"بیرسٹر گوہر نے ہمیں 26 نمبر چونگی پر بتایا کہ انہیں محسن نقوی کی کال آئی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر نورین نیازی اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو درخواست دیں تو عمران خان سے ملاقات کروائی جا سکتی ہے۔
جب ہم نے اس معاملے پر اپنے وکلاء سے مشاورت کی، تو انہوں نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کار بالکل غلط ہے۔ سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ کا واضح حکم نامہ موجود ہے جس کے تحت 18 افراد کو ملاقات کی قانونی اجازت ہے، اور جیل انتظامیہ اس حکم نامے کی صریح خلاف ورزی کر رہی ہے۔
ہم آج صبح سے عدالت میں اسی لیے موجود تھے کہ عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے۔ ہمارا مطالبہ صرف ایک ملاقات نہیں، بلکہ ان کے تمام بنیادی اور قانونی حقوق کی مکمل بحالی ہے۔ عمران خان کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ سلوک سراسر ایک جرم ہے۔ جہاں تک ہمارے جانے کا تعلق ہے، تو وہ صرف اے آر وائی نیوز کی ایک خبر تھی کہ نورین نیازی اور بیرسٹر سیف جا رہے ہیں، ہمیں براہِ راست (ڈائریکٹ) کسی نے بھی ملاقات کی کوئی یقین دہانی نہیں کروائی۔"
— علیمہ خان
فی دوکاندار نے 60000 روپے دیے ہیں اپنی جیب سے لوگوں نے بنایا ہے کیونکہ ادھر میری بھی شاپ ہے مینے بھی 60000 روپے دیے ہیں جو نہی دیتا تھا دوکان سیل کر دیتی تھی انتظامیہ اور پبلکسٹی مریم نواز اپنی کر رہی
چیئرمین عمران خان نے ۹ مئی کے واقعات (جلاؤ گھیراؤ وغیرہ) کی آزادانہ تحقیقات پر اصرار کیا اور پیہم تکرار سے اپنا یہ مطالبہ دہرایا۔
انہوں نے اپنے اس مؤقف کا تسلسل سے اعادہ کیا کہ یہ ایک ”فالس فلیگ آپریشن“ تھا جس کی آڑ میں پاکستان تحریک انصاف کیخلاف بدترین کریک ڈاؤن کی ابتداء کی گئی اور جسے بنیادی انسانی و شہری حقوق پامال کرنے کے ایک جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔
اس ویڈیو میں موجود مناظر ثابت کرتے ہیں کہ کیسے ۹ مئی کا یہ فالس فلیک آپریشن درحقیقت پاکستان تحریک انصاف ہی کے خلاف ایک سازش تھا!
#PTISMT
یہ مناظر زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گے۔ آنسو گیس کے (تکلیف دہ) اثرات زائل کرنے کیلئے سر پر پانی انڈیلتے اور دیوانہ وار جھومتے ہوئے بلند کی جانےوالی آزادی کی یہ والہانہ اور پرجوش صدائیں! ماشاءاللہ ایک قوم بالآخر بیدار ہو رہی اور آزادی مانگ رہی ہے۔
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
My sons Sulaiman & @kasim_khan_1999 applied for visas in January (again… ) to allow them to visit their father @ImranKhanPTI in Pakistan. The Pakistan consulate states that online visa processing normally takes 7–10 working days. It has now been 60 days. This despite the public promise that they could safely travel there to see their father after 4 years, made by both Defence Minister @khawajaMAsif to @mehdirhasan & PM spokesperson @mosharrafzaidi to @SkyYaldaHakim
Meanwhile, they are not allowed to speak to him on the phone, nor send him a letter. They haven’t seen him since 2022 after he was shot in an assassination attempt.
This is an appeal directly to Pakisan’s PM @CMShehbaz to please allow Imran Khan’s two sons to see their father asap, particularly since, by all accounts, his health is in decline.
