✨Proud to be a MUSLIM
✨ نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
✨ چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
✨MIND OVER MATTER; I Don't Mind & They Don't Matter✨PTI
کبھی آرام سے بیٹھ کر سوچیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ جب کوئی عمران خان جیسا عالمی لیول کا سلیبرٹی جو کہ دنیا کے کسی ملک میں جا کر رہنا شروع کر دے تو اسے میڈیا اٹھا لے- وہ اپنی مرضی سے جیل اپنی قوم کے لئے جیل کی تنگ کوٹھڑی میں گرمیوں اور سردیوں میں رہنا قبول کر لے اور کوئی سمجھوتا نہ کرے تو یہ کتنی بڑی قربانی ہے؟
#1000DaysKhanUnbroken
عوام دشمنی کی انتہا، فارم 47 کی مہنگائی: سرکار نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 26.77 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے گھروں میں فاقہ کشی کا پروانہ ہے۔ مینڈیٹ چوری کے ذریعے مسلط کردہ اس حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے پاس معاشی بحالی کا کوئی منصوبہ نہیں، سوائے غریب کا خون نچوڑنے کے۔
Wow, this is HUGE!
To keep it short, Mardan Kaptaan Ka aur Pakistan Kaptaan Ka!
Imran Khan & Awaam - still the greatest love story of our times!
#MardanJalsa
India: 🇵🇰, 🇵🇰, 🇵🇰
Israel: 🇮🇷 , 🇮🇷, 🇮🇷 ,🇮🇷
PMLN: IMRAN KHAN, IMRAN KHAN, IMRAN KHAN
All of them are obsessed & behave like a toxic ex
#BehindYouSkipper#امن_کا_علمبردار_عمران_خان
اپریل 2022 تا اپریل 2026 تباہی کا سفر: ریکارڈ قرضے اور ڈوبتی معیشت۔ وہ جو معیشت بچانے آئے تھے، انہوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دفن کر دیا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق وفاقی حکومت کے قرضے بڑھ کر نئی بلند ترین سطح 79,882 ارب روپے پر پہنچ گئے۔ گزشتہ ایک سال میں 6,846 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ماہ فروری 2026 میں ایک ماہ کے دوران قرضہ 555 ارب روپے بڑھا۔
عمران خان کی حکومت کو جس "معاشی بہتری" اور "مہنگائی ختم کرنے" کے نام پر ہٹایا گیا تھا، اس کا نتیجہ آج ہر پاکستانی بھگت رہا ہے۔ 9 اپریل 2022 کے بعد سے شروع ہونے والا یہ لاقانونیت اور فسطائیت کا سفر آج ملک کو اس مقام پر لے آیا ہے جہاں ہر روز اربوں روپے کا نیا قرضہ لیا جا رہا ہے، جی ڈی پی جمود کا شکار ہے اور عام آدمی کی کمر مہنگائی اور ٹیکسوں نے توڑ دی ہے۔
یہ اعداد و شمار ثابت کر رہے ہیں کہ جب ملک میں آئین اور قانون محض ایک شخص کو جھکانے کے لیے تبدیل ہونے لگیں اور عوامی مینڈیٹ کے حامل لیڈر کو دیوار سے لگا کر نااہلوں کو مسلط کیا جائے تو معیشت اسی طرح وینٹی لیٹر پر چلی جاتی ہے۔
یہ پوچھتے ہیں کہ عمران خان کے سوشل میڈیا کو چار سال میں ختم کیوں نہیں کر پائے اتنی طاقت استعمال کرنے کے باوجود۔
ایک چھوٹا سا جواب تو یہ ہے کہ ایک طرف سچ ہے اور دوسری طرف جھوٹ کا مکان اور منافقت۔ قدرت کا نظام ان میں سے ایک چیز سپورٹ کرتا ہے۔
کچھ منافقت بھرے عسکری دعوے سنیں:
۱) عمران خان کی بہنوں کو اس لیے نہیں ملنے دیا جاتا کیونکہ وہ سیاسی پیغام لاتی ہیں۔ مگر سلمان صفدر کو سیاسی پیغام بدھ کے روز جیل کھلوا کر بھیجا جا سکتا ہے اور ایک سیاسی فیصلہ (جلسہ منسوخ کرنے کا) واپس لایا بھی جاسکتا ہے؟
۲) نسیم شاہ کو دو کڑور روپے جرمانہ اس لیے ٹھیک ہے کیونکہ سینٹرل کانٹریکٹ کے مطابق وہ سیاسی بیان نہیں دے سکتے۔ مگر شاہین شاہ لمبے سیاسی ٹویٹ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ خد کافی لمبے ہیں؟
۳) ۹۰ فیصد پاکستان کو اپنی سیاسی رائے دینے کی اجازت نہیں مگر جب وہ کسی واقعے پر کچھ نا لکھیں تو ان کو پاکستان دشمنی کا لیبل؟ ویسے اس والی منافقت سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ پی ٹی آئی والوں کی شاباشی کے بغیر ان کی خوشی ادھوری سے بھی کم ہے، سارا دن عمران خان اور پی ٹی آئی کو یاد کرتے رہے!
