اگر جہنم کا وہ منظر دیکھ لیتے جو نبی ﷺ نے دیکھا، تو شاید گناہ ہمیں گناہ ہی محسوس ہوتے۔
🥀
Agar Jahannum ka woh manzar dekh lete jo Nabi ﷺ ne dekha, to shayad gunaah humein gunaah hi mehsoos hote. 🥀
#DilKiBaat
الْكَنُودُ — انسان نعمتوں کے باوجود ناشکرا کیوں ہوجاتا ہے؟
انسان کے پاس کبھی کبھی وہ سب کچھ ہوتا ہے جس کے لیے اس نے برسوں دعائیں کی ہوتی ہیں۔
گھر، صحت، رزق، اپنے لوگ، سکون، سانس، آنکھوں کی روشنی، دل کی دھڑکن…
پھر بھی دل کہتا ہے:
"میرے پاس ہے ہی کیا؟"
قرآن انسان کی اس کیفیت کے لیے ایک نہایت گہرا لفظ استعمال کرتا ہے:
إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ
"بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے، اور وہ خود بھی اس پر گواہ ہے۔"
(سورۃ العادیات: 6–7)
کنود صرف زبان سے "الحمدللہ" نہ کہنا نہیں۔
یہ اس کیفیت کا نام بھی ہے جب انسان ایک محرومی کو اتنا بڑا کر لیتا ہے کہ اللہ کی بے شمار نعمتیں اسے دکھائی دینا بند ہوجاتی ہیں۔
ایک تکلیف یاد رہتی ہے، دس راحتیں بھول جاتی ہیں۔
کسی انسان کی ایک غلطی برسوں یاد رہتی ہے، مگر اللہ کے برسوں کے احسان معمول بن جاتے ہیں۔
جو نہیں ملا، وہ دل میں رہتا ہے…
جو مل گیا، وہ نظر سے اتر جاتا ہے۔
ہم اکثر نعمت کو اس وقت پہچانتے ہیں جب وہ چھن جاتی ہے۔
صحت ہو تو معمول لگتی ہے، بیماری آئے تو صحت نعمت بن جاتی ہے۔
اپنے لوگ ساتھ ہوں تو ان کی موجودگی معمول لگتی ہے، بچھڑ جائیں تو ان کی ایک آواز سننے کو دل ترس جاتا ہے۔
اولاد کی شرارتیں بوجھ لگتی ہیں، پھر کسی کی خالی گود دیکھ کر سمجھ آتا ہے کہ یہ بھی کتنی بڑی نعمت تھی۔
شاید ہماری سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا نہیں…
بلکہ یہ ہے کہ ہم جو کچھ رکھتے ہیں، اسے دیکھنا بھول گئے ہیں۔
شکر صرف زبان سے "الحمدللہ" کہنا نہیں۔
شکر یہ بھی ہے کہ انسان نعمت کو اللہ کا فضل سمجھے، اسے گناہ میں استعمال نہ کرے، اور اس نعمت کے ذریعے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے۔
اور کبھی کبھی شکر یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی چیز نہ ملنے پر انسان یہ یقین رکھے:
"میرا رب جانتا ہے، جو میرے لیے بہتر ہے وہی ہوگا۔"
اللہ فرماتے ہیں:
لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ
"اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔"
(سورۃ ابراہیم: 7)
یہ اضافہ صرف مال کا نہیں ہوتا۔
کبھی رزق میں برکت ہوتی ہے، کبھی دل میں سکون، کبھی تھوڑی چیز میں قناعت، اور کبھی سب سے بڑی نعمت یہ ہوتی ہے کہ انسان کو اپنی موجود نعمت نظر آنے لگتی ہے۔
آج ایک لمحے کے لیے رکیں۔
اپنے اردگرد دیکھیں۔
اپنی سانس، اپنی آنکھیں، اپنے ہاتھ، اپنے گھر، اپنے والدین، اپنے بچوں، اپنے دوست، اپنی صحت، اپنی نماز…
اور پھر سوچیں:
ہم نے ان میں سے کتنی نعمتیں مانگی تھیں؟
بہت سی تو ایسی ہیں جو اللہ نے ہمیں مانگے بغیر عطا کر دیں۔
تو پھر شاید آج ہمیں یہ نہیں پوچھنا چاہیے:
"اللہ نے مجھے کیا نہیں دیا؟"
بلکہ یہ پوچھنا چاہیے:
"اللہ نے مجھے کتنا کچھ دے رکھا ہے جس کا میں نے کبھی شکر ہی نہیں کیا؟"
یا اللہ!
