یہ کوئی بچھی ہوئی کالی چادر نہیں جو ہاتھ لگانے سےفولڈ ہوجائے بلکہ یہ ماڑی پورہاکس بےگوٹھ محمد علی روڈ کی نئی سڑک ہے جو زمین کے اوپر بس بچھائی گئی ہے کراچی جو PPP کی کرپشن کی زد میں ہے، اس شہر کا ایسا بھیانک حال پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ شرجیل میمن،مئیر کراچی اسکے جوابدہ ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ غریب آدمی کی مدد کیوں کی جا رہی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اٹھارہ سال سے ایک ایسا نظام چلایا جا رہا ہے جو غربت ختم کرنے کے بجائے غربت کو مینج کر رہا ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہمیشہ رحم، ہمدردی اور غریب پروری کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر ریاست کا کام صرف چند ہزار روپے دے کر تصویر بنوانا نہیں ہوتا۔ ریاست کا اصل کام یہ ہے کہ غریب کے بچے کو اسکول ملے، گھر کے قریب علاج ملے، نوجوان کو ہنر ملے، خاندان کو روزگار ملے اور ایک دن وہ گھرانہ امداد لینے کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے۔
یہاں معاملہ الٹ ہے۔ اٹھارہ سال، کھربوں روپے، کروڑوں مستحقین کے نام، مگر سوال وہی ہے: کتنے خاندان واقعی غربت سے نکلے؟ اگر کوئی پروگرام کامیاب ہو تو وقت کے ساتھ اس کے محتاج کم ہونے چاہئیں، مگر یہاں فہرستیں بڑھتی گئیں، بجٹ بڑھتا گیا، انحصار بڑھتا گیا، اور غربت بھی کم ہونے کے بجائے پھیلتی گئی۔
یہ غریب کے خلاف بات نہیں، یہ غریب کے حق میں بات ہے۔ کیونکہ غریب کو ہمیشہ کا محتاج بنانا مدد نہیں، ایک نرم قید ہے۔ چند ہزار روپے کا وظیفہ مہینے بھر کی ضرورت بھی پوری نہیں کرتا، مگر ایک ہنر، ایک چھوٹا کاروبار، ایک فیکٹری کی نوکری، ایک سلائی مشین، ایک دکان یا ایک ٹیکنیکل سرٹیفکیٹ نسلوں کا راستہ بدل سکتا ہے۔
سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جس ملک نے تین کھرب روپے کے قریب اس ماڈل پر لگا دیے، وہ اس رقم سے کیا بنا سکتا تھا؟ اسکول بن سکتے تھے، اسپتال بن سکتے تھے، ووکیشنل سینٹرز بن سکتے تھے، چھوٹی صنعتیں کھڑی ہو سکتی تھیں، لاکھوں گھروں کو روزگار مل سکتا تھا۔ مگر ہم نے اثاثہ بنانے کے بجائے خرچ کیا، اور خرچ بھی ایسے نظام میں کیا جس کے اپنے ریکارڈ میں غلط مستحق، باہر رہ جانے والے مستحق، جعلی اندراج، ملازمین، گاڑی مالکان، بیرونِ ملک سفر کرنے والے کیسز اور ادائیگیوں کی بے ضابطگیاں موجود ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج اصل مطالبہ بندش نہیں، پہلے اصلاح ہے۔ پہلے ڈیٹا صاف ہو۔ پہلے تصدیق ہو۔ پہلے آڈٹ ہو۔ پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ پیسہ صحیح گھر تک جا رہا ہے۔ پہلے یہ بتایا جائے کہ اس پروگرام سے کتنے خاندان مستقل طور پر غربت سے نکلے۔ پہلے یہ راستہ بنایا جائے کہ جو خاندان بہتر ہو رہا ہے اسے سزا نہ ملے، بلکہ اسے اگلے مرحلے تک لے جایا جائے۔
غریب کو ہمیشہ قطار میں کھڑا رکھنے کا نام فلاح نہیں ہو سکتا۔ فلاح یہ ہے کہ وہ قطار سے نکلے، کام پر جائے، عزت سے کمائے، اپنے بچوں کو پڑھائے اور ریاست سے وظیفہ نہیں، موقع مانگے۔
