اردلی سرکار کی ملاقات اسرائیل کے بنانے والے روتھ چائلڈ خاندان کے وفد سے ہو رہی ہے۔ اب کس منہ سے یہ عمران خان پر یہودی ہونے کا الزام لگائیں گے جب خود آج یہودیوں کے چرنوں میں گھس رہے ہیں؟؟
شہباز شریف صاحب نے لندن میں اسرائیل کے بانیان،محافظین،پشتیبان بااثر اسرائیل نواز خاندان Rothschild & Co سے ملاقات کی۔ یہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اس خاندان کے ساتھ ان کی دوسری ملاقات ہے۔ یہ وہ خاندان ہے جسے عالمی سطح پر رسول اللّٰہ کی امت کے خلاف پالیسیوں اور سازشوں کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور یہی خاندان استعمار و سامراج کا ایک طاقتور چہرہ ہے۔یہ ملاقات غزہ/ فلسطین کے موجودہ تناظر میں بہت تشویشناک ہے،کیا حکومت بتائے گی اس ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا؟؟؟
دوسری جانب ملک میں فلسطین کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ آج بھی میں اپنے ساتھیوں سمیت ضمانتوں کے لیے اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوا،جہاں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے کے جرم میں ہمارے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور ہمیں بغیر نوٹس جاری کئے اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔
ویسے بلوچستان کے حالات تو بالکل ٹھیک ہیں وہاں کے حوالے سے صدر و وزیراعظم مشاورت آرٹیکل 232 ، 234 کی ضرورت تو بالکل بھی نہیں ہے ؟؟؟؟ ہاں البتہ خیبرپختونخواہ کے حوالے سے ہے
ویسے یاد آگیا
کچھ عرصہ قبل آئینی ترامیم کے خلاف وکلا کا ایک سرگرم گروپ سپریم کورٹ میں اکٹھا تھا سوچ رہے تھے ملک میں کہاں کہاں وکلا کنونشن کروائیں کوئٹہ کی باری آئی تو میٹنگ میں موجود وہاں کے وکلا نے کہا وہاں رہنے ہی دیں حالات ٹھیک نہیں وہاں تو ہم خود کھل کے باہر نہیں نکل سکتے ہاں البتہ پشاور کے حوالے سے ایسا کوئی اعتراض نہیں آیا
یہ ویسے ہی واقعہ یاد آگیا حکومت کے بقول حالات اصل میں خیبرپختونخواہ کے ہی بہت ہی خراب ہیں
نوازشریف پشاور سے 350کلومیٹر دور ناران میں بلاخوف گھومتے رہے، سہیل آفریدی گاڑی کی چھت پر بیٹھ کر صوبہ میں آزادانہ گھومتے ہیں۔ کیا میاں صاحب یا سرفرازبگٹی کوئٹہ سے زیارت 125، قلات135 یا دالبندین 300کلومیٹر دور اتنی ہی آزادی سے گھوم سکتے ہیں؟ اگرنہیں توپھر ایمرجنسی کہاں لگنی چاہئے؟
🚨🚨
بہت ہی نازک صورتحال جزوقتی صحافی عُمر چیمہ نے پہلے انکار کیا کہ میں نے تو کبھی کہا ہی نہیں ساتھی صحافی اعزاز سید نے پکڑ لیا کہ وہ ریکارڈ سے ثابت کرسکتے ہیں کہ عُمر چیمہ نے کہا ہے تو موصوف جزوقتی صحافی فرماتے ہیں میں نے وثوق سے نہیں کہا تھا۔۔ پھر کہتے دوسروں کو فیک نیوز ہیں!
ایک ویڈیو میں اسداللہ خان نے ایک دن قبل لاہور میٹرو اور پشاور بی آر ٹی کا موازنہ پیش کیا، جس پر مریم، نواز، شہباز سب کی مسنوئی کارکردگی کی اصلیت کھل گئی۔ آج دوبارہ انکی طبیت صاف کر دی جب بی آر ٹی کو ملے چھ عالمی ایوارڈ کی تفصیل بیان کر دی۔ @AUKhanOfficial1 کی بہترین ریسرچ
اسد اللہ خان نے ن لیگ کی ترقی کو دریائے راوی میں بہا دیا۔۔۔!