ہمیں کنود دل سے بچا۔
ہمیں اپنی نعمتیں دیکھنے والی آنکھ، اپنے احسان پہچاننے والا دل، اور ایسا شکر عطا فرما جو صرف ہماری زبان پر نہیں بلکہ ہماری زندگی میں بھی نظر آئے۔
الحمدللہ علیٰ کل حال۔
کونٹینٹ بنانا کراچی والوں پر ختم ہے۔ کونٹئنٹ پر جتنا شاندار کام کراچی کے لڑکے کرتے ہیں، اس کا کسی اور شہر سے تقابل ممکن نہیں۔ یہ چھ منٹ کی ویڈیو کراچی کی مکمل کہانی ہے۔ اسے دیکھیں اور داد دیں ان نوجوانوں کو۔ کراچی کے دکھوں کو کس قدر خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
اللہ کی رضا پر راضی ہو جانا، شاید عبادت کی سب سے خوبصورت منزل ہے۔ 🤍
نعمت ملے تو شکر، آزمائش آئے تو صبر… اور ہر حال میں دل سے کہنا: یا اللہ! تیرا فیصلہ ہی میرے لیے بہتر ہے۔
Allah ki raza par raazi ho jana, shayad ibadat ki sab se khoobsurat manzil hai. 🤍
#DilKiBaat
پشاور میں محترم شاہ جی گل آفریدی صاحب کی رہائش گاہ پر حاضری ہوئی اور سابق سینیٹر تاج محمد آفریدی اور الحاج جنت شیر آفریدی صاحب کی وفات پر تعزیت اور ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ سابق گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا صاحب اور کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان صاحب بھی ہمراہ تھے۔ مرحومین کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائیں اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں، آمین
کس زعم میں تھے دشمن اپنے
شاید کہ انہیں معلوم نہ تھا
یہ خاکِ وطن ہے جان اپنی
اور جان تو سب کو پیاری ہے
مشکل وقت میں ڈٹ کر کھڑے رہنے والے مسلم لیگ ن کے ساتھیوں کی بہادری کو سلام۔ جن کی نیت اور طبیعت خراب ہو، وہ صرف تباہی پھیلا سکتے ہیں، ترقی نہیں!
سورج ہر صبح طلوع ہوتا ہے۔
ہم اٹھتے ہیں۔
روشنی آتی ہے۔
دن شروع ہوجاتا ہے۔
اور چونکہ یہ منظر ہماری زندگی کا مستقل حصہ ہے، اس لیے ہم اس کی عظمت بھول جاتے ہیں۔
لیکن ذرا سوچیں…
اگر روشنی نہ ہو؟
اگر دن رات کا یہ نظام نہ ہو؟
اگر زمین پر زندگی کے لیے موجود قدرتی نظام مختلف ہوتا؟
قرآن کہتا ہے:
وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا
"قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔"
— سورۃ الشمس، 91:1
اللہ تعالیٰ خود سورج کی طرف ہماری توجہ دلاتے ہیں۔
شاید اس لیے کہ انسان معمول کے اندر چھپی غیر معمولی نعمتوں کو دیکھنا سیکھے۔
ہم ہر صبح سورج دیکھتے ہیں۔
لیکن ہر صبح ہمیں ایک ہی بات یاد نہیں آتی:
یہ دن بھی اللہ کی عطا ہے۔
آج کا دن دوبارہ نہیں آئے گا۔
اس لیے اسے غفلت میں ضائع کرنے سے پہلے یاد رکھیں:
وقت بھی رزق ہے۔
One day, You and Me, will be in Makkah together, standing before the Ka'aba with hearts full of faith, gratitude and love❤️.
A beautiful dream we pray Allah turns into a blessed reality.
A trip 🕋 hand in hand, beginning our new life with Allah at the center.
InshaAllah🤲
نواز شریف کا ایک ٹرائل اٹک میں ہوتا تھا اور دوسرا لانڈھی جیل کراچی میں ہوتا تھا اور ان کو جہاز کی سیٹ کیساتھ ہتھکڑی لگا کر لیجایا جاتا تھا، اعجاز الحق 2024
#FromArchives
عوامی نمائندگان کو دہشتگردوں کی طرح ہتھکڑیاں لگانا ہر دور مین غلط ہے
کے پی کے پر 2013 میں 95 ارب کا مقروض تھا جو آج 650 ارب روپیہ ہو گیا ہے اچھا یہ بتائیں وہ ساڑے تین سو ڈیم بنانے تھے وہ بن گیے ؟؟؟؟
اس جاہل کا جواب سنے اور انکو ووٹ دینے والوں کا شعور نیکسٹ لیول کا ہے
نہ نواز شریف کرپٹ ھے نہ نواز شریف نے ملک تباہ کیا نہ ھی نواز شریف اقتدار کا بھوکا ھےنواز شریف نے ریکارڈ ترقیاتی منصوبے لگائے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا مجھے وزیراعظم بھی نواز شریف نے بنوایاایک اور سچ سن لیجئےملک دیوالیہ ھوجاتا اگر پی ڈی ایم عمران خنزیر کی حکومت نا گراتی۔
بھٹو نے نہ صرف یہ کہ پاکستان توڑا بلکہ اس نے پاکستان کی تمام صنعتی ترقی کو بھی ایک رات میں تباہ کر دیا۔۔
1960 کی دہائی میں لوگ اس پر بحث کرتے تھے کہ 1980 تک دنیا کا جدید ترین شہر نیویارک ہوگا لندن ہوگا یا کراچی۔۔۔
1971 میں بھٹو نے ا کے سب تباہ کر دیا اور اس کے بعد سے کراچی پتھر کے دور میں دھکیل دیا گیا۔ اور پاکستان پسماندگی میں۔
یہ حقیقت ہے کہ بھٹو اور اس کے خاندان نے جتنا نقصان پاکستان کو پہنچایا ہے اتنا نقصان تو ہندو مشرکوں اور جہنم کے کتوں خوارج نے نہیں پہنچایا۔
اس کے بعد صرف پی ٹی ائی ایسی جماعت ائی ہے جس نے پورے پاکستان کے نوجوانوں کو اپنے ہی ملک اور قوم اور نظریہ پاکستان اور فوج کے خلاف کر دیا۔