On the sixth anniversary of Victory Day, I extend my warmest felicitations to my dear brother, President @presidentaz Ilham Aliyev, and to the brave and brotherly people of Azerbaijan.
November 8 stands as a historic testament to the courage, resolve and sacrifice of the Azerbaijani nation, which restored its territorial integrity after nearly three decades. We pay heartfelt tribute to the martyrs whose sacrifices made this triumph possible.
Pakistan was proud to stand with Azerbaijan then, and we stand with Azerbaijan always. Last year's Victory Day Parade in Baku, where I had the honour of joining President Aliyev, captured the unbreakable bond between our nations.
May Azerbaijan continue to rise from strength to strength, and may the South Caucasus move toward lasting peace and shared prosperity.
Zəfər Günün mübarək!
🇵🇰🤝🇦🇿
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif’s Message on the Occasion of Diwali, 8 November 2026.
On the joyous and auspicious occasion of Diwali, I extend my heartfelt felicitations and warmest wishes to the Hindu community across the world, particularly those residing in Pakistan.
Diwali symbolises the triumph of light over the darkness of hatred, intolerance and despair. The festival of lights conveys a profound message of promoting peaceful coexistence in human relations and social life. The enduring belief in a bright, prosperous and hopeful future is one of the most cherished attributes of Diwali.
The Hindu community of Pakistan is a valued and integral part of our national fabric. Its invaluable contributions to the social, cultural and economic development of our country are worthy of the highest appreciation.
The diverse cultural and religious traditions within our society constitute a valuable social asset. Pakistan takes immense pride in its religious and cultural diversity.
The Constitution of Pakistan guarantees the protection of the religious and civil rights of minorities. The Government remains firmly committed to safeguarding the rights, dignity and religious freedoms of all citizens, irrespective of religion, faith, colour or ethnicity. Promoting religious harmony, mutual unity and respect is our shared responsibility.
Our collective resolve is to build a peaceful, inclusive and prosperous nation. A society that embraces diverse cultures and traditions and upholds the principles of peaceful coexistence is one that ensures equal educational and economic opportunities for all its citizens.
On this special occasion, let us renew our collective commitment to fostering interfaith harmony, strengthening the bonds of fraternity and brotherhood, and working together towards a brighter future founded on peace, tolerance and mutual understanding.
I hope that all Pakistani Hindus celebrating Diwali will enjoy the vibrant and festive traditions of this joyous occasion to the fullest and share with society a message of peace, goodwill, happiness, prosperity and hope.
Heartfelt felicitations to the Hindu community on the joyous occasion of Diwali!
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ کیش لیس معیشت کا فروغ حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں سے ایک ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں. کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے وزارتِ خزانہ اور تمام متعلقہ ریاستی اداروں کی جاری کامیاب کاوشیں قابل ستائش ہیں. وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ملک میں سو فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے قیام کے لیے واضح لائحہ عمل اور مقررہ مدت کے ساتھ اہداف پیش کرنے کی ہدایت کی.
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں صارفین کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کئے جائیں. کیش لیس اکانومی کے فروغ کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی فراہمی اور عوام کی ٹیکنالوجی تک آسان رسائی یقینی بنائی جائے.
وزیراعظم نے راست کیو آر کوڈ کے ذریعے صارفین اور مرچنٹ کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دینے کی اسکیم کو حکومتی سرپرستی میں جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کا نظام حکومت کے کیش لیس معیشت کے وژن کے حصول میں معاون ثابت ہو رہا ہے. وزیراعظم نے بجلی اور گیس کے صارفین کو یوٹیلیٹی بلوں پر درج کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیاں کرنے کی ترغیب دینے کے لیے مؤثر میڈیا مہم چلانے اور تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں کو کیش لیس اکانومی کے پلان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی.
