الفدس کے شہری زیاد سلطان اپنا گھر خالی کرتے ہوئے۔ اس دو منزلہ خوبصورت گھر کو قابض انتظامیہ نے گرانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ 02جون2026ء
"Citizen of Al-kuds, Ziad Sultan, vacating his home. The occupying administration has issued orders to demolish this beautiful two-story house. June 02, 2026."
#AlQuds #Jerusalem #ZiadSultan #ForcedEviction #HomeDemolition #OppressedWatch #StandWithPalestine #HumanRightsViolations #WarCrimes #MiddleEastCrisis #WorldNews #UrduNews #القدس #فلسطین
"People of Raza! We have seen your passionate participation in the funerals of the leadership, and we have heard your faith-inspiring slogans and words. It is forbidden for us to betray this blood! There is no doubt that these sacrifices are immense, but by the command of Allah, their result will soon emerge in the form of a clear victory.
#Gaza #StandWithPalestine #ClearVictory #OppressedWatch #MiddleEastCrisis #IslamicResistance #WorldNews #UrduNews #غزہ #فلسطین
مزاحمتی قیادت کی مسلسل شہادتیں اور آئندہ منظرنامہ
آپ واچ تجزیہ
--------------------------------------------------------------------------
80ء کی دہائی میں تنظیم آزادی فلسطین کمپرومائز کا شکار ہو کر دم توڑ رہی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ مسئلہ فلسطین دفن ہو جائے گا کہ مزاحمت کی اگلی نسل کھڑی ہو گئی۔۔۔۔چنانچہ پہلے حرکۃ الج ـھـاد الاسلامی اور پھر حـ ماس سامنے آئیں اور مزاحمت کو وہاں لے گئیں کہ سب کے سامنے ہے جبکہ سمجھوتوں کی ماری تنظیم آزادی یا الفتح کا ذکر کم ہی سننے میں آتا ہے۔
اسرائیل نے فدائی حملوں کے عروج کے زمانے میں (غالبا 2004ء)شیخ احمد یاسین اور ڈاکٹر عبدالعزیز الرنتیسی کو آگے پیچھے شہید کیا اور اپنی طرف سے سکھ کا سانس لیا کہ بڑوں کو مار دیا تو اب ان سے کیا ہو سکے گا؟ لیکن ہوا کیا؟ 2006ء تک غزہ کا حال آج کے جنوبی لبنان کی طرح ہو گیا کہ کوئی گلی بازار کسی قابض فوجی کے لیے محفوظ نہ رہا اور ایریل شیرون ایسے قصاب کو غزہ خالی کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔یاد رہے ایریل شیرون نیتن یاہو سے دس ہاتھ بڑھ کر سفاک تھا!
اس کے بعد بدنام زمانہ دیوار کے ذریعے غزہ کا محاصرہ شروع ہوا اور القسام نے خود کو فدائی حملوں سے راکٹ ٹیکنالوجی کی طرف متوجہ کیا اور محمد الصیف کی قیادت میں ایلیٹ یونٹس سے لیکر ڈرون اور سرنگوں سے سائبر وارفیئر تک شدید محاصرے میں سب کچھ حاصل کیا جس کی اسرائیل کو کوئی توقع نہیں تھی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف جذبے اور دوسری طرف سسٹم اور نظام پر بنیاد کرنے والی اکائیاں قیادت کے جانے سے مشکلات کا شکار تو ہوتی ہیں لیکن اگر تنظیمی سٹرکچر اس قابل ہو چکا ہو کہ وہ اپنی مرمت کرتا رہے تو وہ پھر کھڑا ہونے لگتا ہے اور جبکہ اس سب کے پیچھے محض پیسہ یا ہوس اقتدار نہیں ایک ایسا جذبہ ہو جس میں وطن اور دین اور عزت اور غیرت سبھی شامل ہوں تو ایسے میں کارکنان ملنا بند نہیں ہوتے،کیونکہ جذبہ عوام میں مایوسی نہیں انتقام کی سوچ کو بڑھاتا ہے اور عوام سے کارکن اور کارکن سے قیادت کا سرکل قائم دائم رہتا ہے!
