اس تصویر کو دیکھ کر آپ حیران ہونگے کہ یہ کون ہے؟
جناب یہ پختون خواہ کے مشیر اطلاعات شفیع جان ہیں۔ جو آج سے سات سال پہلے ٹرانسجینڈر کمیونٹی کا صدر تھا۔ اور ٹرانسجینڈر گل چاہت کا شاگرد خاص بھی تھا۔
اب شفیع جان اپنے اس تصویر سے انکار بھی نہیں کرسکتا۔ یہی لڑکا آج ٹی وی پر بیٹھ کر ہر سیاسی رہنما کی تضحیک کرتا ہے۔
@ShafiJanPTI
داد شاہ کی مبینہ "گمشدگی" یا مفروری؟
داد شاہ کے حوالے سے ایک بار پھر کراچی سے “لاپتہ” ہونے کا بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے، تاہم دستیاب معلومات اور ماضی کا ریکارڈ اس دعوے پر کئی سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
2018 میں گرفتاری سے بچنے کے ��یے داد شاہ فرار ہو گیا تھا اور بعد ازاں گوادر میں روپوش رہا۔ اس دوران بعض نام نہاد ایکٹیوسٹس اور ریاست مخالف حلقوں نے اسے “جبری گمشدگی” کا کیس بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی، حالانکہ وہ آزادانہ طور پر چھپا ہوا تھا۔ بعد میں اس کی سرگرمیوں سے اس کی نام نہاد جبری گمشدگی کا راز فاش ہو گیا۔
اب ایک مرتبہ پھر، گرفتاری کے خدشات کے بعد اس کے فرار ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور ماضی کی طرح دوبارہ اس کی "گمشدگی" کا ڈرامہ دہرایا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہو اور گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو جائے، تو کیا اسے لاپتہ قرار دینا حقائق کی درست عکاسی ہے؟
مزید برآں، پولیس نے داد شاہ کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر کر رکھا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہے اور اسی ڈر سے ماضی کی طرح روپوش ہے۔
داد شاہ کے حوالے سے یہ حقائق بھی سامنے آئے ہیں کہ وہ انڈین RAW کی طرف سے "فتنۂ ہندوستان" سے منسلک نیٹ ورکس کے لیے مالی معاونت اور فنڈز کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کے خلاف ایسے شواہد موجود ہیں کہ RAW سے موصول ہونے والی رقوم کی آگے ترسیل کے لیے اس نے کراچی میں ایک مربوط نیٹ ورک اور طریقہ کار قائم کیا ہوا تھا۔
ان حالات میں ضروری ہے کہ کسی بھی دعوے کو محض پروپیگنڈا یا جذباتی بیانیے کی بنیاد پر قبول کرنے کے بجائے حقائق، شواہد اور متعلقہ ریکارڈ کی روشنی میں پرکھا جائے۔ مفروری، روپوشی اور جبری گمشدگی ا��گ الگ معاملات ہیں، جنہیں سیاسی یا پروپیگنڈا مقاصد کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کرنا حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
کنجروں کی پارٹی ایک دوسرے کی ویڈیو لیک کرتے ہوئے
شہباز گل نے اپنے تھپڑ کا بدلہ لے لیا۔۔ پی ٹی آئی ایم پی اے سلمان شاہ مہدی کی ویڈیو لیک کر دی۔
ویڈیو لیک میں معید پیرزادہ کی سالی کا اہم کردار معید پیرزادہ کی سالی زونینا اور ایم پی اے سلمان شاہ مہدی کی ویڈیو سے پی ٹی آئی کے اندر طوفان بھرپا۔
@MoeedNj@SHABAZGIL@ShazadAkbar@Aleema_KhanPK@PTIofficial
ناظم جاکھیو کا قتل صرف ایک شخص کا قتل نہیں تھا، بلکہ انصاف، انسانی وقار اور قانون کی با��ادستی پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ آج بھی لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ناظم جاکھیو کو کیوں اور کیسے قتل کیا گیا، اور کیا متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف ملا؟
اسمبلی سے قرارداد کی منظوری کے بعد احتجاج کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچا۔ منتخب نمائندوں کی توثیق کے بعد اب وقت ہے کہ ہم محاذ آرائی ختم کریں اور معاملات کو آئینی طریقے سے آگے بڑھائیں۔ عوامی مفاد اسی میں ہے کہ ریاست میں امن و استحکام برقرار رہے۔
