عمران خان اس شدید گرمی میں پسینے سے شرابور ایک آنکھ گنوا کر سلاخوں کے پیچھے قید تنہائی کی زندگی گزار رہا ہے!!
خان صاحب مذاکرات کرکے آپنے بچوں کے پاس چلے جائیں
ملک قوم اور پارٹی بھاڑ میں جائے
پاکستان کا ایک ایسا علاقہ ہے جسے چار ممالک کا بارڈر لگتا ہے جسے ہم گلگت بلتستان کہتے ہیں۔ یہ ہمارا گلوبل فلیش پوائنٹ علاقہ ہے جسے ہم نے سیلف گورننس آرڈر دیا ہے جس کے تحت انتخابات ہوتے ہیں۔ لیکن جو انتخابات اب ہو رہے ہیں، وہاں جو کچھ کیا جا رہا ہے اس پر چند پوائنٹس رکھتا ہوں۔
پہلا یہ کہ وہاں بجائے نگران حکومت کے موجودہ حکومت کو کہا گیا کہ تم انتخابات کرواؤ۔ دوسرا، گلگت کے ساتھ لگنے والا صوبہ خیبر پختونخوا ہے، وہاں سے پولیس بلانے کی بجائے پنجاب پولیس کیوں بلائی گئی؟ آپ نے اس پولیس کو چنا جو مقابلوں کے لیے بدنام ہے اور ایک بدنام زمانہ خاندان کے زیر اثر ہے۔ اس پولیس نے جاتے ہی خیبر پختونخوا کے بارڈر پر ناکہ لگا دیا۔
ڈاکٹر بابر اعوان
@BabarAwanPK y
@siasatpk@mohammedhanif چاہنے والے تیرے ہزار ہوں گے
کہاں سارے تیرے وفادار ہوں گے
کچھ جان لینے والے ملیں گے
کچھ تیرے جانثار ہوں گے
انا پرستوں سے پالا پڑے گا
چہرے مگر خاکسار ہوں گے
عمران خان صاحب پتہ نہیں کتنے سالوں سے جیل میں ہیں۔ انہوں نے پتا نہیں کوئی سبق سیکھا ہے یا نہیں سیکھا، لیکن ایک بات ضرور سمجھ آ گئی ہوگی کہ جو قوم میرے پیچھے لگی ہوئی تھی، وہ میرے جیسے بڑے لیڈر کو Deserve ہی نہیں کرتی۔ محمد حنیف
#pakistan@mohammedhanif
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
چاہنے والے تیرے ہزار ہوں گے
کہاں سارے تیرے وفادار ہوں گے
کچھ جان لینے والے ملیں گے
کچھ تیرے جانثار ہوں گے
انا پرستوں سے پالا پڑے گا
چہرے مگر خاکسار ہوں گے
دیکھنا دشمن کی پہلی صف
سامنے تیرے یار ہوں گے
#پاکستان_کو_رہا_کرو
پاکستان میں انتہائی شرمناک #AsimLaw کی ایک جھلک. ہماری قومی یکجہتی کو ایک ایسے شخص کی وجہ سے خطرے میں ڈالا جا رہا ہے جس کا واحد مقصد عمران خان اور ان کی جماعت کو کچلنا ہے.
رجیم چینج کے وقت ایک شہزادے نے کہا تھا کہ اگر مجھے نکالا گیا تو میں یہ نہیں پوچھوں گا کہ مجھے کیوں نکالا، میں بتاؤں گا کہ مجھے کیوں نکالا، اور پھر اس نے ایسا بتایا کہ ان کی سات نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ عتیق ریاض
#pakistan@attique_riaz06
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
عمران خان کے حلقہ میانوالی میں خٹک بیلٹ پہاڑی علاقے میں 5 ارب سے زائد کا ایک بڑا پانی کا منصوبہ نون لیگ کی حکومت نے روک رکھا ہے کیونکہ یہ منصوبہ عمران خان کا تھا۔
اس منصوبے سے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو گھر کی دہلیز پر صاف پانی ملنا تھا لیکن اب کام روکنے کی وجہ سے لوگ ان تالابوں سے پانی پی رہے ہیں جہاں جانور بھی پیتے ہیں۔
حکومتی انتقامی سیاست نے ترقی کا پہیہ روک دیا ہے، جبکہ عوام اس کی قیمت پیاس، بیماری اور محرومی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
‼️جون 7، 2026 - گلگت بلتستان‼️
گلگت بلتستان کے بہادر اور غیور بہنو اور بھائیو!
