”ہمارے پولیس کے سپاہئیوں اور فوجی جوانوں کو جس انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ نہایت افسوسناک ہے کیونکہ ہم روزمرّہ بنیادوں پر انہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے دیکھ رہے ہیں۔
مگر عسکری خفیہ ایجنسیاں (انٹیلی جنس ایجنسیز) دہشتگردوں کی موجودگی اور نقل و حرکت کے حوالے سے بروقت معلومات جمع کرنے کی بجائے تحریک انصاف سے متعلّقہ مقدّمات کی سماعت کرنے والے (اسلام آباد ہائیکورٹ اور انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کے) ججوں پر غیر قانونی دباؤ ڈالنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے/ہراساں کرنے کیلئے استعمال کی جارہی ہیں جبکہ سیاسی اور سوشل میڈیا ورکرز اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صحافیوں کو جبراً اغواء کرنے یا جعلی الزامات کی پاداش میں انہیں ”گرفتار“ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
سرگردھا کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے نام تازہ ترین خط اور اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں کے چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے خط نے عدالتی امور میں بڑے پیمانے پر انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کی مداخلت کا پردہ چاک کیا ہے جو اب بھی پوری ڈھٹائی سے جاری و ساری ہے۔
ہماری عسکری خفیہ ایجنسیوں کیجانب سے پاکستان تحریک انصاف کے سمندر پار مقیم (اوورسیز) سپورٹرز، قائدین اور ہماری سوشل میڈیا ٹیم کے اراکین کے خلاف دورِ نوآبادیات کا اجتماعی سزا جیسا (انسانیت سوز) ہتھکنڈہ بالکل اسی طرح آزمایا جارہا ہے جیسے بھارتی فوج اپنے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں استعمال کررہی ہے۔
اس سب سے غیریقینی کی کیفیت بڑھ رہی ہے اور ملک مزید انتشار کی جانب لڑھک رہا ہے۔ قانون کی حکمرانی کی عدم موجودگی سے معیشت براہِ راست متاثر ہورہی ہے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے۔ پاکستان کو سرمایہ کاری درکار ہے اور سمندر پار پاکستانی اس باب میں ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں جبکہ انہیں دشمنوں کیطرح نشانۂ جبر و ستم بنایا جارہا ہے۔
چنانچہ میری اعلیٰ عدلیہ خصوصاً سپریم کورٹ سے التماس ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی گزارشات اور تاثرات کی روشنی میں اس معاملے کو دیکھیں اور نظامِ عدل میں آئی ایس آئی اور مقتدرہ کی مداخلت کا قلع قمع کرتے ہوئے نظامِ انصاف کو بچائیں۔
اس سے ہماری افواج کی ساکھ بھی بری طرح مجروح ہورہی ہے۔ جب تک عدلیہ کی آزاد حیثیت کی بحالی کیلئے قانونی کارروائی نہیں کی جاتی ملکی معیشت کو مزید بھی ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا رہے گا” - بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان (14-06-2024)