Chairman Imran Khan's prerecorded message for the working class of the country, urging every section of the society to join hands with him against this oppression and in his struggle for Haqeeqi Azaadi.
ہمارے رسولِ محترم ﷺ جب بھی جہاد کیلئے نکلتے، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچانے کی سخت ترین ہدایات جاری کی جاتیں۔آج ہمارے اپنے سیکورٹی اہلکار آدھی رات کو گھروں پر دھاوا بولتے، دروازے توڑتے، گھریلو ساز و سامان تباہ و برباد کرتے اور (قیمتی اشیاء) چوری کرکے ساتھ لے جاتے ہیں۔
خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ شخص ہاتھ نہ آئے تو اس کے والد حتّٰی کہ گھریلو ملازمین تک کو (بالکل غیرقانونی طریقے سے) اٹھا کر قید کردیا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک حملے کے دوران جب میرا بھانجا ہاتھ نہ لگا تو میری ہمشیرہ کے ڈرائیور اور باورچی رحیم کو اٹھا لیا گیا۔ دونوں کو قید کردیا گیا اور جانوروں (sardines) کیطرح ایک چھوٹے سے ڈربے میں پھینک دیا گیا۔ رحیم کو تو سانس کی تکلیف تھی چنانچہ رہائی کے بعد جب سے وہ واپس لوٹا ہے وینٹیلیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ جو گروہ (ایک جمہوری ملک میں) دہشت کے اس راج کا ذمہ دار ہے وہ بلاشبہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔
ہم مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ایسی بہیمانہ خلاف وزریوں کی داستانیں تو سُنا کرتے تھے مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت و بربریت کی ایسی تاریخ یہاں (پاکستان میں) بھی رقم کی جائے گی۔
(جبر و وحشت) کی اس پالیسی سے اگرچہ وقتی طور پر عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہو مگر (عوام کے سینوں میں کھَولتا ہوا) نفرت و ناراضگی کا لاوا کسی وقت بھی باہر آجائے گا۔
چیئرمین عمران خان کا ملک کے محنت کش طبقے کیلئے پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام جس میں انہوں نے سماج میں تمام شعبہ ہائے حیات سے منسلک افراد کو ملک میں جاری ظلم و استحصال کے خلاف اور حقیقی آزادی کی جدوجہد میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
السلام علیکم
اس سال یکم رمضان (23 مارچ 2023) کو مجھے اغواء کیا گیا اور 8 دن کے لیے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا جس کی FIR اب تک تفشیش کے مرحلے تک بھی نہیں پہنچ سکی-
اسی طرح 9 مئی کی رات ہمارے گھر پر تین چھاپے مارے گئے اور میری غیر موجودگی پر میرے 73 سالہ بزرگ والد اور بڑے بھائی پروفیسرظہور مشوانی کو اغوا کر لیا گیا جس میں CTD کی وردی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد شامل تھے-
تیسرے دن میرے والد کو تو طبیعت ناسازی کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا لیکن اب پانچواں مہینہ شروع ہو گیا ہے میرے بھائی کا کوئی پتہ نہیں ہے-
پروفیسر ظہور مشوانی نے ہزاروں بچوں کو تعلیم دی ہے اور ان کا آج تک عملی یا احتجاجی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا.- ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں، بھابھی اور میرے والدین کو صرف اس لیے سزا دی جارہی ہے کیونکہ میں تحریک انصاف سے وابستہ ہوں- پچھلے 4 ماہ ہمارے خاندان نے سُولی پر لٹکے ہوئے گزارے ہیں- ہر لمحہ بچے اور والدین ظہور بھائی کی راہ تکتے رہتے ہیں-
ان حالات کو دیکھتے ہوئے اور اپنے خاندان کی مشکلات میں کمی کے لیے مجھے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، پچھلے دو ماہ سوشل میڈیا کا بھی استعمال نہیں کیا اور اپنی سرزمین پاکستان بھی مجبوراً چھوڑ چکا ہوں- لیکن اس سب کے باوجود میرے بھائی کو نہیں چھوڑا جا رہا اور والدین سے صرف یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ایک بیٹا حوالے کریں گے تو دوسرے کو چھوڑا جائے گا-
