کل میاں صاحب نے کہا کہ میں بھی جیل میں تھا اور خان صیب بھی جیل میں ہے۔ میاں صاحب آپ جیل میں نہیں تھے اس بار ہماری حکومت آئی گی تو آپ کو پتہ چلے گا جیل کیا ہوتا ہے۔ جو ظلم آپ نے ہمارے کارکنان اور خواتین کے ساتھ کیا یہ سود سمیت ہم آپ سے لینگے۔ انشاءاللہ۔ :جنیداکبرخان
@PTIofficial
#LoveYouImranKhan
#قومی_مطالبہ_خان_کی_رہائی
ہمارے موجودہ صورتحال ایسی ہی ہے جیسے انگریزی میں “It was the best of times, it was the worst of times” کہتے ہیں۔ مقابل اپنی آخری آخری چالیں چل رہا ہے، سائفر سے جس تنزلی کے سفر کا آغاز کیا تھا؛ عدت جیسے بیہودہ کیس میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے قائد کو قید رکھ کر مقتدرہ اپنی قبر کھود چکی ہے۔ اُس کی ساری امیدیں اب آپ سے وابستہ ہیں۔ آپ ہی ہیں جو اُس کے مردہ وجود کو جینے کا سہارہ دے سکتے ہیں۔ It is the worst of times کیونکہ ہر شاطر دشمن کا بدترین وار اندرونی ہوتا ہے، وہ خدشے، وسوسے، اندیشے اور بدگمانیاں ڈال کر آپ کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ آپ کی صفوں میں مایوسی پھیلاتا ہے۔ آپ کو تقسیم کرتا ہے۔ مگر it is the best of times کیونکہ وہ صرف آپ کے ردعمل پر اپنی ساری امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ اُس کے پاس مزید کوئی داؤ نہیں ہے۔ عمران خان نے ہمیں ۱۴-۱۵ مارچ کو بھی اپنی ڈھال بننے کو نہیں کہا تھا۔ ۱۸ مارچ کو بھی یہ عمران خان کا حکم نہیں تھا کہ قوم گولیوں کے سامنے کھڑی ہو۔ نہ ۹ مئی کو عمران خان نے احتجاج کی کال دی تھی۔ ہر مرتبہ اُس کی قوم اُس کا کارکن خود نکلا تھا۔ تو کیا ۵ اگست کو عمران خان کی گرفتاری اُس کی قوم کی ناکامی تھی؟ کیا عمران خان کا کارکن لڑ لڑ کر تھک گیا تھا جو اُس نے روزِ روشن کی طرح عیاں بدنیتی کے باوجود عمران خان کو ایک بوگس کیس میں گرفتار ہونے دیا؟ نہیں! عمران خان کا کارکن تھکا ہوتا، اُس کی قوم نے ہار مانی ہوتی تو ہماری سامنے ۸ فروری نہ ہوتا۔ نشان چھن گیا، ۱۰۰ اور یاد کرلیے۔ امیدوار اٹھا لیا، ۱۰ اور کھڑے ہوگئے۔ پولنگ والے دن عوام نے جو جنگ لڑی تاریخ کی کتابوں میں تحریر ہوگی۔ ۹ اپریل ۲۰۲۲ اے لے کر آج دن تک کیا کیا نہیں سہا ہم نے تو کیا چار دن اور گولیوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے تھے؟ آج عمران خان ہمارے درمیان ہوتا۔۔ عمران خان کی گرفتاری وہ کڑوی گولی تھی جو ہم نے اپنے کپتان کے حکم پر اُس کے ہم پر لاگو کیے ڈسپلن کے سبب نگلی۔ آپ کو کیا لگتا ہے سردی گرمی میں بنی گالہ سے لے کر زمان پارک تک جو لوگ عمران خان کے لیے کیمپوں میں پڑے رہے تھے۔ جنہوں نے ریاست کی بدترین فسطائیت کا مقابلہ کیا۔ ۱۸ مارچ کے حالات تو آپ کی آنکھوں کے سامنے تھے، ۱۵ مارچ کی صبح ایک موقع ایسا آیا تھا جب پولیس زمان پارک کا گیٹ توڑ رہی تھی اور ہم اندر بمشکل ۳۰-۴۰ بندہ رہ گئے تھے۔ ان کے پاس تازہ دم فورس تھی، شیل تھے، اسلحہ تھا، ہمارے پاس اپنے سروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ تب خان صاحب نے باہر آکر ہمیں سمجھایا تھا کہ میں گرفتاری دے دیتا ہوں۔ لڑکوں نے کہا ہم مرجائیں تو بے شک دے دیں۔ کیا ایسے لوگ ۹ مئی کے بعد زمان پارک سے اپنی جان بچانے چلے گئے تھے؟ نہیں جب تک خان صاحب روک نہیں رہے تھے ہم نے اُن کے کہنے کا انتظار نہیں کیا۔ مگر جب وہ جان گئے کہ یہ ہوس اقتدار میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ یہ اپنی طاقت کو دوام دینے کے لیے اپنے ملک کو خاکستر کرنے سے بھی گریز نہ کریں گے اور اُن کی جانب سے باقاعدہ تاکید کی گئی پیچھے ہٹنے کی تب ہم پر واجب تھا کہ ہم لیڈر کا حکم مانتے۔ یہ جو لیڈر شپ ایک سال اپنے گھروں سے، اپنے والدین اپنے بچوں سے دور رہی۔ جن کے گھر توڑے گئے، جن کی خواتین کو ہراساں کیا گیا، اس ملک میں قانون نامی کسی چیز کا شائبہ بھی ہوتا تو خدا کی قسم جیل اس دربدری سے کہیں بہتر رہتی۔ ہفتے میں ایک بار کسی اپنے کی شکل دکھائی دے جاتی۔ دن میں ایک بار سہی آسمان تو دیکھنے کو ملتا ہوگا۔۔ تو کیا لگتا ہے یہ سب پارلیمان کی سیٹ اور ایم این اے بننے کے لیے سہا تھا؟ یا پارٹی عہدوں کے لیے؟ کیا لگتا ہے آج عمران خان باہر ہوتا تو یہ ”موقع پرست“ محض ایم این اے ہوتے یا اس کی کابینہ میں وزیر مشیر ہوتے؟ کون سی پوزیشن ذیادہ بہتر ہے؟ اس ایک سال میں میں ذاتی طور پر خان صاحب سے درجنوں مرتبہ اجازت مانگ چکا ہوں۔ جب اور جتنی اجازت ملی ہے اس حد تک کیا ہے۔ جہاں انہوں نے رُکنے کی تاکید کی ہے۔ میں رُکا ہوں، دل پر جبر کرکے رُکا ہوں کیونکہ وہ میرا لیڈر ہے۔وہ میرے سامنے ہوتا میں اُس کی سٹریٹجی پر اُس سے بحث کرتا، اپنی رائے دیتا۔ فیصلے کا اختیار اُسی کا تھا، اُسی کا رہے گا۔ میں پھر کہتا ہوں it is the best of times یہ آخری چال ہے، مشاہدہ کریں، تبصرہ کریں، بحث کریں کھل کر سب سامنے آنے دیں۔ لیکن اپنا فوکس مت تبدیل کریں نہ کسی کو کرنے دیں۔ عمران خان جیل میں اپنی پارٹی کی وجہ سے نہیں ہے۔ عمران خان جیل میں اس بدبودار، تعفن زدہ نظام کی وجہ سے جہاں عوام تو عوام جج تک انصاف کے دروازے سے مایوس لوٹ رہے ہیں۔ جہاں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا غداری ہے اور فرض کی بابت سوال کرنا بغاوت۔ جہاں اپنے ملک کی خودمختاری کا علم اٹھانا ننگی تلوار پر چلنے برابر کردیا گیا ہے۔ عمران خان جیل سے اُس دن نکلے گا، جب ہم اپنے اتحاد سے اس متعفن لاش پر مٹی ڈالیں گے نہ کہ اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں پر ڈال کر اُس کو سانس لینے کا موقع فراہم کرکے۔ ایسا کرنا عمران خان سے اصل غداری ہوگی۔
