Voice of the Oppressed Nations & Colonial Oppression in Contemporary Times
Common Challenges, Common Struggles
Join us as we discuss resistance, human rights, and the shared struggles of oppressed peoples.
📅 Tuesday, 16 June
🕗 8:00 PM (Pashtunkhwa Time)
ده مشر منظور پښتین په امر ده غورځنګ صوبایی کواډنیټر خیرلا امین خان او ورسره ملګری نن ده سابقه سنیټر تاج محمد افریدی اخری ارام ګا ته دعا او ده هغه کورنی ته فاتحه وکړل
PTM Lahore Disciplinary Committee Head Hammad Kakar and PSC members were arrested yesterday from the Lahore Press Club while organising a peaceful protest for #Kashmir. They were later released after being kept in solitary confinement for several hours.
جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کشمیر میں جاری احتجاج کے ساتھ مکمل یکجہتی اور وہاں ریاستی ظلم و جبر و بربریت کے خلاف لاہور میں پرامن احتجاج کرنے کی پاداش میں، پی ٹی ایم لاہور کور کمیٹی کے رکن حماد کاکڑ کو مریم نواز شریف کی پنجاب حکومت کے حکم پر لاہور پولیس نے گرفتار کر لیا۔
#RightsMovementAJK
پی ٹی ایم رہنماؤں نوراللہ ترین اور حنیف پشتین کو PTI پشاور جرگہ سے فوج کے ہاتھوں اغواء ھوئے 206 دن ھوگئے ہیں اور منیرا مارشل اتنا بیغیرت انسان ہے کہ ہر چوتھے دن انسانیت پر آیتیں حدیثیں پڑھ رہا ھوتا ہے حالانکہ یہ مسلمان تو کیا،انسان کہلانے کے قابل نہیں ہے
#StopStateTerrorism
حمید اللہ محسود تقریباً 14 سال دبئی میں مقیم رہے اور 2024 میں پاکستان واپس آئے، جہاں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بینظیر چوک، ترنول، اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے۔ پاکستان واپسی کے بعد انہیں صرف 7 سے 8 ماہ ہی ہوئے تھے کہ 17 جنوری 2025 کو تقریباً رات 12:30 بجے 8 سے 10 افراد، جن میں کچھ سادہ لباس میں ملبوس تھے جبکہ کچھ مبینہ طور پر سی ٹی ڈی کے اہلکار تھے، انہیں ان کے گھر سے اسلحے کے زور پر زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
اس کارروائی کے دوران 7 سے 8 گاڑیاں بھی موجود تھیں جن میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی گاڑیاں شامل تھیں۔ اہلکاروں نے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ تفتیش کے بعد حمید اللہ محسود کو واپس گھر پہنچا دیا جائے گا، تاہم آج تک ان کی کوئی خبر نہیں مل سکی اور ان کی موجودہ حالت اور مقام نامعلوم ہیں۔ حمید اللہ محسود کی اہلیہ اور ان کے بیٹے نے مقامی پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کروائی، جبکہ اہلِ خانہ نے اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے کمیشن میں بھی درخواست دے رکھی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک انہیں صرف تاریخ پر تاریخ دی جا رہی ہے اور کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
مزید برآں، حمید اللہ محسود کے چچا بھی گزشتہ 7 سے 8 ماہ سے لاپتہ ہیں اور آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ہم متعلقہ حکام سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اگر حمید اللہ محسود کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہیں تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر ان کی مسلسل گمشدگی نے ان کے کم عمر بیٹے، بھائی اور دیگر اہلِ خانہ کو شدید ذہنی اذیت، پریشانی اور بے چینی میں مبتلا کر رکھا ہے، جو آج بھی ان کی خیریت اور موجودگی کے بارے میں شدید فکرمند ہیں۔
ایڈوکیٹ جنید وزیر
#PashtunLivesMatter
#EndSiegeOfPashtuns
#StopStateTerrorism
The story is simple, yet history keeps trying to complicate it: Kashmir belongs to Kashmiris.
Mountains remember, rivers remember, and generations remember. No map or ruler can permanently claim what ultimately belongs to the people who call it home.
