اویس لغاری نے الزام لگایا لوگ سولر لگا کر دو سو یونٹ سے نیچے آ رہے یہ بے شرم یہ نہی بتا رہا کہ سلیب سسٹم کا عذاب بھی تو موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے 201یونٹ پر 11ہزار تک کا بل وہ بھی چھ مہینے لیتے ہیں
سیدھی طرح کہے کہ بند بجلی گھروں کے سیٹھوں کا جیب ہم نے بھرنا ہے اور اس میں مشکل ہو رہی ہے
بجلی بارے ایک اور واردات سنیں اب تجویز ہے دن کو پانچ روپے یونٹ سستی کر کے رات کو چودہ روپے یونٹ بڑھا دیں پیک آور آدھی رات تک کر دیں تاکہ لوگوں کو سولر کا زیادہ فائدہ نا ہو سکے
ابھی تجویز ہے مگر آپ چیک کریں کیسی کیسی وارداتیں سوچ رہے ہیں
بجلی کے وزیر سے تو عوام کو شدید نفرت ہو گئی ہے وہ تو موت کے فرشتہ جیسی شہرت رکھتا ہے دن رات بیٹھ کر نئے فراڈ سوچتا ہے ہم ایک چیز پر احتجاج کر رہے ہوتے وہ ایک اور فارمولا لے آتا ہے اس نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے
آپ مجھے بتائیں کیا مہنگی بجلی ، پیٹرول اور عوام دشمن اقدامات پر بھی میں حکومت کو ڈیفنڈ کروں ؟
کیا کوئی بھی خوف خدا رکھنے والا موت اور قبر کے حساب پر یقین رکھنے والا اس ظلم کی تعریف کر سکتا ہے؟
راتب خوروں کی گالیاں کیا قبر کے عذاب سے زیادہ سخت کہ بندہ ڈر جائے ؟
کوئی وزیر مشیر ناراض ہو جائے بلاک کر دے مگر ہمارا رب نا ناراض ہو کیونکہ آج کے دن تک میرا رذق مجھے رب نے ہی دیا ہے
چاپلوس کہتے ہیں کہ پٹرول بجلی کی قیمتوں پہ تنقید والے حکومت کو حل بتا دیں.
تو جناب حل وہی ہے جو حل ذہن میں رکھ کر الیکشن کمپئن پہ مریم نواز صاحبہ اور حمزہ صاحب نے 300 یونٹ فری دینے کا اعلان کیا تھا
اسی وعدے کے مطابق حل بھی ڈھونڈیں ورنہ کُرسی چھوڑ دیں
عوام مزید گمراہ نہیں ہوگی اب
اگر آپ 415 روپے لیٹر پیٹرول پر راتب خوروں کے پیچھے لگ کر یہ کہیں گے کہ یہ تو مہنگا نہی تو اگلے ہفتے حکومت اسے 450 کر دے گی وزیر بتا چکے کہ ہماری آئی ایم ایف سے کیا ڈیل ہوئی یہ تب تک بڑھاتے رہیں گے جب تک آپ برداشت کرتے رہیں گے
پچھلے سال بجلی کے سلیب پر ہم نے کمپین کی تب 201پر 8 ہزار بل تھا پھر راتب خور متحرک ہوئے کہا گیا یہ باہر بیٹھا شرارت کر رہا اسے کچھ ملا نہی وغیرہ بہت سے لوگوں نے بات مان لی اس سال خیر سے 201یونٹ پر بل ساڑھے دس ہزار ہے وجہ فکسڈ ٹیکس کرایہ میٹر اور واپڈا کے قرضے کا سود بھی لگ گیا ہے
اگر تب سب احتجاج کرتے رہتے تو شاید انکو یہ ہمت نا پڑتی
جنکی تنخواہیں تین لاکھ سے چار لاکھ ماہانہ انکو سلانہ 34 کروڑ یونٹ فری بجلی۔۔۔اور جسکی ماہانہ تنخواہ پینتیس ہزار اسکو ایک یونٹ چالیس روپے کا اور 200 یونٹ کم رکھنے پہ سبسڈی بھی ختم کردی گئی
یہ آخری ووٹ تھا جو نواز شریف کے نام پہ دیا تھا بس💔🙌
حضرت مولانا ادریس صاحب ترنگ زئی جیسے معزز عالم دین کو جن سنگدلوں نے شہید کیا وہ مسلمان بلکہ انسان کہلانے کے مستحق نہیں ہیں وہ تو شہادت کے اعلی مقام پر سرفراز ھوے لیکن ھم ملک وملت کے عظیم سرمائے سے محروم ھوگئے اناللہ واناالیہ راجعون
