میرے والد نے علامہ صاحب کو لندن سے انکے لیئے گراموفون لانے کی گزارش کی تھی
آج بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ علامہ صاحب نے اپنے فرزند جناب جاوید اقبال کے نام لندن میں دو نظمیں لکھی تھیں دونوں بالِ جبریل میں موجود ہیں پر دوسری نظم دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر زیادہ مشہور و مقبول ہوئی
خودی کے ساز میں ہ�� عمر جاوداں کا سراغ
خودی کے سوز سے روشن ہیں امتوں کے چراغ
جاوید کے نام۔ علامہ اقبالؒ کو لندن میں میرے والد جناب جاوید اقبال کے ہاتھ کا لکھا ہوا پہلا خط ملنے پر۔
بالِ جبریل سے علامہ صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا کلام۔
آج، ۵ اکتوبر میرے والد مرحوم کی ۱۰۱ ویں سالگرہ ہے۔
کہ تیرے ساز کی فطرت نے کی ہے مضرابی۔۔��
منیب سرائے۔۔۔۔ میرا سیالکوٹ والا گھر۔ پہلے میں اقبال منزل سیالکوٹ میں علامہ صاحب کی پیدائش والے کمرے میں سو جایا کرتا تھا۔ بڑے مزیدار خواب آتے تھے۔۔۔۔
ترے نیستاں میں ڈالا مرے نغمہ سحر نے
مری خاک پے سپر میں جو نہاں تھا اک شرارہ
نظر آئے گا اسی کو یہ جہان دوش و فردا
جسے آگئی میسر مری شوخی نظارہ
ضرب کلیم۔۔
ایک شام۔
دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ۔۔۔
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں۔ کبھی سوز و ساز رومی، کبھی پیچ و تاب رازی۔۔۔ قبور والدین و دختر حضرت علامہ اقبالؒ۔ اور علامہ صاحب کے عقیدت مند۔۔۔ دربار امام صاحب۔ سیالکوٹ۔ ایک رات۔ رات گئے۔۔��
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شم��یریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
برسی بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔۔۔۔
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں۔۔۔۔
طلوع اسلام۔ بانگ درا۔
لَوح بھی تُو، قلم بھی تُو، تیرا وجود الکتاب
گُنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب۔۔۔
علامہ اقبالؒ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی بالِ جبریل کی بیاض سے ایک صفحہ۔
ذوق و شوق سے انتخاب۔
تمام احباب کو عید میلادالنبیﷺ مبارک۔۔۔
ہے میری بساط کیا جہاں میں
بس ایک فغان زیر بامی
اک صدق مقال ہے کہ جس سے
میں چشم جہاں میں ہوں گرامی
جاوید سے۔ ضرب کلیم
میرے والد، فرزند اقبالؒ ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم اور ��ھوپھو منیرہ بیگم دختر اقبالؒ۔ ۱۹۴۹
آج میری پھوپھو کی سالگرہ ہے۔ اللہ تعالی لمبی اور صحت مند زندگی عطا فرمائے۔
طرب آشنائے خروش ہو تو نوا ہے محرم گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردہ ساز میں
جدوجہد آزادی کے حوالے سےگفتگو۔۔۔۔
جلد وڈیو بھی چلاؤں گا۔ انشااللہ۔
تصویر میں پاک بحریہ اعزازی گارڈز کے افسران اور اہلکار نمایاں ہیں۔ مزار اقبالؒ پر اعزازی گارڈ کی تعیناتی کا سلسہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے احکامات پر غالباً ۱۹۷۵ میں شروع کیا گیا تھا۔ ۹ نومبر یوم اقبالؒ پر ہر سال یہ ذمہ داری پاکستان بحریہ کا اعزازی دستہ سرانجام دیتا ہے۔
نہ تخت و تاج میں، نَے لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے
یومِ اقبالؒ۔ ۹ نومبر ۱۹۸۵۔
صدرِ پاکستان جنرل ضیاالحق مزار اقبالؒ میں فاتحہ خوانی کرتے ہوئے۔ گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی اور وز��ر اعلی میاں نواز شریف ہمراہ ہیں۔