سنسنی خیز سرخیاں کلکس تو دلا سکتی ہیں مگر حقائق نہیں بدل سکتیں۔ جی ایس ٹی میں اضافے کی بے بنیاد خبریں پھیلا کر خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔ حکومت شہریوں پر بوجھ ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، بجٹ کی تمام تجاویز کا جائزہ صرف عوامی ریلیف، مہنگائی پر قابو پانے اور قومی معاشی مفاد کے ترازو میں لیا جائے گا۔
آزاد کشمیر کے بیشتر عوام کا روزگار سیاحت کے ساتھ جڑا ہے اور ریاست کی معیشت میں بھی سیاحت انڈسٹری کا بہت بڑا حصہ ہے۔
یہ چند بیکری والے اور اسٹیشنری کی دکان والے ��ئے روز کوئی نہ کوئی بیرونی ایجنڈا لے کر روڈ پر انتشار کرتے ہیں جس سے ٹورسٹ پریشان ہوتے ہیں، ہوٹل ویران ہوتے ہیں اور عام عوام کے چولہے خالی۔ ان کی یہ ڈھونگ بازی اب ختم ہونی چاہیے۔
اگر یہ واقع ہی اپنے آپ کو کشمیر کا ٹھیکدار سمجھتے ہیں تو اگلے ماہ الیکشنز ہیں، یہ الیکشنز میں حصہ لیں، حکومت میں آئیں اور عملی کام کریں۔
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ان بے غیرتوں کا اصلی چہرہ سامنے آگیا۔ ورنا یہ تو کشمیری عوام کے سامنے فرشتے بنے ہوئے تھے۔ جبکہ حقیقت میں یہی سے بڑے شیطان ہیں
#دشمن_کے_ایجنٹ
چور آفریدی گروپ کے سرخیل مینا آفریدی نے اعتراف کر لیا کہ سہیل شاہ رنگیلا حکومت پل صراط پر کھڑی ہے اور جلد جہنم واصل ہونے والی ہے۔ بڑی خوبصورتی سے عمرانی کارڈ کھیل رہا ہے جو انشاللہ بے سود جائے گا
@rizwanghilzai@MeenakhanAfridi@SohailAfridiISF
سہیل شاہ رنگیلا منشیات فروشوں کا سرخیل‼️‼️
🔺چند عرصہ قبل محکمہ ایکسائز خیبر پختونخواہ ایبٹ آباد کے ایڈیشنل ایس ایچ او سب انسپیکٹر نسیم نے مہینوں کے محنت اور جان کی بازی لگا کر انٹرنیشنل ڈرگ کارٹیل کے تین مرکزی کرداروں کو گرفتار کیا۔ گرفتار افراد کے موبائیل فونوں سے ایسے شواہد ملے جن سے وہ یورپ اور خلیجی ممالک میں ہینڈلرز کے ساتھ منشیات کی سودہ بازی کر رہے تھے۔
🔺اس احسن اقدام پر ایکسائز اہکاروں کو انعام دینے کی بجائے سہیل شاہ رنگیلا کے حکم پر گرفتار کر لیا گیا اور ان پر ایف آئی آر بھی درج کر دی گئی۔
🔺تفصیلات کے مطابق جب سب انسپیکٹر نسیم نے مجرم گرفتار کیے تو انہیں سہیل رنگیلے کے بھائی عامر آفریدی کا فون آیا اور اس نے بندے چھوڑنے کا حکم دیا لیکن نسیم نے انکار کیا۔ اس کے بعد وزیر اعلی کے پرنسپل سیکٹری نے ڈی جی ایکسائز کو حکم دیا پر ڈی جی نے بھی قانونی تقاضوں کا بہانہ کر کے معذرت کی۔
🔺ہر جگہ ناکامی کے بعد سہیل رنگیلا نے سیکٹری ایکسائزز الیاس آفریدی جو کہ صوبے پر قابض چور آفریدی گینگ کا ہی رکن ہے کو لانچ کیا۔ الیاس آفریدی نے اپنے ہی محکمے کے سب انسپیکٹر کو قید کر دیا اور منشیات فروشوں کو عام سیاح ظاہر کر کے ان کے کیس کو خارج کر دیا۔ مطلب ملزم خود ہی قاضی بنے اور اپنی سزا معاف کر دی۔
ایک دفعہ پھر سہیل رنگیلا نے ثابت کیا کہ وہ گورننس کرنے نہیں بلکہ دہشت گردوں اور منشیات فروشوں کی سہولت کاری کرنے کے لیے وزیر اعلی بنا
لعنت✋🏿✋🏿✋🏿
Breaking 🚨
All those who tweeted about a sensational story have been asked to delete the posts.
Wow! Initially they posted that at least 2 hostile agencies are working behind the scenes (in consult with) BLA sympathizers in Europe to block the listing attempt of BLA (and its suicide bomber wing @ Majeed Brigade) as terrorist organization under UN Resolution 1267.
The cat is out of bag: the asset of enemies of Pakistan is under threat of listing and that has forced the master handlers into action. ALL EFFORTS TO BLOCK THE LISTING tomorrow
Let's see!