ٹرنک اور پیٹیاں بنانے والے بھائیوں تک یہ پیغام پہنچاو کہ جب بھی ٹرنک یا پیٹی بناو تو اسکی کنڈی الٹی لگاو،کیونکہ الٹی کنڈی ٹرنک یا پیٹی کے بند ہونے پر خود بخود بند نہیں ہوگی،جس سے ان معصوم بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں جو کھیل کود میں ان ٹرنک اور پیٹیوں میں چھپ کر جانیں گنوا دیتے ہیں۔۔
ججوں نے کل اپنی مراعات پچاس فیصد بڑھا لیں یوٹیلیٹی بل بڑھا لیے کیا اس پر حکومت کا کوئی سرکاری موقف سامنے آیا یا پھر قربانی صرف عوام نے مہنگا ترین پیٹرول اور بجلی خرید کر دینی ہے ؟
کل کے دن ججوں نے اپنی مراعات بڑھا لیں اور تھوڑی نہی پوری پچاس فیصد بڑھا لیں یوٹیلٹی اور جوڈیشل الاؤنس بڑھا لیا جبکہ ایسا وقت جب عوام سے قربانی کے نام پر مہنگا ترین پیٹرول اور بجلی بیچا جا رہا اس پر کل میرے علاوہ کتنے لوگوں نے آواز اٹھائی ؟
پاکستان ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے
آپ سوچیں 108کنال کا پلاٹ 87 کروڑ میں حوالے کر دیا اب ٹھیکیدار نے گھر بنا کر بیچ دیے یہ 87کروڑ بھی پنجاب بینک سے لیے اور واپس نہی کیے کہا خسارہ ہو گیا ہے وہ اربوں لے کر سائڈ پر ہو گیا اب اکیس سال ریاست نے کروڑوں روپے وکیلوں کی فیسیں دیں فیصلہ حق میں آیا اب کمیٹی بنا دی کمیٹی یہی کہے گی الیٹ مالکان کو پیسے دو اب اربوں روپے کا معاوضہ سرکاری کھاتے سے جائے گا
جن ججوں ، افسران اور ٹھیکدار نے لوٹا اس کی جائداد بیچ کر معاوضہ نہی دیں گے
بس یہی ڈاکے جن کے خسارے میں یہ ملک ہے
آئی پی پیز سے معاہدہ کا دورانیہ ختم ہونے والاہے ۔ نیا معاہدہ روکنے کیلئے سوشل میڈیا پر بھرپور تحریک چلانی چاہئے جس میں بلاامتیاز تمام سیاسی جماعتوں کے ورکرز حصہ لے تاکہ عوام پر یہ ڈاکہ روکاجائے ۔
سولر ہرگھر میں نہی ہے مگر فکسڈ چارجز بجلی کے بلوں پر ہر غریب کا ہر گھر کا مسلہ ہے آپ سب کو اس پر بھرپور آواز اٹھانی چاہیے بجلی کے بل میں فکسڈ چارجز ہزار قسم کے دیگر ٹیکسوں کے بعد ظلم ہے موجودہ حکمرانوں کو عوام کا کوئی احساس نہی اس پر ان کو روزانہ شرمندہ کریں
سولر لائسنس پر درباری اور راتب خور پھر جھوٹے ثابت ہوئے اور آپ نے دیکھ لیا کون پیسوں پر بھرتی ہے کس کی ڈیوٹی ہے عوام دشمن اقدامات کی بھی تعریفیں لکھیں
عوام اپنے حق کے لیے ان راتب خوروں کی بات پر کبھی غور نا کرے
ایک سبق یہ بھی کہ بجلی گیس وغیرہ کے معاملے پر حکومت کے عوام دشمن کاموں پر بغیر پارٹی وابستگی کھل کر تنقید کیا کیجئے کسی پارٹی نے آپ کے بل نہی بھرنے ہیں
یہ ڈیفنڈ کرنے کا کام تنخوادار راتب خور درباریوں کو کرنے دیں کیونکہ ان کو پیسے ملتے آپ نے اپنا بل خود دینا ہے
ہر دفعہ جب بجلی بلوں پر عوام اعتراض کرتی تو اچانک حکومتی پی آر ٹیمیں متحرک ہوتیں عوام کو بتاتیُ یہ آپ بارے نہی لوگ شرپسندئ پھیلا رہے حکومتی کامیابیوں سے ڈر گئے ہیں پھر وزیراعظم نوٹس لیتا ہے آپ ریکارڈ چیک کریں ہزار نوٹس لے چکے پھر میاں نواز شریف کی ہدایات سامنے آتیں کہ بجلی کے بل کم کریں اس پر توصیفی ٹویٹ شروع ہوتے مگر حقیقت آپ کا وہ بجلی کا بل جو آپ کے گھر آ رہا ہے
بتائیں وہ بل ان چار سالوں میں کتنا کم ہوا ہے ؟