فواد احسان فراموش اگر دم دبا کر عمران خان اور تحریک انصاف کو چھوڑ کر بھاگتا نہ تو آج تحریک انصاف کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔
فواد چوہدری کی اب ان لوگوں پر تنقید جو مشکل وقت میں ثابت قدم رہے بےمعنی ہے۔ فواد چوہدری کیلئے بہتر یہی ہے تحریک کو بھول کہ اپنے لیے کوئی مسکن ڈھونڈے۔
عمران خان کی رہائ کیلئے عدالتوں پر بھروسہ کرنا دانشمندی نہیں ہے، اس کیلئے سیاسی حکمت عملی چاہئے۔۔ تحریک انصاف کی موجودہ لیڈر شپ پر کوئ تنقید نہیں کرنا چاھتا لیکن مجھے مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں میں یہ صلاحیت نہیں کہ عمران خان کی رہائ کیلئے مطلوبہ سیاسی دباؤ بنا سکیں۔۔ باقی جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے۔۔۔
شفاف الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی، پورے پاکستان نے دیکھا الیکشن سے قبل پریس کانفرنس ہوتی رہیں، کیا الیکشن کمیشن نے اس پر کوئی ایکشن لیا ؟
جسٹس اطہر من اللہ کا الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال
25 جون 2024 - قوم کے لیے آج کی یاد دہانی:
“ملک کی تباہی کے جاری سلسلے کو روکنے کے لیے قوم کا ہر فرد اپنا کردار ادا کرے اور اللّہ نے اسے جو طاقت اور وسائل دے رکھے ہیں انہیں اپنی آزادی کے حصول کے لیے وقف کرے!
ان کے سارے منصوبے اللّہ کے حکم سے خاک میں مل رہے ہیں اور عوام حقیقت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی ہے!
حتمی طور پر اب ”جنگل کے بادشاہ“، جو بنیادی طور پر اس ملک میں ڈوریاں ہلاتا ہے، کو اداروں کی تباہی کا سلسلہ فی الفور ترک کر دینا چاہئیے۔ وقت آگیا ہے کہ اپنا قبلہ درست کیا جائے قبل اس کے کہ ملک کا حشر بھی وہی ہو جو 2024 کے عالمی کپ کے دوران پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا ہوا!”
- پاکستان کا کپتان، عمران خان
#حق_کی_جیت_ہو_گی
#FreeImranKhan
عمران خان سے اس توہین آمیز سلوک کے ذمہ داران میں فواد چوہدری بھی برابر کا شریک ہے جو پہلی فرصت میں عمران خان کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ اگر فواد جیسے لوگ جو عمران خان کے سب سے قریب تھے وہ مشکل وقت میں فوراً ساتھ نہ چھوڑتے تو آج عمران خان اور تحریک انصاف کے ورکرز کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