اسرائیل کے اب تک کی سب سے بڑی ناکامی عوام کو مزاحمت سے الگ یا بدظن کرنے میں مکمل ناکامی ہے اور اس کا اظہار نیتن یاہو نے خود بھی کئی مواقع پر کیا ہے۔
فرانسیسی صدر میکرون نے 2025ء میں یواین جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر انٹرویو میں کہا تھا حماس کے پاس اس وقت بھی اس کے پاس قریبا اتنی ہی افرادی قوت موجود ہے جتنی جنگ شروع ہونے سے پہلے تھی! آج کل اسرائیلی ذرائع ابلاغ بھی اسی قسم کی رپورٹس دے رہے ہیں کہ تنظیم کے سیاسی اور عسکری دونوں حصوں میں "تھری آر" یعنی ری پیئر، ریکروٹنگ اور ریویو کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
وقت ضرور لگتا ہے اور صبر سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے لیکن کچھ سبق تاریخ کے بھی ہوتے ہیں. الجزائر کی جدوجہد آزادی نے بھی پندرہ لاکھ شہید دے کر فرانس کو نکال کر ہی دم لیا تھا اور عمر المختار کی شہادت کے باوجود اٹلی لیبیا کو ہمیشہ غلام نہین رکھ سکا تھا۔
طوفان الاقصی نے قابض قوت کے قدموں تلے جو زمین کھینچ لی ہے اس کا نام ہے " غیر مشروط امریکی فنڈنگ اور فیولنگ"... یہ ٹرمپ کے موجودہ دور کے بعد کسی طور بھی اس درجے پر نہیں رہنے والی جیسا کہ اس وقت دکھائی دیتی یے،ایسے ہی نیتن یاہو ایسے شاطر نے اسلحہ میں خودمختاری کی باتیں شروع نہیں کر دیں کیونکہ یہ سیناریو اندھے کو بھی دکھائی دے رہا ہے۔۔۔۔۔ دوسرے نمبر پر حماس کے سرکردہ لوگ یہ بات بھی کرتے ہیں کہ نیتن یاہو کے موجودہ الیکشن تک یہ آن اینڈ آف بمباری کی صورتحال جاری رہے گی،الیکشن کے بعد شاید حالات میں کچھ تبدیلی آ سکے۔ یہ الیکشن اکتوبر میں ہونے تھے لیکن اب ان کو قبل از وقت منعقد کروایا جا رہا ہے۔
اس سرنگ میں روشنی جہاں نظر آ رہی ہے وہ دو یا تین پہلو ہیں۔
اول: اس وقت خطے میں عالمی اور علاقائی فیکٹرز بہت تیزی سے شام اور ترکی کو یکجا کر چکے ہیں اور تاریخ میں پہلی مرتبہ ترکی کی سرحد بذریعہ شام اسرائیل تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ایک قوت بن رہی ہے جس سے اسرائیل نے ٹکرانا ہی ٹکرانا ہے،یہ س کی مجبوری ہے، نہیں ٹکرایے گا تو ترکی شام کو پورے سسٹمز دے رہا ہے،تیزی سے ملٹری ری کنسٹرکشن کر رہا ہے۔۔۔ اسرائیل اپنے پڑوس میں کسی فوجی قوت کو پھلتے پھولتے نہیں دیکھ سکتا،اس لیے اس نے لڑنا ہی ہے! عبرانی اخبارات ہوں یا سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ ہوں یا مشہور جاسوس جوناتھن پولارڈ ۔۔اسرائیل میں ہر طرف ترکی کے خطرے کو اسی لیے ڈسکس کیا جا رہا ہے کیونکہ بظاہر اردگان شام سے پیچھے ہٹنے والا نہیں اور اسرائیل جس نے موجودہ انقلاب کے ایک ہفتے کے اندر پانچ سو کے قریب حملے کر کے سب فضائی اور زمینی بھاری اسلحہ تباہ کیا تھا تاکہ موجودہ حکومت کے ہاتھ نہ لگ سکے وہ یہ گوارا کیسے کر سکتا ہے کہ ترکی سے جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ ہر لیول پر شام کو مضبوط کرتا رہے!