میٹرو بس لاھور 2013 میں بنی، میٹرو بسس لاھور میں صرف 64 ہیں، اور یہ چلتی بھی ڈیزل پر ہیں، میٹرو بسیں پنجاب حکومت کی ملکیت نہیں بلکہ نجی کمپنی کی ملکیت میں ہیں،
دوسری طرف بی آر ٹی پشاور 2020 میں بنی، پشاور میں 296 بسیں چل رہی ہیں، یہ تمام بسیں الیکٹرک ہیں، یہ تمام بسیں حکومت خیبرپختونخوا کی ملکیت ہے، یہ پاکستان کا سب سے بڑا ہائبرڈ گاڑیوں کا نظام ہے جو خیبر پختونخوا میں چل رہا ہے،
پنجاب میں صرف کاغذوں کی حد تک ترقی ہوئی ہے، اسد اللہ خان
پچھلے دنوں میں نے لاہور میڑو اور پشاور بی آر ٹی کا موازنہ پیش کیا اور بتایا کہ پشاور بی آر ٹی پانچ عالمی ایوارڈ جیت چکی ہے۔ اس پر کچھ اہل دانش نے حیرت سے سوال اٹھائے کہ جناب کونسے عالمی ایوارڈ جیتے ہیں۔ اور دوسرا سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ تھا کہ لاہور میٹرو تو تیس ارب میں بن گئی، بی آر ٹی پشاور ستر ارب میں کیوں بنی۔ تو لیجے آپ کےسوالوں کےجواب حاضر ہیں:
حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے معاملات بہتر کرنے کے لیے ایک سنجیدہ کوشش ہوئی تھی لیکن ایک ہی آدمی ہے جو مانتا ہی نہیں وہ کہتا ہے میں نے نواز شریف نہیں بننا۔ حامد میر
نواز شریف خیبرپختونخواہ پہنچ گئے اور ناران میں انکی مقامی رہنماوں سے ملاقات ہوئی ہے لیکن کسی نے ان کا راستہ نہیں روکا۔۔۔ کیسے جنگلی حکومت ہے خیبرپختونخواہ کی؟ کم از کم پنجاب حکومت جیسی مہمان نوازی تو بنتی تھی
عقل بڑی یا بھینس۔۔۔؟
سپریم کورٹ فیصلہ پر پنجاب خیبرپختونخوا الیکشن 90 روز میں نہیں ہوا، فوجی ٹرائل قیدیوں کو اپیل کا حق نہیں دیا، عمران خان شفاء ہسپتال منتقل ہوئے نہ ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ رہا ہوئے۔ ہاں لانگ مارچ ضرور روکیں گے کیونکہ ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا گزشتہ رات ڈار ہاؤس سیالکوٹ کا دورہ۔
ڈار برادران کی کاروباری فیکٹری VIP کو سیل کر دیا گیا، جس کے باعث ہزاروں شہریوں کے روزگار سے محروم ہونے کا خدشہ۔
نہیں سر آپ نے سب سے بڑا غلط کام ’’پنجاب الیکشن‘‘ کے فیصلے کو متنازع بنا کر کیا۔ ایک فیصلہ 2-3 سے آیا تھا، آپ نے اور جناب منصور علی شاہ نے نوٹ لکھ کر اُسے 3-4 کی بحث میں بدلا، نتیجے میں 90 روز میں الیکشن ہی نہ ہوئے۔ آپ بھٹو کی پھانسی پر نہیں، اپنے فیصلوں پر معذرت کریں
اللہ کی شان ہے نواز شریف جیسے سزا یافتہ مجرم قیدی کو چار ہفتے کے پچاس روپے کے بیان حلفی میں چار سال ملک سے بھگانے والی اور پھر واپسی پر بنا گرفتاری کا حکم دئیے ائیرپورٹ پر بائیو میڑک کرانی والی عدالتیں آج عمران خان کی اسپتال منتقلی پر جیل رولز کی خلاف ورزی کا بھاشن دے رہی ہیں