عمران خان پاکستان کے عوام کے ماتھے کا جھومر اور سر کا تاج ہیں، عمران خان سے توہیں آمیز سلوک پاکستان کے عوام کی بے عزتی کرنے کے مترادف ہے، ملک کے سابق وزیر اعظم کو جعلی مقدموں میں جیل میں رکھا گیا ہے ان کو قانون کے مطابق A کلاس دی جانی چاہئے اور سہولتیں فراہم کریں، تلخیاں اتنی بڑھائی جا رہی ہیں کہ پورا ملک کڑواھٹ کا شکار ہے۔۔
آج سے قریباً ڈیڑھ دہائی پہلے ہواؤں پر تیرتی ایک آواز ہمارے پہاڑوں پر چاندنی کیطرح اتری، راتوں رات اس کی روشنی میں پوری وادی نہلا گئی، لوگوں کی آنکھیں اس روشنی سے دمک اٹھتی تھیں۔ جن لبوں پر ذکر آتا تھا ان پر انگلیاں دبا کر پلکوں سے لگائی جاتیں۔ ٹمٹماتی آنکھوں، فرط جذبات سے دہکتے گالوں کے ساتھ عورتیں کلائیوں سے طلائی زیور اتار سفید چادروں پر ڈھیر کرتی جاتیں۔ کڑیل جوانوں نے جوانیاں دان دینے کی قسمیں کھائیں بزرگوں نے پیری میں اپنا مال ومتاع لٹا دیا۔ اللہ کی رضا کی خاطر۔ ایک دن علم ہوا وہ روشنی اتنی خیرہ کن اس لیے تھی کہ فریب کے خدوخال ڈھکے رہیں۔ چندھیائی آنکھوں کے سامنے رچنے والا کھیل تب واضح ہوا جب اندھیرے کے سوداگر اپنے جُبے اتار کر میدان میں اترے۔ مگر تب بہت دیر ہوچکی تھی۔ اب سامنے آگ اور خون کا دریا تھا۔ اور آبلا پائی کا ایک لمبا سفر درپیش۔۔ ٹوٹے، بکھرے، گرتے، سنبھلتے بڑا رستہ طے کرلیا۔ منزل کے قریب، رستے زخموں کو سہلانے چار گھڑی چھاؤں میں بیٹھے ہی تھے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر وہی سیاہ مکروح سائے منڈلاتے دیکھے۔ جہاں ہاتھ سے روکنے کا حوصلہ تھا وہاں ہاتھ سے روکا، جب اختیار چھن گیا زبان سے روکا۔ مگر جس عفریت کی جڑوں کو آپ کے اپنوں کے ہاتھ دوام دے رہے ہوں اُس سے لڑنے کے لیے صرف حوصلہ کافی نہیں ہوتا۔ حکمت بھی چاہئے ہوتی ہے۔ مسئلہ درپیش ایک آکٹوپس ہے کہ جس نے سر پر بیٹھ کر آنکھیں ڈھانپ دیں ہیں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اپنے وزن تلے دبا دیا ہے اور ساتھ ہی ہاتھوں پیروں سے لپٹ کر انہیں ناکارہ بنا رہا ہے۔ جو دِکھ رہا ہے، محظ وہی تصویر نہیں۔ جو پس پردہ ہیں وہ حقیقتیں اپنے گھناؤنے پن میں فقید المثل ہیں مگر جب حسیں بحال ہوں گی تو پلوں کے نیچے سے پانی بہہ چکا ہوگا۔ اور آپ مفلوج، مفلوک اُسی آبلہ پائی کے سفر میں ہوں گے۔ سیاہ سائے حسب ضرورت، حسب موقع، حسب منشاء کبھی پہاڑوں کے اُس پار دھکیلے جائیں گے کبھی اس پار۔ کبھی اپنی روشنی سے آنکھیں خیرہ کریں گے تو لبھی اپنی آگ سے جسم راکھ۔۔
جہالت کی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔ سزا جزا کا حق صرف ریاست کو حاصل ہے کسی جتھے کو نہیں۔ سوات میں جو ہوا انتہائی برا ہوا۔ بغیر قانونی کاروائی اس بے دردی سے انسان کی جان لینا ظلم اور جہالت ہے۔ قانون اس پر عمل میں آنا چاہییے۔
مداخلت جاری ہے!
لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس کے تحریری آرڈر کے پیراگراف 8 میں اے ٹی سی سرگودھا کے اسسٹنٹ کے بارے میں ہوشربا انکشافات:
"تشویشناک امر یہ ہے کہ 13 جون کو ایک اور خصوصی رپورٹ بھیجی گئی، یہ رپورٹ انسداد دہشت گردی جج محمد عباس کے اسسٹنٹ سے متعلق تھی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ 11 جون کو رات 11:15 پر 6 سے 7 افراد سول کپٹروں میں آئے، منیب احمد سے سادہ لباس میں ملبوس افراد نے جج انسداد دہشت گردی محمد عباس کے فیصلوں کے بارے میں سوالات کیے، منیب احمد کو مجبور کیا گیا کہ وہ پچھلے صفحے پر رپورٹ لکھے، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ رپورٹ انتہائی خوف اور پریشانی کی حالت میں لکھی، منیب احمد نے مزید کہا کہ اس عمل سے اسکی فیملی اور خاص طور پر بچوں پر گہرا اثر پڑا، عدالتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور انکا احترام کرنا ریاست کا فرض ہے، جج انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا کے اسسٹنٹ کی طرف سے بھیجی گئی خصوصی رپورٹس کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے عدالتوں اور اس کے عملے کو سنگین دھمکیاں، ہراساں کر رہے ہیں اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں"۔ تحری حکم نامہ
#مداخلت_ہوتی_ہے
#JusticeForJudiciary
حامد خان کو عمران خان نے سینیٹر بنوایا، حامد خان بڑے وکلاء گروپ کے سربراہ ہیں لیکن وکلاء تحریک کیلئے وکلاء کو متحرک یا بےگناہ قید عمران خان، لیڈرشپ، ورکرز کی رہائی کیلئے کوئی کوشش تو دور موصوف سینیٹر بننے کے بعد غائب ہی ہوگئے ہیں، اگر کبھی ٹیلی ویژن پر جلوہ افروز ہو جائیں تو اپنے ہی لوگوں پر تنقید کے نشتر برساتے نظر آتے ہیں۔
آپ فیملی کے ساتھ کھانا کھارہے ہوں اور سادے لباس میں لوگ اچانک آپ کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کریں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کی دھمکی دیں۔ مردوں کو نامعلوم مقام لے جائیں اور عورتوں کو پولیس کے حوالے کریں۔
محمد نواز اس وقت ایسے ہی بولے گا یا منہ میں گرم کوئلہ ڈال کر گونگا ہو جائے گا
Only a brainless idiot would invite the entire social media space to take them to the cleaners by unnecessarily speaking against Imran Khan on a completely unrelated issue. But then, that's Shahid Afridi we're talking about, who's known for being a brainless idiot. Lol.
کل @betterpakistan احسن اقبال صاحب کی ایک ٹویٹ پڑھ کر دن ان کیلیے مغموم رہا۔ موصوف نے فرمایا کہ پاکستان کی ترقی کی خاطر عمران خان صاحب کو پانچ برس جیل میں رکھا جائیگا۔ اس بیان سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے پشت پناہوں کو عدالتی نظام پر قادر اور عدالتی عمل کو کٹھ پتلی کا کھیل جانتے ہیں۔
اہلِ وطن کو عید کی خوشیاں مبارک!