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
دغہ بہ قیامت کےجواب وائ دے کرنل امام شاگرد چے مونگ دے عمر رضیہ عنہ خوندے امارت کڑے وہ چے دےشپے کوروالایوزنانہ تہ بوتلئ وا چے دےاولاد کیس وہ دوئ داھغہ بدو خدمت کڑے وہ نہ کہ گولئ پے چلولے
لیکوالې او شاعرې شفیقه خپلواک د هرات د وروستیو پېښو په اړه توند غبرګون ښودلی او ویلي یې دي چې د ښځو بندي کول او پر عامو خلکو ډزې کول ښکاره ظلم او ناروا عمل دی.
میرمن خپلواک په یوه پوسټ کې پوښتنه کړې چې دا ډول کړنې د کوم «عمري نظام» نښې ګڼل کېدای شي!.
شفیقه خپلواک ټینګار کړی چې د ولس پر وړاندې زور زیاتی او د خلکو د حقونو تر پښو لاندې کول به تل دوام ونه کړي او د مظلومو خلکو آهونه به بالاخره خپل اغېز وښيي.
هغې د خپلې نیوکې د پیاوړتیا لپاره د خوشحال خان خټک دا شعر هم رااخیستی:
تا هنر د سردارۍ نه زده بهرامه
سرداري دې په خپل دور کړه بدنامه
هم تمامې خېلخانې لره بلا شوې
هم خپل ځان لره بلا شوې بد فرجامه
د نوموړې په وینا، تاریخ ښودلې چې ظلم او استبداد دوام نه لري او د ولس غږ بالاخره اورېدل کېږي.
پی ٹی ایم ضلع شیرانی کور کمیٹی کے رکن سردار افغان کی رہائی پر انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
امید ہے کہ وہ پہلے کی طرح حق، انصاف اور عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ان کی رہائی اہلِ خانہ، دوستوں اور ساتھیوں کے لیے خوشی کا باعث ہے۔
#HumanRights
#Justice
#RuleOfLaw
#Freedom
#StandForJustice
#VoiceForRights
#PashtunRights
#CivilRights
#HumanDignity
#PeaceAndJustice
#RightsMovement
#JusticeForAll
#PTMSheran
خیبر پشتونخوا حکومت اور وزیرعلی سہیل افریدی سے سوال سختی سے پوچھنا چاہتے ہیں کے کہاں ہیں پی ٹی ایم کے وفد اور اپ کے مہمان سہیل افریدی کے اپنے گھر سے پشتون قوم کے رہنما' اغوا ہویے ؟
@SohailAfridiISF@PTIKPOfficial@PTIofficial
کشمیر کے راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں کشمیری عوام پر ریاستی ظلم و جبر اور فاشسٹیت کی ایک نئی مثال سامنے آ رہی ہے۔ آج کشمیر کی سرزمین پر کشمیری عوام کو زندہ رہنے کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
مظفر آباد کی اسمبلیوں میں موجود اشرافیہ کالونیلز کے سہولت کار ہیں، جو بے گناہ نہتے کشمیریوں کے خون بہانے میں برابر کے شریک ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، جبر، بربریت اور قتل و غارت کے ذریعے محکوم اقوام کی حقوق کی تحریکوں کو کبھی نہیں روکا جا سکتا۔ حقوق کی اس مقدس جدوجہد میں قربانیوں اور بے مثال مزاحمت کی راہ اختیار کرنے والے کشمیری عوام کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کے تمام عالمی اداروں کو راولاکوٹ سمیت کشمیر کے ہر علاقے میں جاری اس وحشیانہ ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
سوات کے علاقے مٹہ شکردارہ میں ۴۰ سے زائد دہشت گردوں نے افضل گجر پر وحشیانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد شہید ہو گئے۔ یہ انتہائی افسوسناک اور تشویش ناک واقعہ ہے۔
سب سے زیادہ حیران کن اور قابلِ مذمت بات یہ ہے کہ پولیس انتظامیہ موقع پر موجود تھی، مگر دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اتنے بڑے گروہ نے ایک گھنٹے سے زائد عرصے تک کھلے عام دہشت گردی کی، لوگوں پر حملے کیے اور علاقے کو یرغمال بنائے رکھا، لیکن پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
واضح رہے کہ پورے سوات کے ہر علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز موجود ہیں۔ ان فورسز کی موجودگی میں دہشت گردوں کا اتنی بڑی تعداد میں داخل ہونا، منظم حملہ کرنا اور پورے علاقے کو اپنے قبضے میں لینا بہت سے سنگین سوالات پیدا کرتے ہیں