اس دوران عدلیہ کا کردار سب سے افسوسناک رہا اور میرے والد کی لاہور ہائی کورٹ میں کی گئی 4 پٹیشنز بار بار پولیس کے جھوٹے بیانات دیکھ کر ہی نمٹا دی گئیں اورمغوی کی ریکوری کا کوئی آرڈر نہیں دیا گیا-
ہائی کورٹ میں تمام اداروں کی مارچ سے لے کر اب تک بارہا جمع کروائی گئی رپورٹس کے مطابق میں یا میرے خاندان کا کوئی بھی فرد کسی بھی مقدمے میں نامزد یا مطلوب نہیں ہے اور نہ ہی وہ بھائی کی کسٹڈی تسلیم کرتے ہیں-
9 مئی کو توڑپھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث افراد کے قانون کے مطابق ٹرائل کی تو ہر شخص نے تائید کی،
لیکن اس کے علاوہ ہزاروں سیاسی کارکنان اور ان کے خاندانوں کو جسمانی و ذہنی تشدد، جانی و مالی نقصان اور غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنانے کا کوئی قانونی و اخلاقی جواز نہیں بنتا۔
ہمارا خاندان ایک قانون پسند خاندان ہے جس نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کی ہے اور برسوں سے درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ہم نے ہمیشہ پاکستان کی مٹی سے وفاداری کی ہے اور شاید یہی ہمارا جرم ہے، جس کی سزا ہمارے خاندان کا ہر فرد بھگت رہ ہے-
عمران خان ورلڈ چیمپئن ہے ہیرو ہے, عمران خان کا ایک مقام ہے لیکن جب عالمی میڈیا دو سو کیسز کی بات کرتا ہے تو پاکستان کا نظام سسٹم جمہوریت کو پوری دنیا دیکھتی ہے جس پر 70سال میں ایک مقدمہ نہ بنا ہو اس پر دو سو کیسز دنیا سب دیکھ رہی ہے۔بیرسٹر احتشام
What a blatant use of force and disregard for judicial system, despite clear orders the IG and Police illegally detained Sheharyar Afridi once again.
Kufar ka Nizam chal sakta hai - Magar Zulm ka Nahin
آرمڈفورسز کا کام ہے ملک کی حفاظت اور سرحدوں کا دفاع کرنا۔ جب آپ ان سے بنک بنائیں گے، ہسپتال بنائیں گے، یونیورسٹی بنائیں گے، رئیل اسٹیٹ کا کام کریں گے، کارپوریٹ فارمنگ کریں گے، ٹرانسپورٹ کمپنیاں ان کے حوالے کریں گے تو وہ اپنا کام نہیں کر سکیں گے۔ این ایل سی کو حکومت کے ماتحت کرنا حکومت کا اچھا اقدام ہے لیکن یہ اقدام نامکمل ہے۔ اس کو مکمل طور پر سویلین ایڈمنسٹریشن کے تحت لایا جائے۔ پاک آرمی کے ساتھ اخلاص اور محبت یہ ہے کہ سوائے سیکیورٹی کے باقی تمام کام سے اس کو فارغ کر دیا جائے تاکہ وہ ملکی دفاع پر اور پروفیشنل انداز سے اپنی ڈیوٹی/ذمہ داریوں پر توجہ کر سکیں۔ پہلے ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے این ایل سی فوج کے پاس تھا اور اب حکومت نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کر کے این ایل سی دوبارہ فوج کو دے دیا یہ غلط ہوا ہے۔
@GovtofPakistan@OfficialDGISPR@KhawajaMAsif@SenatePakistan
پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ کے خلاف ووٹ دینے کا معاملہ۔ پی ٹی آئی کے 9 ارکان سندھ اسمبلی کی بنیادی پارٹی رکنیت معطل۔ شوکاز نوٹس کا تسلی بخش جواب نہ دینےپر بنیادی رکنیت معطل کی گئی۔ تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل عمرایوب نے نوٹس جاری کردئیے۔ عباس جعفری کی بنیادی پارٹی رکنیت پہلے ہی ختم کی جاچکی ہے دیگر ارکان میں رابعہ اظفر، بلال غفار، عمر عماری، ڈاکٹر سنجے،علی عزیز جی جی، ڈاکٹر عمران شاہ، دیوان سچل آنند،کریم بخش گبول شامل۔
ڈاکٹر یاسمین راشد:
ایک قابل معالج، ایک شفیق استاد، ایک دردمند دل۔ آئرن لیڈی اوف پاکستان کی پاکستان کے لئیے خدمات۔ ہماری آئرن لیڈی اپنی حب الوطنی کی سزا کاٹ رہی ہے لیکن اصولوں پر سودا منظور نہیں۔
#ReleasePoliticalPrisoners