اجلاس میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے حوالے سے جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں میں ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن پر کام تیزی سے جاری ہے اور بیشتر اداروں میں دسمبر 2026 تک تمام ادائیگیاں مکمل ڈیجیٹائز ہو جائینگی. بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سو فیصد ادائیگیاں بذریعہ ڈیجیٹل والٹ کی جا رہی ہیں. انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے جدید نظام متعارف کرانے پر کام جاری ہے. پورے ملک میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے انفراسٹرکچر کے قیام کے حوالے سے کام تیزی سے جاری ہے. 15 نومبر 2026 سے بذریعہ چیک آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کی ادائیگیاں ختم کی جا رہی ہیں. 16 نومبر سے پورے ملک میں آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کی تمام ادائیگیاں بذریعہ راست ڈیجیٹل نظام کی جائیں گی اور اس سلسلے میں DDOs کو تربیت دی جا چکی ہے.
اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، شزا فاطمہ خواجہ، عطاء اللہ تارڑ، جنید انور چوہدری، علی پرویز ملک، سردار اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، تمام صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی برآمدات کے فروغ، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی میں اضافے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار سمیت مقامی صنعتوں کو برآمدتی معیار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان TDAP کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی منظوری دے دی. فیصلہ وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقدہ اعلی سطح اجلاس میں ہوا.
گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کیلئے صنعتوں میں تیارکردہ مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کلیدی اہمیت کی حامل ہے، جدید خطور پر استوار TDAP اسکی راہ ہمور کرے گا. زرعی مصنوعات کی برآمد کا پورا ایکو سسٹم بشمول پوری ویلیو چین بنائی جائیگی. شفاف طریقے سے میرٹ پر اچھی تربیت یافتہ افرادی قوت کو TDAP کا حصہ بنایا جائے.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب اداروں میں ترقی کو اہداف کے حصول اور کارکردگی سے مشروط کیا جائے. ادارے کے پرفارمنس اور فنائنشل آڈٹ کیلئے اچھی شہرت یافتہ نجی آڈٹ فرم کی خدمات لی جائیں. پاکستان کی برآمدی استعداد وسیع اور جغرافیہ موضوں ترین ہے، برآمدات میں اضافے کیلئے صنعتوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولت فراہم کر رہے ہیں تاکہ ان خصوصیات سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جا سکے.
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت TDAP کی کارکردگی اور اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
اجلاس کو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کی موجودہ کارکردگی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں TDAP کے موجودہ نظام میں چیلنجز کے بارے میں اجلاس کو تفصیلی طور پر اگاہ کیا گیا۔ عالمی سطح پر مؤثر ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشنز کے تقابلی جائزے میں واضح کیا گیا کہ جدید ادارے مقامی منڈیوں کی ترقی و عالمی منڈیوں تک رسائی، برآمد کنندگان کی استعداد میں اضافے اور برآمدات کے فروغ کے لیے مربوط خدمات فراہم کرتے ہیں۔
بریفنگ میں TDAP کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ عالمی معیار کے تجارتی فروغ کے ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحات بھی پیش کی گئیں۔ ان میں ادارے کے دائرۂ کار کو آٹھ بنیادی افعال تک محدود کرنا، بورڈ اور انتظامی ڈھانچے کی تنظیمِ نو، علاقائی نیٹ ورک کو مؤثر بنانا، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت کا استعمال، جبکہ کارکردگی جانچنے کے لیے قابلِ پیمائش اشاریوں اور آزادانہ تھرڈ پارٹی جائزے کا نظام متعارف کرانا شامل ہے۔ مجوزہ اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے منظوری، ڈیزائن، نفاذ اور آزادانہ جانچ پر مشتمل 12 ماہ کا مرحلہ وار منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اصلاحات کو آئندہ برس کے وسط میں مکمل کرکے اطلاق یقینی بنانے کی ہدایت کی.
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، ڈاکٹر مصدق ملک، مشیر وزیرِ اعظم ہارون اختر، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج کشمیر چوک انڈر پاس، اسلام آباد کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا.