پاکستان کو اب چیک بک والی سیاست سے نکل کر روزگار والی ریاست بننا ہوگا۔ نقد امداد صرف ان کے لیے رہنی چاہیے جو واقعی کام کرنے کے قابل نہیں: بزرگ، معذور، بے سہارا بیوائیں اور انتہائی کمزور گھرانے۔ باقی خاندانوں کے لیے راستہ وظیفہ نہیں، ہنر، روزگار، قرضِ حسنہ، چھوٹی صنعت، تعلیم اور صحت ہونا چاہیے۔
بات صاف ہے:
غریب کو چیک نہیں، چانس چاہیے۔
غربت کو سنبھالنا نہیں، ختم کرنا ہے۔
اور جو نظام اٹھارہ سال بعد بھی غربت سے نکلنے کا راستہ ثابت نہیں کر سکا، اسے مزید پھیلانے سے پہلے روک کر درست کرنا ہوگا۔
بے لگام توسیع نہیں، سخت اصلاح۔
سیاسی نعرہ نہیں، معاشی راستہ۔
ہمیشہ کی امداد نہیں، عزت والا روزگار۔
کراچی میں ایڈز نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں200 سے زائد بچوں کو استعمال شدہ سرنج لگانے سے ایڈز ہوگیا ۔ اس سال سندھ میں 894 ایڈز کے کیسز آئے ہیں۔ جن میں سے 329 بچے ہیں۔ یہ قومی سانحہ ہے۔ اس کے زمہ داروں کو قانون کےکٹہرے میں لانا چاہیے
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں انصاف اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور دوررس فیصلہ سامنے آیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے مٹھی خان میں زمین کے ایک دیرینہ تنازعے کا فیصلہ سناتے ہوئے خواتین کے وراثتی حقوق کو ہر قسم کے روایتی دباؤ سے آزاد کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے اس تاریخی فیصلے میں واشگاف الفاظ میں قرار دیا ہے کہ خواتین کو وراثت میں ان کے جائز اور شرعی حصے سے محروم کرنے والی کوئی بھی قبائلی رسم، روایت یا ثقافتی رواج سراسر غیر قانونی اور باطل ہے۔
اس فیصلے کی سب سے اہم کڑی یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر مروجہ آئینی و شرعی قوانین کو سب سے بالاتر رکھا ہے۔ عدالت نے زور دیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی جرگے، پنچائت یا غیر رسمی ادارے کو یہ اختیار حاصل ہی نہیں کہ وہ اسلامی قانون (شریعہ) اور آئینِ پاکستان کے تحت خواتین کو دیے گئے بنیادی حقوق کو کسی بھی صورت ختم یا تبدیل کر سکے۔ شریعت اور ملکی قانون کے خلاف کی جانے والی تمام روایتی مشقیں اب قانوناً کالعدم ہیں، کیونکہ کوئی بھی مقامی روایت یا غیر رسمی فیصلہ ملک کے قائم کردہ مروجہ قوانین پر فوقیت نہیں پا سکتا۔ یہ فیصلہ معاشرے کے پسماندہ طبقات، بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے اور فرسودہ رسوم و رواج کے خاتمے کے لیے ایک روشن امید کی مانند ہے۔
کراچی میں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں ۔ حکومت کی نااہلی کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہے ۔ یہاں ہمیشہ سرکاری ادارے اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب سانحہ ہوجائے لیکن سانحے سے پہلے کیوں اس کا سد باب نہیں کیا جاتا ۔ کراچی میں برساتی نالے کچرے سے بھرے ہوئے ہیں اور پیپلزپارٹی کی سندھ سرکار کو کوئی ہوش نہیں ہے ۔
