جب ان ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو اٹھایا جا رہا تھا، ان پر تشدد اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا تھا، تب کہاں تھے یہ ضمیر فروش ٹاؤٹس، عسکری لفافے اور نام نہاد علمبردارانِ عزتِ ن��واں؟
کیا گھر کی خواتین کے تحفظ کی خاطر ہتھیار اٹھانے کی سہولت صرف کرنل، جنرل کو حاصل ہے؟
@AlamgirZeb132 کہاں وہ جس نے انڈیا کو کہا تھا کہ تم ہماری پانی بند کرو گے ہم تمہارا سانس بند کر دینگے ؟ انڈیا نے پاکستان کا پانی بھی بند کیا ہے اور بعقول جرنل صاحب بلوچستان اور پختونخوا میں دھشتگردی کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ ہے ۔ تو پھر سوچتے کیوں ہو ۔ پاکستان کہ شہ رگ پاکستان کا پانی بھی بند
@KhawajaMAsif خواجہ آصف صاحب ہم۔ہیرامنڈی کے دلالوں کو بہت برا سمجھتے تھے ۔ مگر مسلم لیگ کے دلال دیکھ کر وہ اپ کے مقابلے میں کافی غیرت مند ہے ۔ جو روز روز باجوہ اور فیض حمید کے بارے میں بکواس کرتے ہو ۔ پکڑو ان کو ان کا احتساب کرو ۔ عوام میں ہپ ہپ کرنے کا کیا فائدہ
@War_Analysts ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہماری ملک کے یعنی پاکستان آرمی نے 90 ہزار پختون دھشتگردوں کے پیچھے آپریشن میں شہید کردئے ۔ یب ڈالت بند ہوئے تو دھشتگردوں کا سرغنہ احسان اللہ احسان کو پشاور کنٹ مئں بلا کر ایک شاندار بنگلہ دیا اور پھر آئر فورس کے تیارے میں بچوں سمیت ترکی پہنچایا ۔
@asmashirazi ابھی تک شہباز شریف نے پیچھلے 20 سال میں سینکڑوں کمیٹیاں بنائی اور بغیر کسی کاروائی کے ختم ہوئ ابھی تک ایک کمیٹی نے رپورٹ پیش کیا ہو تو بتادیں
سرحد یونیورسٹی واقعے پر انصاف کے تمام تقاضوں کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔ جہاں کرنل اسفندیار کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی، وہاں الٹا کرنل کی اہلیہ کی مدعیت میں نامور پروفیسر جدون اور 25 سے زائد معصوم طلباء و طالبات پر ہی جھوٹا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباء کو لائحہ عمل بتاتے ہوئے یہ لالی پاپ دیتی رہی کہ "فوج کا ��انون سخت ہے اور کرنل کے خلاف کارروائی کی جائے گی"، لیکن آج حقیقت سب کے سامنے ہے۔ انصاف فراہم کرنے کے بجائے انہی طلباء کے روشن مستقبل کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔
یہ سراسر ناانصافی، ریاستی جبر اور ظلم کی انتہا ہے۔ کیا اس ملک میں بااثر افراد کا قانون الگ اور عام شہریوں کا الگ ہے؟ ہم اس انتقامی کارروائی کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور پرچے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں...
عمران خان تو ختم شد نہیں ہوا،لیکن خان صاحب کو ختم کرنے کے چکر میں آئین ختم، عدلیہ ختم، میڈیا ختم،جمہوریت ختم تجارت ختم، معشیت ختم ، کاروبار ختم ،زراعت ختم، امن ختم ، کرکٹ ختم ، ہاکی ختم ، نوکریاں ختم، آزاد�� ختم۔
کچھ بھاڑے کے ٹٹو سرحد یونیورسٹی میں فوجی افسر کی بدمعاشی کو معصوم بنا کر پیش کر رہے ہیں ان کاسہ لیسوں کے نزدیک فوجی افسر کی کوئی غلطی نہیں بلکہ سب غلطی سویلین کی ہے یہ وہ راتب خور ہیں جو بوٹ کے تسموں کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں شرمناک