اگر ایران کا کنٹرول آبنائے ہرمز اور ایران کے اتحادی یمن کے حوثیوں کا کنٹرول آبنائے باب المندب پر کچھ ہفتے برقرار رہا تو ایران امریکہ، اسرائیل اور عربوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔
چار دنوں سے ایران آبنائے ہرمز پر حکومت کر رہا ہے۔ اور حوثی باب المندب سے گزرنے والے جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔ انرجی کے ان choke points پر ایران کا کنٹرول رکھنا جنگ جیتنے کے لئے اشد ضروری ہے۔ اور امریکہ ان کو کھلوانے کے لئے کسی حد تک جا سکتا ہے۔ جنگ ایک حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
وہ امریکا کا دشمن ہے ہم امریکا کے یار
وہ خدا کو نہیں مانتے ہم خدا پر جان دیتے ہیں
ان کے پاس ڈالرز کے امبار ہیں اور ہم کنگال
وہاں کرپشن کرنے والے کو تختہ دار پہ لٹکایا جاتا ہے اور یہاں مسند اقتدار پہ بٹھایا جاتا ہے۔ آپ سمجھیں یہاں کس کی بات ہورہی ہے؟ نہیں تو آج شام سات بجے ہم ایک بہت ہی خاص ڈاکیومنٹری رلیز کریں گے۔ وہ دیکھ کہ سمجھ جائیں گے۔
Dedicating this song to Shaheed Ali Bilal, known affectionately as Zille Shah. He loved his country in a very special way. His violent death through custodial torture shows the depths to which the corrupt, ruthless & cruel ruling elite has sunk.
۲/۲
آخری بات، ”میں اکیلا ہوں“ اُس رات عمران خان کا کہا آخری جملہ نہیں تھا، انہوں نے کہا؛ ”یہ میری کور ٹیم ہے، اگر یہ ہی حق میں نہیں ہے میں باہر والوں کا تو مقابلہ کرسکتا ہوں، میں اپنے لوگوں سے تو نہیں لڑ سکتا“۔ یہاں عمران خان نے خدانخواستہ سرینڈر نہیں کیا، تاریخ دیکھ رہی ہے، عمران خان نے سرینڈر نہیں کیا۔ عمران خان نے اپنی صفوں سے لڑنے سے انکار کیا (مگر ہم کیا کررہے ہیں شب و روز؟)۔ عمران خان نے اپنوں سے لڑنے سے انکار کرکے قوم کے اصل دشمنوں کا پردہ چاک کیا، پھر جو جو عمران خان کے نظریے کا بوجھ اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے تھے وہ الگ ہوتے گئے۔ آگے بھی ہوتے جائیں گے۔ میں اس وقت اپنی رائے میں غلط نہیں تھا، مگر عمران خان کا حتمی فیصلہ تاریخ نے درست ثابت کیا (اور اسی لیے میں ہمیشہ لیڈر کی فہم اور فیصلے کو اپنی سوچ پر فوقیت دینے پر زور دیتا ہوں، چاہے اس کی پشت پر محرکات اور وقتی اثرات کچھ بھی ہوں)۔
کتابیں، تاریخ، واقعات صرف اس لیے نہیں تحریر اور بیان کیے جاتے کہ حقائق سامنے لائے جائیں ان کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم ان سے سبق حاصل کریں۔ سیکھیں دوسروں کے تجربے سے، ان کے صحیح اور غلط فیصلوں سے۔ میری گزارش ہوگی کہ آپ اس تحریر کو بھی اس تناظر میں دیکھیں۔
ابھی تک عموماً بُک سٹورز کتاب رکھنے پر تیار نہیں ہیں، ماسوائے چند ایک کے۔ ہم اپنے ذاتی نیٹ ورکس کے زریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اور انشاء اللہ جلد ہی آپ کو اس کا ای ورژن بھی میسر ہوگا۔
زمانہ طالب علمی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے عام آدمی پر اثرات اور ریاست کے دوغلے کردار پر لکھنا شروع کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر، نومبر ۲۰۲۵ میں پرننٹنگ کے لیے روابط کا آغاز کیا تاہم ہر جگہ سے انکار ہوا۔ بلآخر ایک دوست جو اس وقت خود بھی مشکلات کا شکار ہیں نے مدد پر آمادگی ظاہر کی اور بہت تگ و دو کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی مکمل رازداری میں کی محنت سے یہ پراسس مکمل ہوا۔ میرے لیے یہ انتظار نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ میرا مقصد ملک کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے والوں کے خلاف بروقت تنبیہہ کرکے مزید جنازے روکنا تھا جس کا حتمی آغاز ضلع خیبر کے علاقے تیرہ سے ہونے جارہا تھا۔ تین سال پہلے جس جنگ کی پیشنگوئی کی تھی آج وہ شروع ہوچکی ہے۔ آج اگر ان حالات میں بھی مالاکنڈ نسبتاً پرامن ہے تو الحمدللہ ہماری بروقت امن تحریک اس کا وسیلہ بنی۔آپ کہیں گے پرانی باتیں نہ دہراؤ مگر جب مجھے روپوش ہونا پڑا تو درخواست کی کہ اب اس تحریک کا بیڑہ آپ اٹھائیں اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج جب افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو میں یاد دلاؤں گا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کی دہلیز تک ایک اور جنگ لائی جارہی ہے اور آپ کی لاشوں پر بیانیے بنیں گے۔
