A student of law. Human rights and writ of the state need to be equally respected. Student as well as a teacher by nature. Writer @humsubcompk & @dailytimespak
دنیا بھر میں سوشل ویلفیئر کی بنیاد پر بنے معاشی ماڈل فیل ہورہے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگوں کو محنت کش بنانے کی بجائے بھکاری بنا رہے ہیں۔ یہ وقتی سیاسی مفاد کی خاطر قوم کا نقصان ہے۔
@imdad_soomro بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے نکمے لوگوں کو محنت مشقت اور خود انحصاری سے مزید دور کردیا ہے۔ آسکا حجم کم کرکے اس رقم سے لوگوں کو کاروبار کیلئے مدد کرنی چاہئے اور فیکٹریاں لگائی جائیں ۔صاحبان اختیار کیلئے اس سکیم میں خرد برد کے وسیع مواقع ہیں
The targeted violence against Ahmadis in Rabwah & across Pakistan is a symptom of weaponized hate. It thrives because mullahs incite it, opportunistic politicians exploit it, and mainstream leaders choose silence.
@MaryamNSharif@CMShehbaz@BBhuttoZardari
جب کوئی آپ جیسا بندہ سیاستدانوں کے خلاف نفرت کا اظہار کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنی زبان نہیں کسی اور کی سہولت کاری کر رہا ہوتا ہے
ایسے لوگوں کو پالا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے لیے 🤔
ناظرین پیش خدمت ہے ریاست پاکستان کا اصل ’’سپریم اور چیف جسٹس‘‘۔ تہتر کے ’’آئین‘‘ کے تناظر میں۔ یہ انکے نزدیک آئین اور ریاست کی حیثیت ہے۔ اور یہی یہ عوام کو دکھانا بھی چاہتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے ختمِ نبوت کے حساس معاملے پر ایک غلط فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں ایک احتجاجی ہنگامہ برپا ہوا اور پھر مجھے خود سپریم کورٹ میں بلایا گیا۔ ہماری اصولی موقف کی بدولت چند گھنٹوں کے اندر اندر سپریم کورٹ کو اپنا وہ فیصلہ واپس لینا پڑا اور جس طرح ہم نے عدالت کو کہا اور جس طرح ہم نے لکھوایا، بالکل وہی فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے صادر کیا گیا، جو ہماری نظریاتی فتح ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا پشین جلسے سے خطاب
پھر بھی مولوی خوش نہیں
جب ملک کی سب سے بڑی عدالت آپ کے کہے ہوئے کو تسلیم کرکے چند گھنٹوں میں اپنا فیصلہ بدل دیتی ہے تو پھر طاقت تو آپ کے پاس ہے، پھر رونا کس بات کا کہ ملک میں اسلام کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور اسلام خطرے میں ہے؟ اصل میں مولوی حضرات روتے اس لیے ہیں کہ ان کے مفادات خطرے میں پڑجاتے ہیں، باقی اسلام کو کوئی خطرہ نہیں اس ملک میں۔
افسوس کہ وطن عزیز میں مذہب کے نام پر جتھے اس قدر طاقتور ہیں کہ وہ ملک کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ سے بزور قوت فیصلہ تبدیل کراتے ہیں بلکہ مولوی صاحب تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ جیسے انہوں نے لکھوایا وہی فیصلہ سپریم کورٹ کو صادر کرنا پڑا ۔
پھر بھی مولوی خوش نہیں
جب ملک کی سب سے بڑی عدالت آپ کے کہے ہوئے کو تسلیم کرکے چند گھنٹوں میں اپنا فیصلہ بدل دیتی ہے تو پھر طاقت تو آپ کے پاس ہے، پھر رونا کس بات کا کہ ملک میں اسلام کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور اسلام خطرے میں ہے؟ اصل میں مولوی حضرات روتے اس لیے ہیں کہ ان کے مفادات خطرے میں پڑجاتے ہیں، باقی اسلام کو کوئی خطرہ نہیں اس ملک میں۔
ایک فتویٰ درکار ہے؟
میرے گاؤں کے ساتھ والا بڑا گاؤں جو اب یونین کونسل ہے اور یہاں چار قبرستان ہیں، ایک ایسا قبرستان بھی ہے جس میں ہزار سے زائد قبریں ہیں اور اس قبرستان کی زمین کا مالک ایک احمدی زمیندار تھا جس نے قبرستان کے لیے جگہ مختص کی۔یہاں پچانوے فیصد غیر احمدی مدفون ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔جب ایک احمدی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہوسکتا تو کیا مسلمان کو کسی احمدی کی ملکیتی زمین میں دفن کیا جاسکتا ہے؟ اور کیا غیرت ایمانی کا تقاضہ نہیں کہ وہاں مدفون مسلمانوں کی قبروں کو یہاں سے شفٹ کرکے اہل ایمان کے ساتھ دفن کیا جائے؟ جواب میں گالیاں نہیں مدلل رائے درکار ہے۔میں مسلمان ہوں اور اس صورتحال سے پریشان ہوں۔
غلط سوال بھی بڑا مسئلہ ہے۔