عیدالاضحیٰ ایثار و قربانی کے اس جذبے، جس کی مثال جنابِ ابراہیم علیہ السّلام کی جانب سے قائم کی گئی،کوصحیح معنوں میں اپنانے کا درس دیتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں چند افراد کی اپنی اناؤں کی پوجا اور نفسِ عمّارہ کی پرستش نے ہمارے سماج کی اخلاقی تباہی کا سامان کیا ہے اور ہر ادارے کو تنزّلی و انحطاط کی بھینٹ چڑھایا ہے۔
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی کسمپرسی پوری طرح یہ ظاہر کر رہی ہے کہ کیسے ایک شخص کی انا اور اس کے نتیجے میں اقربا پروری نے پہلے ہی پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ محسن نقوی کو زرداری، جو مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ہی اپنا بیٹا قرار نہیں دیتا بلکہ اس کے چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر سے بھی خاندانی مراسم/تعلقات ہیں۔ محسن نقوی انکے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتا ہے چنانچہ پہلے اسے وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے نوازا گیا حالانکہ (اس کی وزارتِ اعلیٰ کا) یہ دور پاکستان کی تاریخ کے تاریک ترین ادوار میں سے ایک ہے۔ اس کے خلاف تو دستور کی منشا اور آئین کے تقاضوں کے مطابق پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کی اجازت نہ دینے پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہئیے۔
پھر اس نے قوم پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور جبر و فسطائیت کی ایسی سیاہ تاریخ رقم کی جسکی نظیر تک ملنا ناممکن ہے۔ اسکی نگرانی میں چادر و چاردیواری کےتقدّس کو پامال کیا گیا، سیاسی کارکنان (ناحق) قتل کئے گئے، انہیں جیلوں میں ڈالا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنائے گئے۔ وحشت و سفّاکیّت کا ریکارڈ قائم کرنے پر اسےداخلہ امور جیسی حسّاس ترین وزارت سےہی نہیں بلکہ سینیٹرشپ اور پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی سربراہی کے ذریعے بھی نوازا گیا۔
ٹیم کی کارکردگی میں اضافے پر توجّہ دینے کی بجائے محسن نقوی نے نے اپنی تمام تر توانائیاں (سرکار کے) سیاسی مخالفین کو دبانے میں کھپا دیں۔ قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی ثابت کرتی ہےکہ کھلاڑیوں کا مورال بُری طرح مجروح/نچلی ترین سطح پر ہے کیونکہ کرکٹ بورڈ کی کمان ایک نااہل ٹاؤٹ کے ہاتھ میں ہے۔
ترجیحات میں یہ حد درجہ بگاڑ ملک میں امن و امان کی صورتحال سے بھی عیاں ہے۔ پوری ریاستی مشینری شہریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے اور سفّاکیّت کے ریکارڈز قائم کرنے میں لگی ہوئی ہے جبکہ امنِ عامہ درہم برہم ہے، دہشتگردی بڑھ رہی ہے اور معیشت تباہی کے پاتال میں اتر چکی ہے۔
حتمی طور پر اب ”جنگل کے بادشاہ“، جو بنیادی طور پر اس ملک میں ڈوریاں ہلاتا ہے، کو اداروں کی تباہی کا سلسلہ فی الفور ترک کر دینا چاہئیے۔ وقت آگیا ہے کہ اپنا قبلہ درست کیا جائے قبل اس کے کہ ملک کا حشر بھی وہی ہو جو 2024 کے عالمی کپ کے دوران پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا ہوا۔
یقین نہیں آتا کہ یہ ایک پاکستانی ماں کی کہانی ہے سوات سے تعلق رکھنے والی اس ماں کے سات بیٹے تھے ایک دوران حراست مار دیا گیا ایک کو سات سال بعد رہا کیا گیا ایک بیٹا ذہنی معذور تھا اسے تین ماہ بعد رہا کیا گیا دو بیٹوں کی گرفتاری کا اعتراف کیا گیا دو بیٹے بدستور لاپتہ ہیں کوئی بتائے گا کہ جو ذہنی معذور تھا اسے تین ماہ تک کیوں غائب رکھا؟
Eid Mubarak to my nation. Eid ul Azha marks the embracing of the spirit of sacrifice exemplified by the Prophet Ibrahim AS.
Unfortunately, the worship of the ego and nafs e ammara by a few individuals has led to degradation of every institution and the moral decay of our society.