7 جون کسی عام الیکشن کا دن نہیں۔ یہ دن آپ کے حوصلے، ہمت، اجتماعی شعور اور غیرت کے امتحان کا دن ہے۔
ایک طرف پاکستان کی اشرافیہ اور مٹھی بھر لوگ، مختلف سیاسی پارٹیوں کے بہروپ میں، وسائل، پیسے اور بندوق کے زور پر آپ پر غلاموں کے غلام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب کے سب، طاغوت، استعمار اور سیہونی طاقتوں کے غلام ہیں اور اپنی زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ یہ بھکاری ہیں اور بھکاریوں کی کوئی چوائس نہیں ہوتی۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کی زندگی کی ڈور کفار کے ہاتھ میں ہے اس لئے انہیں ان کی غلامی کرتے رہنا ہے اور دوسری طرف وہ مرد مسلمان ہے جس نے تن تنہا اس دنیا کے تمام زمینی خداؤں کا للکار کر صرف لا الہ الاللہ یعنی حقیقی آزادی کا نعرہ لگا کر طاغوت کو ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی ہمت اور حوصلہ دیا اس قوم۔کو اور عمل کر کے دکھایا۔
اگر آپ کو نسل در نسل غلامی قبول ہے تو بے شک ان غلاموں کے غلاموں کو ووٹ دیں لیکن اگر آپ ایک خدا کو مانتے ہوئے دنیاوی خداؤں سے انکار کرتے ہیں اور اللہ کے آزاد بندوں کی طرح خودداری اور خود مختاری کے ساتھ با عزت اور باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے اس دور کے سچے عاشق رسول کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ووٹ دے کر اپنی خودمختاری کا سودا ہونے سے بچائیں۔
یقینا" ایک طرف سرمایہ، طاقت، بڑے بڑے نام اور سبز باغ دکھائے جائیں گے اور دوسرا راستہ شاید مشکل ہو لیکن وہی حق کا راستہ ہے
ہمیں نہ صرف امید اور توقع ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے بلکہ اپنی جیت کے نتائج کا تحفظ بھی کریں گے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
ہم سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ گئے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ جب ہم عدالت میں جاتے ہیں کہ آپ کے احکامات کی توہین ہو رہی ہے اور یہ آپ کی بے عزتی ہے تو عدالت اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ کوئی ایکشن نہیں لیتی۔ چیف جسٹس ہم سے ملاقات کرنے کو تیار نہیں، وزیراعلیٰ کے سلام کا جواب تک نہیں دیتا۔ جب تمام راستے بند کیے جا رہے ہیں تو ہمارے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے اور وہ مزاحمت کا ہے۔
شفیع جان
@ShafiJanPTI
🚨کل بھارت میں Gen Z کی جانب سے وزیرِ تعلیم کے خلاف احتجاج ہونے جا رہا ہے۔ یوٹیوبر ‘Dhruv rathee’ نے بھی احتجاج میں شرکت کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ اپنے موبائل سے ویڈیوز بنائیں تاکہ مودی کے غنڈے کوئی حرکت نہ کر سکے۔
یہ 1982 لبنان ہے۔ نہ حزب اللہ وجود میں تھی، نہ حماس۔۔۔ تب بھی اسرائیل لبنان پر حملہ کرتا تھا اور لوگوں کو مارتا تھا۔۔ آج 2026 ہے اور اسرائیل وہی کر رہا۔۔۔
آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے پچھلے سال جموں کشمیر عوامی جائینٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے الیکشن قریب آیا تو اس معاہدے کو فراموش کر کے پرانے تنازعات دوبارہ کھڑے کئے جا رہے ہیں جس کے باعث 9 جون کو پھر ہڑتال ہو گی
12 مہاجرین نشستیں:
نمائندگی یا سیاسی انجینئرنگ؟
آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ
آخر 12 مہاجرین نشستوں کا مقصد کیا ہے؟
اگر یہ نشستیں واقعی مہاجرین کی نمائندگی کے لیے ہیں
تو پھر ان کا کردار ریاست کے عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کرنے، حکومتیں بنانے اور گرانے،
اور سیاسی سودے بازی کا مرکز کیوں بن جاتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ نشستیں آزاد کشمیر کے اندر بسنے والے عوام کے
حقِ حکمرانی پر ایک مستقل سوالیہ نشان ہیں۔۔
وہ لوگ جو ریاست کی جغرافیائی حدود سے باہر رہتے ہیں،
جن پر آزاد کشمیر کے قوانین نافذ نہیں ہوتے اور جو روزمرہ ریاستی مسائل کا سامنا نہیں کرتے،
انہیں ریاست کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کن اختیار دینا جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔۔
ان نشستوں کے ذریعے نہ صرف انتخابی عمل کو متاثر کیا جاتا ہے
بلکہ عوامی مینڈیٹ کو بھی کمزور کیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہر انتخاب کے بعد یہ نشستیں عوامی نمائندگی کے بجائے
اقتدار کی سیاست کا ہتھیار بنتی نظر آتی ہیں۔۔
12 مہاجرین نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کسی فرد، جماعت یا مہاجر برادری کے خلاف نہیں
بلکہ ایک غیر فطری اور غیر جمہوری سیاسی بندوبست کے خلاف ہے۔
ریاستی شناخت اپنی جگہ برقرار رہے گی،
مگر عوامی مینڈیٹ پر مسلط ایک اضافی سیاسی ڈھانچے کا خاتمہ ہو گا۔۔
حقِ حکمرانی کا اصول واضح ہے:
ریاست کے فیصلے وہی لوگ کریں جو ریاست میں رہتے ہیں،
ریاست کے قوانین کے تابع ہیں اور ریاست کے مسائل کا براہِ راست سامنا کرتے ہیں۔۔۔
گولیاں ماری گئیں
بلاوجہ غیر قانونی عدالت کے احاطے سے تضحیک آمیز طریقے سے گرفتار کیا
کیوں کیونکہ اسں بزدل ڈرپوک بے حس احسان فراموش مطلبی قوم و ملک کو 75 سالہ غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانا چاہتا تھا
جو اب اڈیالہ میں ایک ہزار دنوں سے
مشکلوں تکلیفوں اذیتوں والی زندگی گزار رہا ہے
صرف نشان بدلا ہے ایمان نہیں بدلا
گلگت بلتستان کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدواران کے نشانات پر مبنی انتہائی زبردست AI ویڈیو۔
جس نے بھی بنائی ہے اسکو خراج تحسین ہے