کشمیری نوجوانوں کو اسلحہ پاک فوج نے دیا ۔ ایکشن کمیٹی کے سردار امان نے تحریک آزادی کشمیر پر خودکش کردیا ۔ انڈیا کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا امکان ۔ کیوں کہ انڈیا پہلے روز سے یہ دعویٰ کرتا آرہا ہے کہ کشمیر میں آزدی کوئی تحریک نہیں ہے بلکہ پاکستان مسلحہ لوگوں کو بھیجتا ہے جو انڈین فوج سے لڑتے ہیں ۔ ایکشن کمیٹی کی یہ ویڈیوز اب انڈیا کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں گی ۔
ایسے بیانات کا آٹے دال چینی سے کیا تعلق ہے اور ان بیانات کی کیا تُک بنتی ہے برہانی وانی جیسے شہداء کی قربانیوں کو مشکوک بنانا کس کا ایجنڈ ہے ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے ۔ سردار امان جیسے لوگوں نے حقوق کی تحریک کو اینٹی پاکستان کس کے کہنے پر بنایا ہے ۔
سندھ میں ایک ٹیچر کا تبادلہ ہوا اور جب وہ اسکول پہنچا تو وہاں پر اسکول کی صرف پرانی خستہ حال چاردیواری موجود تھی لیکن اسکول کا کوئی نام و نشان نہیں تھا ۔ سندھ میں ایسے ہی تعلیم کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے ۔
یہ بلوچستان میں چل کیا رہا ہے ۔ مسلحہ افراد مرکزی شاہرہ کے پُل کو گرا رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ گاڑیوں کے گزرنے کا واحد راستہ ہے ۔ اس کے علاوہ سارے کچے راستے ہیں ۔ حکومت کہاں ہے ؟ ۔ بتایا جارہا ہے کہ ان مسلحہ افراد کا تعلق بی ایل اے نامی کالعدم تنظیم سے ہے
حکومت کو ٹک ٹاک پر فی الفور پابندی عائد کردینی چاہیے کیوں کہ اس سے معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آرہی بلکہ یہ ہماری دینی و مشرقی روایات کا جنازہ نکال رہی ہے ۔ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا گیا تو ٹک ٹاک پاکستان کے الیکشنز پر بھی اثر انداز ہوگی
پیمرا کونسل آف کمپلینٹس کی جانب سے جیو نیوز سے متعلق حساس مذہبی معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنا ایک دانشمندانہ اور قابلِ تحسین قدم ہے۔
حکومت نے پہلے 15 دن کی پابندی لگا کر فوری ردِعمل دیا، جیو نیوز نے معافی مانگی اور متنازع کانٹینٹ بھی ہٹایا، جبکہ اب معاملہ ایسے آئینی ادارے کے سپرد کیا گیا ہے جس میں تمام مکاتبِ فکر کے علما موجود ہیں۔
یہی درست راستہ ہے کہ مذہبی حساس معاملات کا فیصلہ مشتعل ہجوم، سڑکوں یا دباؤ کی سیاست کے بجائے شریعت، آئین اور قانون کی روشنی میں ہو۔
اس فیصلے سے ان عناصر کی سیاست بھی کمزور ہوئی ہے جو مذہبی جذبات کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ریاست کا کام جذبات کو بھڑکانا نہیں بلکہ انصاف، قانون اور اعتدال کے ساتھ معاملہ حل کرنا ہے۔
ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے طلاق دینا اور پھر اس کو پوسٹ کردینا۔ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے حکومت کو ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنی چاہیے کیوں کہ نوجوان نسل گمراہ ہورہی ہے
India labels JKLF a terrorist group and jails Yasin Malik.
Yet Indians are now widely sharing anti-Pakistan speeches by Sardar Aman a senior JKLF member under Yasin Malik.
Double standards and hypocrisy at its peak.