وزیراعظم نے قوم کی خدمت، پاکستان کی ترقی اوراسے اقوام عالم میں اعلیٰ مقام دلانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شبانہ روز محنت، مستعدی اور اجتماعی کاوشوں کے ذریعے ملک کی ترقی و خوشحالی کی منزل کا حصول ممکن ہے ، کشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ 27 روز میں مکمل کرنا غیر معمولی کارنامہ ہے، یہ منصوبہ آئندہ سال ایس سی او کانفرنس اور دیگر اہم تقریبات کے لئے تیاریوں کا عملی ثبوت ہے.
وزیراعظم نے کہا کہ آج کشمیر چوک انڈر پاس کا افتتاح کیا گیا ہے تاہم یہ منصوبہ محض 500 میٹر طویل انڈر پاس تک محدود نہیں بلکہ اس کے گرد چار کلومیٹر طویل سڑکوں کا جال بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر، جنت نظیر کی مناسبت سے یہاں دو یادگاریں بھی تعمیر کی گئی ہیں اور ہزاروں نئے پودے بھی لگائے گئے ہیں، یہ تمام کام صرف 27 روز میں مکمل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ اس قدر برق رفتاری سے پہلے کوئی منصوبہ مکمل کیا گیا ہو۔ وزیراعظم نے اس غیر معمولی کارکردگی پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، چیئرمین سی ڈی اے، کنٹریکٹر اور تمام متعلقہ افسران و اہلکاروں کو مبارکباد دی جنہوں نے شبانہ روز محنت کرکے یہ کارنامہ انجام دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا ہماری ذمہ داری ہے ، اس منصوبے سے علاقے میں ٹریفک کے مسائل حل کرنے میں بہت مدد ملے گی، اگلے سال ایس سی او کانفرنس منعقد ہوگی جس میں ہزاروں مہمان اسلام آباد آئیں گے، اس تناظر میں مہمان نوازی کا تقاضا ہے کہ نہ صرف دارالحکومت میں ٹریفک کے مسائل نہ ہوں بلکہ شہر کو خوبصورت بنانے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے تاکہ اسلام آباد کی خوبصورتی اور خوشبو اس کے گردونواح کے تمام علاقوں تک پھیلے اور پاکستان کے نام کو مزید چار چاند لگیں۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کی انتہائی مختصر مدت میں تکمیل اس بات کا ثبوت ہے کہ متعلقہ ٹیم نے ایس سی او کانفرنس اور آئندہ سال اسلام آباد میں ہونے والی دیگر تقریبات کے لئے بھرپور تیاریوں کا نہ صرف عندیہ دیا ہے بلکہ اپنی کارکردگی سے اسے ثابت بھی کیا ہے۔وزیراعظم نے منصوبے کی شفافیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیر چوک انڈرپاس منصوبہ ایک ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے اور شفاف پروکیورمنٹ نظام اور ای پیڈز کے ذریعے ٹھیکہ تخمینہ لاگت سے تقریباً اڑھائی فیصد کم پر دیا گیا۔انہوں نے منصوبے کی تکمیل میں محنت، شفافیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے تمام متعلقہ افراد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ توفیق اور ہمت عطا فرمائے کہ ہم ایک ٹیم کی حیثیت سے پاکستان کی شبانہ روز خدمت کریں اور ملک کو اقوام عالم میں ایک عظیم مقام دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدف ممکن ہے، اگرچہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، ان شاء اللہ اگر تمام معاملات اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی ترقی کی رفتار کو نہیں روک سکے گی۔ قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر چوک انڈر پاس کا منصوبہ معیاری کام کے ساتھ 27 روز میں مکمل کیا گیا ہے، منصوبے کی تکمیل میں تیزی کے ساتھ ساتھ تعمیراتی معیار برقرار رکھنا اولین ترجیح تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے کے دوران پرانے درخت محفوظ کر کے دوسری جگہ منتقل کئے گئے اور کشمیر چوک منصوبے کے تحت 6340 نئے سایہ دار درخت لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو مزید سرسبز بنانے کیلئے درختوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کریں گے، وفاقی دارالحکومت میں سفاری پارک کے قیام کے لئے بین الاقوامی کنسٹلنٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملے پر مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی، وفاقی کابینہ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی جے آئی ٹی رپورٹ کی منظوری دیدی ہے، اربوں روپے مالیت کی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی جائیداد سی ڈی اے کو واپس ملی ہے، ون کانسٹیٹیوشن کی عمارت کو اصل مقصد کے مطابق فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ انڈر پاس سے اسلام آباد، راولپنڈی، مری اور آزاد کشمیر کے درمیان ٹریفک کی روانی میں آسانی ہوگی۔ یہ منصوبہ ایک ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے، منصوبے میں تقریباً 4کلو میٹر سڑکوں کا نیٹ ورک بھی شامل ہے۔ کشمیر چوک انڈر پاس سےمصروف شاہرائوں پر ٹریفک کا دبائو کم کرنے میں مدد ملے گی۔کشمیر چوک منصوبے کے تحت 6340 نئے سایہ دار درخت لگائے گئے ہیں، منصوبے کے اطراف کشمیر کی مناسبت سے دو خوبصورت مانومنٹس بھی تعمیر کئے گئے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت برآمدات کرنے والے ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اسکیم پر کسی بھی بینک کو عمل درآمد سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی. ایس ایم ایز کو طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کی جائے. ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے. ایس ایم ایز کی استعداد کار میں اضافے، مہارتوں کی بہتری اور کاروبار کے فروغ کے لیے حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی. برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے ایکریڈیٹیشن کے معیار, لیبارٹریز کی توسیع اور دیگر ضابطہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے. وزیراعظم نے برآمد کنندگان کو ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید لیبارٹریز کے قیام کی ہدایت کی.
اجلاس کو ایس ایم ایز کے نمائندوں کے ساتھ حالیہ مشاورتی نشستوں اور ان کے مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مشاورتی نشستوں میں ٹیکسوں، ریفنڈز، صوبائی محصولات، ایکریڈیٹیشن، لاجسٹکس، ادائیگیوں اور فنانسنگ سے متعلق مسائل زیرِ بحث آئے. پاکستان میں برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کی تعداد تقریباً 17 ہزار ہے. اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے یکم نومبر سے ایس ایم ای سیکٹر کیلئے قرضوں تک آسان رسائی کے پورٹل کے اجرا کے بعد 10,000 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں. ایکسپورٹ فائنانس اسکیم میں ایس ایم ای سیکٹر اور نئے ایکسپورٹرز کیلئے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں. طویل مدتی ترقیاتی فائنانسنگ فیسلٹی (LTGFF) کیلئے اس سال 350 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں. افریقی ممالک کو پاکستانی کو برآمدات بڑھانے کے حوالے سے اقدامات لیے جارہے ہیں.
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احسن اقبال، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ذوالفقار علی بھٹی، چئیرمن اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تجارت جاوید حنیف خان، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سوڈان کے وزیر داخلہ عزت مآب لیفٹیننٹ جنرل بابیکر سمرا مصطفیٰ علی کی آج اسلام آباد میں ملاقات ہوئی. وزیراعظم نے معزز مہمان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا.
گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان، سوڈان کے ساتھ اپنے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے. ہم چاہتے ہیں کہ سوڈان اپنے موجودہ بحران سے نکل کر ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ملک کے طور پر ابھرے. پاکستان سوڈان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے. زراعت، دفاع، تعلیم اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے وسیع مواقع ہیں. پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی (OIC)، G-77 اور دیگر کثیر الجہتی فورمز پر سوڈان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے.
سوڈان کے وزیر داخلہ نے پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال اور میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا. سوڈانی وزیر داخلہ نے مشکل صورتحال میں پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے انسانی و طبی امداد پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ سوڈانی وزیر داخلہ نے سوڈان میں امن و امان کی کوششوں کے حوالے سے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی حمایت کو بھی سراہا. سوڈانی وزیر داخلہ نے خطے کی امن اور ثالثی کے حوالے سے پاکستان کے کوششوں کی تعریف کی.
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے. صوبوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے.