The plight of Pakistani cricket illustrates how the ego of an individual and consequent nepotism have already pushed Pakistan to the brink of disaster. Mohsin Naqvi is not only regarded as a son by Asif Zardari, also known Mr. 10%, but he also has a family relationship with COAS Asim Munir. Mohsin Naqvi acts as their frontman and was first rewarded with the position of Chief Minister, marking one of the darkest eras in Pakistan’s history. He must be tried under Article 6 for not allowing elections to be held in Punjab as was required under our Constitution. He also unleashed unprecedented brutality upon the nation: homes were violated, workers were killed, jailed, and subjected to torture. After accomplishing a record-setting level of fascism, he was rewarded with not only the sensitive responsibility of the interior ministry but also the PCB Chairmanship. Instead of focusing on enhancing the team’s performance, Mohsin Naqvi invested all his energies in suppressing political opponents. The recent performance of the Pakistan Cricket Team shows that the players are at their lowest morale, as the team is presided over by an incompetent tout.
These mistaken priorities are also evident in the country’s law and order situation. All state machinery is focused on unleashing fascism & violence against citizens, while the law and order situation has deteriorated and terrorism is on the rise, while the economy is in a tailspin.
Lastly, the ‘Jungle ka Badshah’, who is the prime string puller, must now stop the destruction of the institutions. It is high time for course correction, lest the country meets the same fate as the Pakistan Cricket Team did in the 2024 World Cup.
”ہمارے پولیس کے سپاہئیوں اور فوجی جوانوں کو جس انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ نہایت افسوسناک ہے کیونکہ ہم روزمرّہ بنیادوں پر انہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے دیکھ رہے ہیں۔
مگر عسکری خفیہ ایجنسیاں (انٹیلی جنس ایجنسیز) دہشتگردوں کی موجودگی اور نقل و حرکت کے حوالے سے بروقت معلومات جمع کرنے کی بجائے تحریک انصاف سے متعلّقہ مقدّمات کی سماعت کرنے والے (اسلام آباد ہائیکورٹ اور انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کے) ججوں پر غیر قانونی دباؤ ڈالنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے/ہراساں کرنے کیلئے استعمال کی جارہی ہیں جبکہ سیاسی اور سوشل میڈیا ورکرز اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صحافیوں کو جبراً اغواء کرنے یا جعلی الزامات کی پاداش میں انہیں ”گرفتار“ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
سرگردھا کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے نام تازہ ترین خط اور اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں کے چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے خط نے عدالتی امور میں بڑے پیمانے پر انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کی مداخلت کا پردہ چاک کیا ہے جو اب بھی پوری ڈھٹائی سے جاری و ساری ہے۔
ہماری عسکری خفیہ ایجنسیوں کیجانب سے پاکستان تحریک انصاف کے سمندر پار مقیم (اوورسیز) سپورٹرز، قائدین اور ہماری سوشل میڈیا ٹیم کے اراکین کے خلاف دورِ نوآبادیات کا اجتماعی سزا جیسا (انسانیت سوز) ہتھکنڈہ بالکل اسی طرح آزمایا جارہا ہے جیسے بھارتی فوج اپنے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں استعمال کررہی ہے۔
اس سب سے غیریقینی کی کیفیت بڑھ رہی ہے اور ملک مزید انتشار کی جانب لڑھک رہا ہے۔ قانون کی حکمرانی کی عدم موجودگی سے معیشت براہِ راست متاثر ہورہی ہے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے۔ پاکستان کو سرمایہ کاری درکار ہے اور سمندر پار پاکستانی اس باب میں ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں جبکہ انہیں دشمنوں کیطرح نشانۂ جبر و ستم بنایا جارہا ہے۔
چنانچہ میری اعلیٰ عدلیہ خصوصاً سپریم کورٹ سے التماس ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی گزارشات اور تاثرات کی روشنی میں اس معاملے کو دیکھیں اور نظامِ عدل میں آئی ایس آئی اور مقتدرہ کی مداخلت کا قلع قمع کرتے ہوئے نظامِ انصاف کو بچائیں۔
اس سے ہماری افواج کی ساکھ بھی بری طرح مجروح ہورہی ہے۔ جب تک عدلیہ کی آزاد حیثیت کی بحالی کیلئے قانونی کارروائی نہیں کی جاتی ملکی معیشت کو مزید بھی ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا رہے گا” - بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان (14-06-2024)