ابھی تک ٹیکنالوجی کے میدان میں اسرائیل کو برابر کی ٹکر نہیں ملی ہے اور ترکی اس حوالے سے خاصا ترقی یافتہ ہے پلس وہ اپنے ہتھیار خود بنا رہا ہے جبکہ شام گوریلا جنگ کا طویل تجربہ اور جذبہ رکھتا ہے،
اب جو غاصب قوت ایران کے سامنے بارہ روزہ جنگ میں نہیں ٹک سکی تھی وہ ترکی اور شام کے اس مشترکہ پوٹینشیل کا مقابلہ کر جائے،خاصا مشکل ہے! ابھی تک ترکی حماس وغیرہ کو ٹیکنالوجیکل مدد شاید نہیں دے رہا لیکن اگر اسرائیل رخ اس کی طرف کیا تو یہ کوئی دور کی بات بھی نہیں ہے۔
دوم:
دوسرا پہلو موجودی ایران جنگ اور اب لبنان پر جارحانہ قبضے کی پالیسی ہے جو تیزی سے شیعہ اور سنی محوروں(Axis) دونوں کو اس طرف لا رہی ہے کہ یہ اسرائیل کے خلاف کسی نہ کسی سطح پر کوارڈینیشن کرنے پر مجبور ہو جائیں کیونکہ اسرائیل نے انہیں برابر تولنا شروع کر دیا ہے تو۔عین ممکن ہے اب ترکی اور ایران ایک دوسرے سے کم از کم اس حوالے سے تعاون پر خود کو مجبور پائیں اور ان دو کا تعاون اسرائیل کے علاج کے لیے کافی و 'شافی' ہو سکتا ہے، واللہ اعلم
اس تناظر میں مزید دیکھیں تو ایران جنگ کے دوران احمد الشرع نے امریکی خواہش پر حزب اللہ کے خلاف استعمال ہونے سے انکار کیا ہے اور دوسری طرف حزب کے کچھ ارکان پارلیمنٹ کی گفتگو بھی عرب میڈیا میں زیر بحث رہی ہے جس میں 'الاخ' احمد الشرع کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔۔۔(اس پر ایک مبصر کا تبصرہ تھا کہ یہ ایک ابتدا ہے اور اس میں برکت کی دعا بہرحال کی جا سکتی ہے! )
بات خاصی لمبی ہو گئی مقصد یہ تھا کہ مایوسی سے زیادہ قابض رہاست کے خلاف وہ امکانات وہ ہیں جو طوفان اقصی کے زلزلے نے بالکل نئی Equations کی صورت میں سامنے رکھ دیے ہیں،ان میں کچھ دیر ہو تو ہو اندھیر بہرحال دکھائی نہیں دیتا۔
یادش بخیر شیخ یاسین نے اپنے آخری انٹرویو میں احمد منصور کے سوال پر کہا تھا کہ میں اسرائیل کو 2027ء تک فنا ہوتا دیکھتا ہوں،پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگے پہلی نسل قبضے کو برداشت کرتی ہے، دوسری مزاحمت اور مقاومت کو کھڑا کرتی ہے اور تیسری نسل اس مزاحمت کی گود میں پل کر اتنی توانا ہو جاتی ہے کہ استعمار کی دھجیاں اڑادیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ !
اب وہی وقت ہے اور یہ 'مزاحمت کی جین زی' ہے!
شب کے سفاک خداؤں کو خبر ہو کہ نہ ہو
جو کرن قتل ہوئی شعلہ خورشید بنی
#فکر #تجزیہ #discussion #معاشرہ #تاريخ See less
آفیشل رپورٹس کے مطابق کینیڈا نے 2025ء میں ازرائیل کو 10.7 ملین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔
ٹی آر ٹی عربی
"According to official reports, Canada sold $10.7 million worth of weapons to Izrael in 2025. — TRT Arabi"
#Canada#ArmsTrade#OppressedWatch#WarCrimes#TRTArabi #StandWithPalestine #HumanRightsHypocrisy #StopGenocide #MiddleEastCrisis #WorldNews #UrduNews #جنگی_جرائم #کینیڈا