BLA STANDS EXPOSED ANYWAY - AN ASSET OF HINDUSTAN AND HINDUSTANI FRIENDS
امریکی عوام اب آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کی خوراک پہلے جیسی قدرتی نہیں رہی۔ 🍎
بہت سے لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ امریکی فوڈ سپلائی میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجزاء (GMOs) بڑے پیمانے پر شامل کیے جا چکے ہیں، جس نے خوراک کی اصل ساخت، معیار اور غذائیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
#GMOs #FoodSafety #HealthyFood #NaturalFood
یہ ہیں پاکستان کے الیٹ جرنلسٹ جو اپنے آپ کو طرم خان سمجھتے ہیں۔ اس وڈیو میں حامد میر کی فرعونیت صاف نمایاں ہے، کیسے وہ ایک چھوٹے درجے کے صحافی کو دھتکار رہا ہے۔
حامد میر اور اس جیسے اینکرز خود مائیک لے کر ہر کسی کے پیچھے گھومتے رہتے ہیں، روز چینلزز پر بیٹھ کر جھوٹے بہتان لگاتے رہتے ہیں لیکن جب خود سے ایک سیدھا سوال پوچھا جائے تو سادہ جواب دینے کے بجائے مغلائی طور پر بھاگ گیا
It is genuinely hilarious that @AdityaRajKaul expected anyone to believe this amateur theater. A recycled script, zero verifiable evidence, and an obviously fake AI voice clone this is an utter embarrassment for Indian information operations. Instead of manufacturing cheap thrills, their operators should invest time in actually upgrading their miserable capabilities.
گلگت بلتستان میں عوامی اختیار کی بحالی
ایک طویل 22 سالہ وقفے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام بالآخر اپنے مقدر کے فیصلہ ساز بننے جا رہے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات نہ صرف مقامی سطح پر نمائندگی کا ذریعہ ہیں بلکہ جمہوریت کو اس کے اصل مالکان تک پہنچانے کا سب سے بڑا قدم ہیں۔
یہاں کے لوگ بہتر جانتے ہیں کہ ان کے بچوں کی تعلیم، صحت، پانی اور مواصلات کی کیا ضرورت ہے۔ اب یہ فیصلے دفتر میں بیٹھے دور کے لوگ نہیں، بلکہ براہ راست متاثرہ لوگ کریں گے۔
مضبوط مقام�� ادارے کرپشن کم کریں گے، ذمہ داری بڑھائیں گے اور ترقی کو تیز اور جامع بنائیں گے۔
یہ گلگت بلتستان کی عوامی واپسی ہے۔
یہ حقیقی جمہوریت کا آغاز ہے۔
اگر کشمیری عوام میں ذرا برابر بھی غیرت ہوگی تو اب اس انڈین کمیٹی کے ارکان سے سوال کریں۔ کہ کشمیری عوام کے مستقبل کا فیصلہ انڈیا کیسے کررہا ہے؟ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا بھی اب انڈیا سے پوچھ کر ہوگا؟ #India
اس کمیٹی کا نام آج انڈین "ایکشن کمیٹی" ہے۔ یہ انڈیا کے ہاں اور ناں پر فیصلے کریں اور کشمیری عوام کا فیصلہ اب پارلیمنٹ میں ہوگا
Canadians, how long will you remain silent? The sheer volume of people from India trying to settle in Canada has broken your healthcare and social systems. It’s time to wake up and demand immediate immigration freezes @MarkJCarney
آل پارٹیز کانفرنس سے بھاگنا: ذمہ داری کا فرار
جو بات چیت سے بھاگتا ہے، وہ حل نہیں، بحران چاہتا ہے۔
آزاد کشمیر حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلاکر سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کیا۔ بارہ مہاجر نشستوں سمیت اہم مسائل پر بات چیت کا موقع فراہم کیا گیا۔ مگر عوامی ایکشن کمیٹی نے اس سے فرار اختیار کر لیا۔
یہ فرار مذاکرات سے انکار اور اشتعال انگیزی کی طرف رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ جب حکومت نے مکالمے کا دروازہ کھولا تو مخالف فریق کو بھی میز پر آنا چاہیے تھا۔
اب ہڑتالوں اور سڑکوں کی بندش سے جو مشکلات عوام کو درپیش ہیں، ان کی ذمہ داری عوامی ایکشن کمیٹی پر ہے۔
امریکہ، کینیڈا، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں آج انڈیا مخالف جذبات عروج پر ہیں۔ ٹیکساس کا واقعہ اسی س��سلے کی ایک کڑی ہے۔ لوگ انڈین امیگریشن، جابز کی چوری، ہاؤسنگ مارکیٹ پر دباؤ اور ثقافتی تبدیلیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ کینیڈا میں خالصتان تحریک، برطانیہ اور یورپ میں بڑھتی تنقید، اور امریکہ میں H-1B ویزوں پر احتجاج یہ سب مل کر انڈیا کی “سافٹ پاور�� کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دنیا اب انڈیا کو دوست نہیں، مسئلہ سمجھ رہی ہے۔