صباح الخیر 💫
سونے سے پہلے بھی سیٹنگ کرو صبح سونے کے بعد بھی سیٹنگ کرنی پڑتی ہے ہمارے تو کام بھی نہیں ختم ہوتے حالانکہ اج اتوار تھا میں نے کہا تھا نیند پوری کروں گی
Breastfeeding a child is a completely natural and sacred act, and there is nothing wrong with it. However, in public places, especially in an environment like an airplane, it is also important to respect the privacy and comfort of others.
The air hostess only asked the woman to cover herself, but the woman responded by saying, “I will not cover myself.” Unfortunately, this is quite disappointing. Freedom does not mean ignoring the feelings of others or disregarding social values.
#Viralvideo
A mother has every right to breastfeed her child, but doing so with appropriate covering can make the moment more respectful and dignified for everyone. ❤️
جب تم اپنی بانہوں میں مجھے یوں سمیٹ لیتے ہو، تو دل کو ایسا سکون ملتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو، دنیا خاموش ہو گئی ہو، اور کائنات کی ساری خوشیاں بس اسی ایک لمحے میں سمٹ آئی ہوں۔ ♥️✨
ساہیوال سول اسپتال: جہاں بیمار ماں لانا بھی “قصور” بن گیا
ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے او پی ڈی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تو پورے علاقے میں غم و غصہ پھیل گیا۔ ویڈیو میں ہسپتال کے کوریڈور میں ہجوم، ہاتھا پائی، کپڑے پھٹے ہوئے شخص اور لوگ موبائل پکڑے ریکارڈ کر رہے ہیں۔ یہ کوئی عام جھگڑا نہیں تھا۔ یہ وہ منظر تھا جہاں ایک بیٹا اپنی بیمار ماں کا علاج کرانے آیا تھا اور عملے کی جانب سے مکوں اور گھونسوں کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق فتح شیر کالونی کے رہائشی محمد وقار اپنی والدہ کو بہن زاہدہ بی بی کے ہمراہ علاج کے لیے ہسپتال لائے۔ پرچی لینے کے لیے کمپیوٹر ڈیٹا آپریٹر صلاح الدین سے بات ہوئی تو تلخ کلامی ہوگئی۔ الزام ہے کہ ملزم نے وقار کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا، تشدد کیا، پرچی دینے سے انکار کیا اور اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ دو دیگر ورکرز نے بھی مبینہ طور پر اس میں حصہ لیا۔ ویڈیو میں “Shaheen Janitor” کی یونیفارم والے عملے کا بھی دکھائی دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ صرف ایک شخص تک محدود نہیں تھا۔
لوگوں نے احتجاج میں وہی جملہ دہرایا جو اس واقعے کا خلاصہ بن گیا: “ایک تو چوری، اوپر سے سینہ زوری۔” یعنی پہلے بدسلوکی، پھر طاقت کا مظاہرہ۔ شہریوں نے ملزمان کی گرفتاری تک پرچی کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی بھی دے دی۔
تھانے میں کرسی پر بیٹھتے ہی کچھ اہلکار یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ عوام کے حاکم نہیں، عوام کے ملازم ہیں؟
وردی عزت کی علامت ہے، مگر یہ کسی شہری کی تذلیل، بدتمیزی یا بلاوجہ رعب ڈالنے کا لائسنس نہیں۔
یہ اختیار ہمیشہ نہیں رہنا۔ آج SHO ہے تو کل کوئی اور ہوگا۔ عہدے بدل جاتے ہیں، مگر لوگوں کے ساتھ کیا ہوا سلوک یاد رہتا ہے۔
پولیس کو عوام سے خوف نہیں، عوام کا اعتماد چاہیے۔
عوام کے محافظ بنیں، عوام کے باپ نہیں
یہ ویڈیو مہاراشٹر کے اکولہ ضلع کے ایک گاؤں کی ہے۔ زمین کے جھگڑے میں ایک شخص نے بولیرو گاڑی گھر پر بار بار چڑھا دی، جس سے ۷۵ سالہ خاتون گھر کے اندر ہی جاں بحق ہو گئیں اور کئی زخمی ہوئے۔ انتہائی افسوسناک اور ظالمانہ واقعہ ہے۔