۴) ۹ اپریل کو سیاسی جلسہ کرنا ملک دشمنی ہے لیکن ملک کے سب سے بڑے ہیرو کو ۲۴ گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھ کر ذہنی ٹارچر کرنا ملک دشمنی نہیں؟
۵) عمران خان سے ملاقاتوں کے متعلق عدالتوں کے فیصلے روندنا ملک سے وفاداری ہے مگر اگر کوئی عوام کے ووٹ چوری کرنے والے اور نہتے پاکستانیوں پر گولیاں چلانے والے کی نشاندہی کرے تو وہ غدار؟
یہ تو چند حالیہ باتیں ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں روز ہی کوئی اس طرح کی بات ہوتی ہے۔ اسی لیے پاکستانی سارے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ سچ جھوٹ اور منافقت ٹھیک طرح سمجھتے ہیں۔ بھروسہ ہی نہیں ان کو اب عسکری سورسز پر اور حکومت پر۔ سال میں کوئی ایک اچھا کام کر بھی لیں تو وہ پہلے پی ٹی آئی سے ویریفائی کرتے ہیں۔
جو لوگ اپنا مورل پاور کھو دیتے ہیں وہ مکمل کنٹرول اور بندوق کی طاقت کے باوجود بھی رسوا ہوتے ہیں۔
سچ کے دفاع میں سچ خود ہی کافی ہے اور جھوٹ کا دفاع کیا نہیں جاسکتا زیادہ دیر تک۔ عسکری اور ن لیگی جو کوشش کرتے ہیں وہ دن میں صرف ۸ گھنٹے ہی کر کے فیل ہوتے ہیں، اور ویسے بھی وہ آجکل پاسپورٹ لے کر Mexico گئے ہوئے ہیں :)
عمران خان اور پاکستان کے سوشل میڈیا ٹائیگرز اورٹئیگریسز اس جدوجہد کے بڑے ہیروز ہیں جو ہر گراؤنڈ ورکر کے لیے اور ہر ظلم کے خلاف روز آواز اٹھاتے ہیں۔
Govt last night raised petroleum levy (tax) on petrol by Rs 55 per litre. These are the taxes our govt is charging on every litre of petrol:
Custom Duty: Rs 24.12
Climate Levy: Rs 2.50
Petroleum Levy: Rs 160.61
Total govt taxes: 187.23
Govt taxes are 40.8% of the petrol price of Rs 458.41.
عمران خان کا جیل میں ہونا اس وقت کم از کم ۹۵ فیصد پاکستانیوں کے لیے رنج، غم اور پریشانی کا باعث ہے۔ تین سال اس کیفیت میں رہ کر بھی جو لوگ جدوجہد نہیں چھوڑ گئے ، ان سب کے لیے دل میں بہت عزت ہے۔ بس یہ ارادہ رکھیں کہ جیت کے اعلان سے پہلے ہمت نہیں ہارنی! #ImranKhanUnlawfullyDetained