اللہ کے حکم سے اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر خان صاحب کی گرفتاری کی پہلی کوشش کی ناکامی سے لے کر کتنی مرتبہ وارن کیا ہے کہ پاکستانیو! اپنا فیصلہ کرو آپ نے مرسی کا مصر بننا ہے یا اردگان کا ترکی؟ آپ نے عمران خان کی زندگی پر ہونے والی ہر اٹیمپٹ کی ناکامی کے بعد تالیاں پیٹ کر میری واہ واہ تو کرلی۔ داد تو دے دی۔ میری بات کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات تین ماہ پہلے سے نہیں ہیں، تین سالوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ یہ میں پہلی دفعہ نہیں بتا رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی آپ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے بیانات پر شادیانے بجاتے رہے میں نے نہیں جھنجھوڑا کہ عمران خان بین الاقومی طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کھڑا ہے؟ ان کی لفظی کاروائیوں پر نہ جائیں، عمران خان ان کے منصوبوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ رجیم چینج آپریشن میں شامل کردار اپنی طاقت کو طول دینے کے لیے سب داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، اور آپ نے دیکھا سب داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۴ میں ڈی چوک میں سامنے سے گولیاں سے ماری گئیں، اکتوبر ۲۰۲۵ میں مریدکے میں قتلِ عام ہوا یہ معمولی واقعات تو نہیں تھے لیکن دیدہ دلیری سے ہوئے کیونکہ بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بدلے مکمل چشم پوشی کی کمٹمنٹ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے حوالے سے پالیسی پر آپ کو بارہا بتایا۔ کسی نے تعریف کی کسی نے تنقید کی، کسی نے جلی کٹی سنائیں۔ کسی نے اپنے گریباں میں جھانکے بغیر دشنام طرازی کی۔ رُک کے غور شاید ہی کسی نے کیا۔
نومبر ۲۰۲۵ میں واضح ہوگیا کہ گھر کی دہلیز تک ایندھن پہنچا تو پہلے دیا گیا تھا، اب آگ بھڑکائی جانی تھی۔ تیرہ سے آپریشن کے آغاز کا ارادہ ہوچکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ جنگ کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ نظریاتی سرحدوں کا سودا الگ ہورہا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب مجھ جیسے آباد علاقوں کے پختونوں کو آپریشن کی ہولناکیوں کا اندازہ بھی نہیں تھا عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کے خلاف اٹھنے والی اکلوتی آواز تھا۔ یہ مشن میرے لیڈر کا تھا۔ ابسولوٹلی ناٹ کا فیصلہ میرے لیڈر کا تھا، کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے کسی ہمسایے کے خلاف نہیں استعمال ہوگی۔
میں نے صرف ان عناصر سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں عمران خان کے اس کردار سے تکلیف تھی۔ جو ان کے موقف کے سبب ان کی جان کے درپے ہیں۔ جوں جوں بین الاقوامی قوتوں کی فرمان برداری اور غلامی میں انکے ساتھ کمٹمنٹس پورے ہو رہے ہیں یوں یوں عمران خان کی زندگی کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یوں یوں پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ میرا کام وارن کرنا تھا میں نے کردیا، ایک مرتبہ پھر۔ فیصلہ کل بھی آپ کو کرنا تھا، فیصلہ آج بھی آپ کو کرنا ہے۔
۱/۲
لوگ مررہے ہیں خودکشیاں کررہے ہیں لیکن پنجاب کی زنانیوں کے لیے جہاز خریدنا ضروری تھا۔ مریم نواز کا سیر سپاٹے کا بچپن سے شوق ہے یہ غیر ملکی دوروں پر بھی گئی ہے لیکن وہاں سے لے کر کیا آئی ہے؟، صنم جاوید