزیر شکیل خان کی گاڑی کا مسلح سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے تقریباً چار گھنٹے تک تعاقب کیا، پھر راستہ روکنے کی کوشش کی، اسلحہ نکالا اور ہوائی فائرنگ کی۔ شکیل خان اور ان کے ساتھیوں نے اپنی جان کے تحفظ میں ردِعمل دیا۔
تمام حالات سے یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور انہیں زبردستی اغوا کرنا تھا۔
یہ معاملہ اس لیے مزید سنگین ہے کہ شکیل خان ایک صوبائی وزیر، کابینہ اور حکومت کا حصہ اور عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔ جب مسلح افراد سادہ کپڑوں میں اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر اس انداز میں سامنے آئیں تو یہ کیسے معلوم ہو کہ وہ ریاستی اہلکار ہیں، جرائم پیشہ عناصر یا دہشت گرد؟
27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل ایسے اقدامات کشیدگی اور عوامی اشتعال میں اضافہ کرتے ہیں۔
ایسے اقدامات سے پارٹی نہ خوفزدہ ہوگی اور نہ اپنے سیاسی و آئینی مؤقف سے پیچھے ہٹے گی، بلکہ اپنے حقوق کے لیے پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم مزید مضبوط ہوگا۔
ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ملوث افراد اور انہیں احکامات دینے والوں کی شناخت سامنے لائی جائے، اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
کل لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نئے تعینات ہونے والے ججز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ کے سامنے اپنے فیصلوں کے جواب دہ ہوں گے…
عالیہ نیلم کی عدالت سے چند منٹ کے فاصلے پر ایک بزرگ خاتون، علیمہ خان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔
کیا وہ بھی اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتی ہیں یا کسی سیکٹر کمانڈر یا جعلی عسکری وزیرِ اعلیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں؟
“اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا”۔
سابق وزیراعظم عمران خان
ملک میں اس وقت بدترین فسطائیت جاری ہے پی ٹی آئی لانگ مارچ سے قبل بڑے پیمانے پر کارکنوں ، عہدیداران سمیت ممبران اسمبلی کی گرفتاریاں جاری، علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد رہنماء تحریک انصاف سمیع اللہ چوہدری کے بیٹے حمود اللہ، ایم این اے احسن جمال،ایم این اے ثناء اللہ مستی خیل، ایم این اے میاں غوث کو گرفتار کرلیا گیا۔ #AsimLaw
”علیمہ خان عمران خان کی دلیر بہن اور پاکستان کی بیٹی ہے۔ انہوں نے مجھے خود کہا کہ ہم بہنیں اس وطن کے لیے جان دے دیں گی۔ علیمہ خان کسی احتجاج کی قیادت نہیں کررہی تھیں کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ آپ 27 ستمبر سے ڈرے ہوئے ہیں، سہمے ہوئے ہیں۔ ایک خاتون کو آپ نے پاکستان کے امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے دیا اور آپ سمجھتے ہیں کہ ان ہتھکنڈوں سے لوگ ڈر کر 27 کو نہیں نکلیں گے لیکن آپ کو اس کے بر عکس نتیجہ ملے گا“ علامہ ناصر عباس
There was a time Pakistan made global headlines for winning World Cups, setting global standards in COVID-19 smart lockdowns, and showcasing visionary leadership.
Today, under General Asim Munir and the military-led regime, the story has completely flipped. World media cover Pakistan only to report state crackdowns, illegal detentions of political opponents, and the arrests of their family members.
Imran Khan built Pakistan's global reputation on triumphs; Asim Munir's tenure has turned it into an international display of political suppression.
The world is still watching Pakistan—but the pride has been replaced by shame.
#FascismUnderAsimLaw
ایک خاتون چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے پنجاب میں خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، اور چادر چار دیواری کا تقدس بغیر کسی ڈر اور خوف کے پامال کیا جا رہا ہے وہ انتہائی شرمناک اور ہماری روایات کے منافی ہے۔
آج صبح ایک بار پھر علیمہ خان کو جس انداز میں اغوا کیا گیا اور 3MPO کے تحت جیل منتقل کیا گیا، یہ بدترین سیاسی انتقام کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
اگر اختلاف عمران خان سے ہے تو مقابلہ بھی عمران خان کے نظریے اور سیاست سے کریں۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، اور خاندان کی خواتین کو نشانہ بنانا کون سی سیاست، کون سا قانون اور کون سی اخلاقیات ہیں؟
ہماری مذہبی یا معاشرتی روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے، جیسا کہ موجودہ دور میں کیا جا رہا ہے۔ خواتین کو ہراساں کر کے، اغوا اور گرفتار کر کے اور خاندانوں کو دباؤ کا ذریعہ بنا کر نظریے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