سبوخ سید
میری ایک نہایت عاجزانہ، سنجیدہ اور تقریباً ناکام ہو چکی درخواست ہے کہ کبھی کبھار اپنے جیسے لوگوں کے علاوہ دوسروں کے پاس بھی بیٹھ جایا کریں۔ ان لوگوں کے پاس جو آپ سے اختلاف کرتے ہیں، جن کی باتیں آپ کو ناگوار گزرتی ہیں، جنہیں آپ صبح شام سوشل میڈیا پر جاہل، گمراہ، ایجنٹ، لبرل فاشسٹ، مذہبی انتہا پسند یا کسی اور مناسب نامناسب لقب سے نوازتے رہتے ہیں۔ یقین جانیے، ان کے ساتھ ایک کپ چائے پینے سے ایمان بھی محفوظ رہے گا اور نظریہ بھی۔
مطالعہ بھی کبھی کبھار کر لیا کریں۔ صرف وہ نہیں جو آپ کے نظریات کی تصدیق کرتا ہو، بلکہ وہ بھی جو آپ کے خیالات کو چیلنج کرتا ہو۔ کیونکہ ہمارے ہاں مطالعہ کا مقصد علم حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے تعصبات کے لیے حوالہ تلاش کرنا بن چکا ہے۔ ہم کتاب اس لیے نہیں پڑھتے کہ کچھ نیا سیکھ سکیں، ہم کتاب اس لیے پڑھتے ہیں کہ کسی مخالف کو خاموش کرا سکیں۔
باقی جہاں تک عقائد کا تعلق ہے تو یہ بحث ہی فضول ہے کہ کون کیا مانتا ہے اور کس کو کیا ماننا چاہیے۔ پاکستان کا ہر شہری اپنے عقیدے کا حق رکھتا ہے، اپنے نظریے کا حق رکھتا ہے اور اسے بیان کرنے کا بھی حق رکھتا ہے۔ اگر آپ کو کسی کی بات غلط لگتی ہے تو جواب دیجیے، دلیل دیجیے، کتاب لکھیے، تقریر کیجیے۔ لیکن یہ توقع نہ رکھیے کہ ریاست آپ کی طرف سے لوگوں کے ذہنوں کی نگرانی کرے گی۔
ویسے بھی ریاستوں کا اصل کام عقائد کی پیمائش کرنا نہیں ہوتا۔ ریاست کا کام یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو صاف پانی، اچھی تعلیم، مناسب علاج، روزگار اور انصاف فراہم کرے۔ لیکن ہمارے ہاں شاید ریاست اور اہلکاروں کو بھی یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ اگر لوگوں کے عقائد درست ہو گئے تو بجلی خود بخود سستی ہو جائے گی، اسپتالوں میں دوائیں اگنا شروع ہو جائیں گی اور بے روزگار نوجوانوں کو نوکریاں خواب میں مل جائیں گی۔
یہ بھی عجیب تماشا ہے کہ جب بھی مہنگائی بڑھتی ہے، کوئی نہ کوئی عقیدے کا مسئلہ دریافت ہو جاتا ہے۔ جب بے روزگاری بڑھتی ہے تو کوئی نیا فرقہ خطرہ بن جاتا ہے۔ جب تعلیم کا بحران سنگین ہوتا ہے تو قوم کو کسی نئے ثقافتی یا مذہبی معرکے میں جھونک دیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے اصل مسائل خود شرما کر کسی کونے میں جا بیٹھتے ہیں اور مصنوعی مسائل اسٹیج پر آ کر مرکزی کردار سنبھال لیتے ہیں۔
سرمایہ دار طبقہ یہ کھیل صدیوں سے کھیل رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر لوگ اپنی تنخواہوں، اپنے حقوق، اپنی صحت، اپنی تعلیم اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے لگے تو مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ اس لیے انہیں مصروف رکھیے۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی فرقے کے نام پر، کبھی زبان، نسل یا قومیت کے نام پر۔
اس کھیل میں صرف سیاست دان ہی شامل نہیں ہوتے۔ بعض مولوی، بعض پیر، بعض قوم پرست، بعض دانشور اور بعض ٹی وی اینکر بھی اس کارخانے کے پارٹنر بن جاتے ہیں۔ عوام لڑتے رہتے ہیں، نفرتیں جمع کرتے رہتے ہیں، ایک دوسرے پر فتوے لگاتے رہتے ہیں اور دوسری طرف طاقت، دولت اور وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتے رہتے ہیں۔
دنیا چاند پر بستیاں بسانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور ہم اب بھی یہ طے کرنے میں مصروف ہیں کہ محلے کی دوسری گلی میں رہنے والا شخص ہمارے جیسا سوچتا بھی ہے یا نہیں۔
کیا ہمیں خود سے یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے کہ ہمیں اصل خطرہ کس سے ہے؟ اس آدمی سے جو ہم سے مختلف عقیدہ رکھتا ہے یا اس نظام سے جو ہمیں تعلیم، صحت، انصاف اور عزت کی زندگی دینے میں مسلسل ناکام ہو رہا ہے؟
کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اختلافِ رائے سے تباہ نہیں ہوتیں، جہالت، نفرت اور غلط ترجیحات سے تباہ ہوتی ہیں، اور ہاں ہاں غلط سوال سے بھی
ہر پارٹی میں معصوم باچہ جیسے لوگ اندر گھس کر بیٹھے ہیں۔ یہ لوگ پارٹی قیادت کو بھی بلیک میل کرتے ہیں۔ نہ پارٹی سے مخلص ہیں نہ ملک سے نہ قوم سے۔ ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی یا پی ٹی آئی۔ ایسے بعض لوگ قیادت کے بھی بہت قریب نظر آتے ہیں۔