Its heartening to see my motivator IMRAN KHAN’s courage and fight for his country. You exposed all the people which were involved in the conspiracy against Pakistan. You will be back like a “Cornered Tiger”. IN SHA ALLAH @ImranKhanPTI#BehindYouSkipper#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
2020 میں عمران خان سے میں نے اپنے حلقہ کے لیے 1 ارب کی گیس لی لیکن انہیں مکمل نہیں کیا جا رہا 300 بجلی کی سکیمیں لیں تاریں پڑ چکی ہیں کھمبے لگ چکے ہیں ٹرانسفارمر نہیں دے رہے ، باقی موجودہ بجٹ کو ہم سب مسترد کرتے ہیں ۔
ثناء اللہ مستی خیل
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 44 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے پاکستان کی آدھی آبادی غریب ہے ہر دوسرا شخص غریب ہے پاکستان کی 52 فیصد آبادی نوجوان ہے نوجوانوں کے لیے کوئی پروگرام ہی نہیں ہے ۔
ثناء اللہ مستی خیل
مجھے تو پورا شریف خاندان ہی ذہنی مریض لگتا ہے مریم نواز کی حال ہی میں سرجری ہوئی ہے لیکن میرے خیال میں مریم نواز کو خودنمائی کی بیماری سے بچاؤ کے لیے بھی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے پنجاب کا آدھا بجٹ شریف خاندان کے نام کے منصوبوں کی نظر کردیا ہے ہر طرف اپنا ہی نام عیاں کرنے پر پیسے خرچ ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔
ثمینہ پاشا
ایک بار پھر پاکستان کی سڑکیں میرے لیے بند ہیں۔ گھنٹے چکری انٹرچینج پر میری گاڑی محاصرے میں ہے۔ نہ آگے اڈیالہ جانے دیا جا رہا ہے نہ مڑنے دیا جا رہا ہے۔ آج عمران خان صاحب سے بطور وکیل ملاقات کا دن ہے۔ بہنوں کی ملاقات کا بھی آج دن ہے۔
اگر میں جعلی ووٹ سے ایم این اے بنا ہوں تو مجھ پر لعنت ہو ،اب یہی جملہ حکومتی بینچ پر بیٹھے افراد دہرائیں۔
اور اسکے بعد حکومتی بینچوں پر بیٹھے افراد مکمل خاموش۔
🚨اگر ایران میں شہباز شریف جیسا اوپوزیشن لیڈر ہوتا تو سوچیں کیا ہوتا ، ایران میں بھی سائفر آیا تھا لیکن ایران نے سائفر کو جوتے کی نوک پر رکھا اور رجیم چینج نہیں کیا جبکہ دوسری طرف پاکستان میں بھی سائفر آیا جنہوں نے سائفر سے ڈر کر رجیم چینج کی آج پاکستان پر وہ حکومت کر رہے ہیں ۔
صوبائی صدر جنید اکبر
عمران خان کے دور میں جب پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 17 روپے تھی تو شہباز شریف نے قوم کو کہا کہ اس نظام کے خلاف جنگ کرکے انقلاب لانا ہوگا ،اب فی لیٹر پر ٹیکس تقریباً 170 روپے ہے ، تو اب عوام کو کیا کرنا چاہیے ؟؟؟
نظام کے اپنے ہی تمام لوگ اپنے ہی کراۓ گئے الیکشنز کا خود ہی آ کر ہر روز پول کھول رہے ہیں۔ اور بیٹھنے والے پھر بھی ڈھٹائی کے ساتھ بیٹھے رہتے ہیں اور فتح کے دعوے بھی کرتے ہیں!