وزیراعظم نے ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات کی کامیاب انعقاد کے لیے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم، محنت اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسداد پولیو مہمات کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے.
وزیرِ اعظم نے ہدایات دیں کہ ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات (روٹین امیونائزیشن) کی کوریج کو مزید بہتر بنایا جائے اور خصوصی طور پر پولیو سے متاثرہ و پولیو کے حوالے سے تشویش کے حامل علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بڑھائی جائے. وزیراعظم نے سکیورٹی کے حوالے سے حساس اور مشکل علاقوں میں انسدادِ پولیو مہمات کے لیے رسائی میں نمایاں بہتری کو قابلِ تحسین قرار دیا.
وزیراعظم مے ملک میں سامنے آنے والے حالیہ پولیو کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خلاف پہلے سے زیادہ بہتر حکمت عملی اور بھرپور جدوجہد سے آگے بڑھنا ہو گا. وزیراعظم نے وفاقی وزیر، وزیر مملکت ، سیکرٹری قومی صحت اور انسداد پولیو ٹیم کے اراکین کو فوری طور پر چاروں صوبوں کا فوری دورہ کر کے وزراء اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے ملاقاتوں کی ہدایت کی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد انسداد پولیو کا مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے.
اجلاس کو ملک میں حالیہ پولیو کیسز اور انسداد پولیو کے حوالےسے اقدامات پر بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ آج ہی ضلع خیبر سے پولیو کا نیا کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 9 ہو گئی. 2026 میں صوبہء خیبر پختونخوا میں ضلع خیبر سے 3, بنوں سے 3 اور شمالی وزیرستان سے ایک پولیو کیس سامنے آیا؛ ضلع خیبر سے سامنے آنے والے تمام پولیو کیسز افغانستان کے پولیو وائرس سے متعلق ہیں. رواں سال صوبہء سندھ میں ضلع کراچی شرقی سے ایک اور ضلع سجاول سے ایک پولیو کیس سامنے آیا.
مزید بتایا گیا کہ افغانستان سے ہونے والی آمد و رفت پاکستان میں اس وقت پولیو کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے. صوبہء پنجاب میں فروری 2025سے پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا؛ صوبہء بلوچستان سے 2025 اور 2026 میں پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان پہلے سے پولیو سے پاک ہیں. رواں سال صوبہء سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مقدار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے. انسداد پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی بہتر بنانے اور انہیں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بہتر رسائی دینے کے حوالےسے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں.
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو سینٹر عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
__
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کے حوالے سے اہم اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
اجلاس میں پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا. وزیراعظم نے پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کی اب تک کی پیشرفت اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ، رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے نتیجے میں رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ مستحق شہری اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں. مستحق شہریوں کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی یہ شفاف سبسڈی اسکیم مستقبل میں عوامی فلاح و بہبود کے ایسے اقدامات کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگی.
وزیراعظم نے اسکیم کے حوالے سے مانیٹرنگ اور کارگر ڈیش بورڈ ترتیب دینے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وفاقی سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ضرار حاشم خان اور ان کی ٹیم کی پذیرائی کی. وزیراعظم نے پیٹرولیم سبسڈی اسکیم کے تحت رجسٹرڈ مستحقین کو سہولت فراہم نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کی.
اجلاس کو پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ سبسیڈی اسکیم کے تحت اب تک 15,519,282 شہری رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں سے 15.06 ملین موٹر بائیکس اور 449 ہزار 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان ہیں. سبسیڈی اسکیم کے تحت اب تک 63٫153,685 ٹوکن جاری ہوئے جن میں سے 59,445,347 ٹوکنز کو استعمال /ریڈییم کیا گیا.فیول سبسیڈی اسکیم کے تحت 4 نومبر، 2026 تک 28.6 ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں. پرائم منسٹر فیول ریلیف اسکیم کے حوالے کی معلومات اور شکایات کے ازالے کے لئے صارفین اور پیٹرول پمپس کے لئے الگ الگ کال سینٹرز قائم کئے گئے ہیں.