کراچی سے یہ فیملی بلوچستان میں ٹوور پر گئی جہاں پر بی ایل اے نامی دہشتگرد تنظیم نے بچیوں کے سامنے والد کو نشانہ بنایا وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ خاتون شدید زخمی ہوئی ۔ بچیاں معجزانہ طور پر محفوظ رہی ہیں لیکن افسوسناک طور پر اختر مینگل اور بی وائی سی جیسی تنظیمیں اس واقعے پر خاموش ہیں اور بی ایل اے کی مذمت کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔
رؤف کلاسرہ @KlasraRauf صاحب دنیا بھر کے سفارتکار، وزراء اور سربراہانِ مملکت دھوپ، ہوائی اڈوں یا بیرونی تقریبات میں دھوپ کا چشمہ لگاتے ہیں۔ یہ پیشہ ورانہ کمی نہیں، بلکہ عملی ضرورت ہے۔ آنکھوں کی حفاظت، آرام اور عام انسانی رویہ ہے۔
امریکی، برطانوی، چینی اور یورپی سفارتکار بھی ایسے ہی نظر آتے ہیں۔ کیا انہیں بھی غیر پیشہ ورانہ کہا جائے؟
پاکستان میں بھی سابق وزیر اعظم، صدور اور خارجہ کے افسران ایسے مواقع پر دھوپ کا چشمہ استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ نیا "زوال" نہیں۔
کلاسرہ جیسے بعض صحافیوں اور ان کے "سینئر افسر" دوستوں میں نوآبادیاتی ذہنیت ہے۔ وہ سرکاری ملازمین کو غلام سمجھتے ہیں۔ ہر معمولی بات کو "مہذب رویے کی کمی" بنا کر پیش کرتے ہیں۔ سول سرونٹس کو "بڑوں" کے سامنے جھکنے والے نوکروں کی مانند دیکھتے ہیں۔
سفارتکار انسان بھی ہے۔ وہ بھی تھکتا ہے، دھوپ برداشت کرتا ہے اور ضابطے کے اندر رہتے ہوئے اپنا فرض نبھاتا ہے۔ گریڈ اٹھارہ کا افسر وزیر اعظم کا استقبال کر رہا تھا، نہ کہ کسی بادشاہ کے تخت کے سامنے کھڑا تھا۔
یہ غلامی والی ذہنیت ہی اصل زوال ہے۔ سول سروسز پاکستان کی خدمت کے لیے ہیں، کسی سیاستدان یا "سینئر" کے سامنے سر جھکانے کے لیے نہیں۔
ایک افسر دھوپ کا چشمہ لگا کر بھی اگر اپنا کام ٹھیک سے کر رہا ہے تو اسے غیر پیشہ ورانہ کہنا سراسر منافقت ہے۔انسانی عزت، آرام اور عملی سوچ کو نوآبادیاتی جھکاؤ سے بالاتر رکھیں۔
سفارتکار غلام نہیں، ریاست کا نمائندہ ہے۔
یہ بندہ جو گٹر صاف کررہا ہے اس نے پشاور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں ڈبل ایم اے کیا ہے ۔ زرا تصور کریں اس سے بڑا زوال ہمارے لئے کیا ہوگا ۔ سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے میرٹ پر کبھی بھی لوگ آگے نہیں آسکے ۔ اور ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پکوڑے چپس اور گٹر تک صاف کررہے ہیں ۔
پاکستان میں ٹک ٹاکرز کو تمغے دئے جارہے ہیں ۔ گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤسز ٹک ٹاکرز کیلئے کھلے ہیں جبکہ پاکستان کا پڑھا لکھا اعلیٰ تعلیم یافتہ گٹر صاف کررہا ہے ۔ پھر کہتے ہیں کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے ۔
عوام سے ایک سوال ہے کہ ایران امریکہ امن معاہدے میں وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں ۔
کیا واقعی پاکستان کے کردار کی وجہ سے یہ جنگ بندی ہوئی ؟
اس ڈکیت نے راہ چلتی خاتون سے پرس چھین لیا ۔ یہ ویڈیو کراچی کی ہے ۔ کراچی والے اپنی جان و مال کا تحفظ خود کریں ۔ کیونکہ کراچی میں بھٹو زندہ ہے اور حکومت مری ہوئی ہے ۔
پاکستان میں ایک عام آدمی سے درجنوں اقسام کے ٹیکس وصول کئے جارہے ہیں لیکن اس کے بدلے میں عام آدمی کو کچھ نہیں ملتا بلکہ امیر مزید امیر ہورہا ہے اور غریب مزید غریب ہورہا ہے جبکہ بڑے امیروں اور جاگیرداروں پر کوئی خاص ٹیکس نہیں ہے بلکہ ان کو بینکوں سے قرضے لینے اور پھر معاف کرانے کی سہولت بھی حاصل ہے ۔
ایکشن کمیٹی سے منسلک اس شخص نے کہا کہ پاکستان ہزار روپے کیلئے اپنی ماں بھی بیچ سکتے ہیں ۔
اس شخص نے پوری پاکستانی قوم کی عزت اور غیرت کو للکار ہے ۔
برطانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی کو چاہیے کہ اس نامعلوم شخص کے خلاف پولیس سے رجوع کریں ۔ اس نے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح کئے ہیں ۔