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظفر اقبال اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔
___
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں انتظامی امور کی سہل انجام دہی اور گورننس کی مزید بہتری کیلئے وزیر اعلی کو تفویض شدہ اختیارات کی صوبے میں ایمرجنسی کی مدت کے دوران روزمرہ کے امور کی انجام دہی کیلئے گورنر خیبر پختونخوا کو منتقلی کی منظوری دے دی. گورنر خیبر پختونخوا ایسے تمام اختیارات کے استعمال کے حوالے سے ہر ماہ وفاقی حکومت کو جائزہ رپورٹ پیش کریں گے. وفاقی کابینہ نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا ایڈوائزی کونسل، گورنر خیبر پختونخوا کی قیادت میں صوبے کے عوام کی بہتری اور خوشحالی اور صوبے میں امن و امان کے قیام کیلئے بھرپور کاوشیں یقینی بنائیں گے.
وفاقی کابینہ نے پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کردی۔ پاکستان اور کویت کے مابین دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو طے پایا تھا، جس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی شعبوں میں تعاون کا فروغ ہے۔ کویتی حکومت نے 19 جولائی اس معاہدے کی توثیق کی تھی۔
وفاقی کابینہ نے وزارتِ خزانہ کی سفارش پر نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دے دی۔ کابینہ کو نئے کرنسی نوٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن کیلئے ملک بھر سے مصوروں و ڈیزائنرز سے تجاویز لی گئیں اور وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کر دہ کابینہ کمیٹی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اس پر تفصیلی مشاورت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جعلی نوٹوں کی روک تھام کیلئے سیکیورٹی فیچرز بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید میٹریل کا استعمال کیا جائیگا جس سے نوٹوں کی استعمال کی معیاد میں بھی اضافہ ہوگا.
وفاقی کابینہ نے دس روپے کے بینک نوٹ کی جگہ دس روپے کا سکہ متعارف کرانے کی بھی منظوری بھی دے دی۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی اداروں (CCOSOEs) کے 26 اکتوبر کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز (CCLC) کے 22 جنوری، 26 فروری، 5، 18 اور 27 اگست، 11 اور 22 ستمبر کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔
2/2
وزیراعظم نے کہا کہ 2018ء میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا تاہم بدقسمتی سے دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، انشاء اﷲ اب اس کا قلع قمع ہو گا اور پوری قوم کی دعائوں سے اس سے نجات ملے گی۔ وزیراعظم نے موسم سرما کی آمد پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ بحری راستوں میں درپیش حائل رکاوٹوں کے حوالے سے ہر دوسرے، تیسرے دن ان چیلنجز پر غور کرنے کیلئے اجلاس منعقد ہوتا ہے اور اس میں فیول اور ایل پی جی سمیت دیگر ذرائع کی دستیابی اور فراہمی کے حوالے سے بات چیت کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے قوم کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہم انسانی حد تک اپنی پوری کوشش کریں گے کہ ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات کی درکار طلب ان تک باہم پہنچائی جائیں، بجلی کے کارخانے چلتے رہیں، اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دبائو کو بھی پوری محنت کاوش سے کنٹرول میں رکھیں گے، بھرپور کاوش ہو گی کہ کوئی مشکلات درپیش نہ ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کو گروپ آف 24 کی چیئرمین ملنے پر کابینہ کے پلیٹ فارم سے ایک مرتبہ پھر مبارکباد پیش کرتے ہیں، ہمیں پورا یقین ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو جو عزت اور ذمہ داری عطاء فرمائی ہے وہ پوری محنت سے وہاں ہر فورم پر اپنا کیس پیش کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ روز فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، اس کامیابی کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی پوری ٹیم، تمام اداروں اور شخصیات کو جاتا ہے جنہوں نے ان کی لیڈر شپ میں یہ کامیاب تجربہ کیا۔ اس موقع پر وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایل پی جی کی درآمد کے حوالے سے انتظامات کے حوالے سے آگاہ کیا.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی.
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لئے مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل ہونے سے روکنے کے لئے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، ملک میں فیول سبسڈی کا شاندار پروگرام کامیابی سے جاری ہے جو دسمبر کے آخر تک رہے گا،ایل این جی کی درآمد سے اربوں روپے کمانے والے مافیا کا دور ختم ہو چکا ہے، خیبرپختونخوا کے لئے 160 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج دیا گیا ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتیں سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر بھرپور اقدامات کریں گی.
وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس وقت دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ،اس کی بڑی وجہ خطے میں بدامنی ہے،پاکستان امن قائم کرنے کے لئے پہلے کی طرح اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے،گزشتہ ہفتے میں پاکستانی وفد نے دو بار تہران کا دورہ کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی تہران گئے جہاں پاکستان،سعودی عرب ، ایران اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت ہوئی، وہاں پر پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان معاہدے کے حوالے سے بھی اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی کہ کس طرح خطے میں باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فیول سبسڈی کا شاندار پروگرام کامیابی سے جاری ہے جو دسمبر کے آخر تک رہے گا،ڈیڑھ کروڑ افراد نے ٹوکن استعمال کئے ہیں اور اگر پانچ افراد پر مبنی کنبہ ہو تو کم از کم ساڑھے سات کروڑ افراد مستفید ہوچکے ہیں، حکومت نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عام آدمی پر نہیں پڑنے دیا، جمعہ کو عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لٹر اضافے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا گیا بلکہ وزیر پٹرولیم اور ان کی ٹیم نے ریفائنریز کے ساتھ اہم بات چیت کی اور انہیں کہا گیا کہ یہ بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے وہ برداشت کریں، اس پر وزیر پٹرولیم اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے کے حالات کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے پیش نظر عوامی ریلیف کیلئے فیول سبسڈی سکیم کا اجرا کیا گیا جس سے اب تک ساڑھے سات کروڑ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور اس مد میں تقریباً 28 ارب روپے کی سبسڈی دی جا چکی ہے، یہ پروگرام انتہائی کامیابی اور شفاف طریقے سے آگے چل رہا ہے، اس پر متعلقہ حکام نے پوری نظر رکھی ہوئی ہے، کچھ پٹرولیم پمپوں سے اس سکیم کے تحت گڑ بڑ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں تاہم اس پر مکمل نظر ہے اور ان کے خلاف بھرپور کارروائی ہو گی۔ انہوں نے وزیر پٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ ایسے پٹرول پمپوں کو بند کریں، انہیں سزا دی جائے تاکہ یہ عبرت پکڑیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسی طرح ہم نے ایل این جی مافیا جنہوں نے اس کی درآمد سے اربوں روپے کمائے، اس سے کئی دہائیوں بعد چھٹکارا حاصل کیا ہے اور اب مافیا کا دور ختم ہو چکا ہے، اب مسابقت اور شفافیت کے ساتھ ایل پی جی کی درآمد اور اس کا انتظام کیا جا رہا ہے، پی ایس او اور پارکو جیسے سرکاری اداروں کے ذریعے امور کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم، وزیر توانائی اور وزیر خزانہ سمیت ان کی پوری ٹیم کو شاباش دیتے ہیں کہ کئی دہائیوں بعد یہ کفر خدا خدا کرکے ٹوٹا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایل پی جی کی درآمد میں مسابقت ہوگی اور مقامی ایل پی جی کی لاٹ میں نیلامی ہوگی اور اس کا منافع حکومت عوام تک سبسڈی دے کر پہنچائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ روز خیبرپختونخوا کیلئے ترقیاتی پیکیج دیا گیا ہے جس کی مالیت 160 ارب روپے ہے اور اس میں سکیورٹی کو مقدم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کثیر تعداد میں دہشت گرد مارے گئے ہیں، وہاں پر دی جانے والی عظیم قربانیوں کے نتیجہ میں اﷲ کی مدد اور فورسز کی بھرپور کاوشوں سے اس کا خاتمہ ہو گا، صوبے میں اس وقت کی حکومت اور وفاقی حکومت باہمی تعاون سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا سر کچلیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا خوبصورت ترین صوبہ ہے جہاں کے بسنے والے غیور اور بہادر لوگ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے آ رہے ہیں وہاں پر بڑی شہادتیں ہوئی ہیں، بلوچستان میں بھی ایک عرصہ سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔
1/2
H.E. Mr Liu Haixing, Minister of the International Department of the Communist Party of China Central Committee (IDCPC), called on Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif in Islamabad, today.
Group photo of Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif with H.E. Mr Liu Haixing, Minister of the International Department of the Communist Party of China Central Committee and Chinese delegation.
Mr. Liu Haixing, the Minister of the International Department of the Central Committee of the Communist Party of China (IDCPC) called on the Prime Minister Mr. Muhammad Shehbaz Sharif in Islamabad today.
Welcoming Mr. Liu Haixing and his delegation, the Prime Minister reaffirmed that Pakistan and China enjoyed an ironclad, time-tested and All-Weather Strategic Cooperative partnership. He underscored that Pakistan-China friendship was anchored in mutual trust, mutual respect and deep- rooted bonds between the peoples of both countries.
The Prime Minister stressed the importance of sustained political engagement and party-to-party exchanges in further strengthening the bilateral relations. He appreciated the important role played by the IDCPC in fostering institutional linkages and promoting cooperation between the political leadership of the two countries.
Reaffirming Pakistan’s commitment to working closely with China, the Prime Minister commended the shared focus on advancing cooperation in trade, investment, connectivity, infrastructure development, IT and agriculture modernization.
Mr. Liu Haixing conveyed the greetings of the Chinese leadership and reaffirmed China’s commitment to further deepening its longstanding friendship with Pakistan. He appreciated the ongoing momentum in high-level and party-to-party exchanges, aimed at further bolstering the iron-clad friendship between the two countries.
Both sides exchanged views on regional and international developments and reaffirmed their commitment to maintaining close coordination and cooperation at bilateral and multilateral forums.
The Prime Minister also hosted a banquet in honor of the visiting dignitary and the accompanying Chinese delegation.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں زیر تعمیر بین الاقوامی معیار کے اسپتال، جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ جناح میڈیکل کمپلیلس اسلام آباد سمیت پورے پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مریضوں کو علاج کیلئے جدید ترین سہولیات فراہم کرے گا. جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر پر پیش رفت تسلی بخش ہے، معینہ مدت میں اہداف کا حصول یقینی بنایا جائے. جناح میڈیکل کمپلیکس میں تمام تر تقرریاں میرٹ پر شفاف طریقے سے کی جائیں.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کو چلانے کیلئے نجی ادارے کی خدمات لی جائیں جو عالمی سطح پر بہترین معیار کی علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے. جناح میڈیکل کمپلیکس میں کم آمدن و متوسط طبقے کو تشخیص کی جدید سہولیات فراہم کی جائے. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پیٹس اسکین و دیگر جدید تشخیصی سہولیات کو منصوبے کا کلیدی حصہ بنایا جائے.
اجلاس کو بتایا گیا کہ جناح میڈیکل اینڈ ریسرچ سینٹر (JMCRC-I) پر مجموعی طور پر 59 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مرکزی ہسپتال اور پارکنگ پلازہ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہے۔ 403 بستروں پر مشتمل اس منصوبے کو 23 مارچ 2027 تک فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ طبی آلات کی تنصیب و دیکھ بھال، ہسپتال کے ڈیجیٹل مینجمنٹ سسٹم اور دیگر انتظامی امور پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایچ-11 میں جناح میڈیکل اینڈ ریسرچ سینٹر کے فیز ٹو منصوبے پر نظرثانی شدہ ڈیزائن کے تحت قومی سطح پر مسابقتی بِڈنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ تعمیراتی کام جلد شروع ہو جائیگا۔ منصوبے کے لیے جدید تشخیصی مشینری و اسکینرز کی خریداری پر بھی کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، طارق فضل چوہدری اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.