'Imran Khan's contribution to Pakistan cricket can never be undermined, we grew up watching him play and idolized him. No one can forget the 1992 World Cup win and no one can forget its captain. This younger generation will continue to look up to Imran Khan' - Wahab Riaz ♥️
Imran Khan with British billionaire Richard Branson, owner of Virgin Atlantic airlines in the 80s, when Aleem Khan was playing gulli danda in his mohalla
یہ اقدامات چیئرمین عمران خان کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، لیکن ان کی وجہ سے پاکستان میں موجود دور کی فسطائیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پوری دنیا کے سامنے مزید اجاگر ہوں گی۔#ImranKhanZindabad
چوہدری پرویز الہی صاحب نے وفاداری بہادری اور غیرت کی مثال قائم کی۔ مشکل حالات میں خان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اور وہ لوگ جو ان کے مخالف تھے وہ مشکل وقت میں خان کو چھوڑ گئے۔ مشکل وقت ہے گزر جائے گا۔ چوہدری صاحب نے جٹ ہون دا مول موڑ دیتا
The former Pakistan captain is also the leading wicket-taker in a single India-Pakistan series. During India's tour of Pakistan, Imran Khan bagged 40 wickets at an average of 13.95 with 11/79 his best at Faislabad. During the course of the series, the speedster picked up four fifers, and two times he ended with a ten-wicket haul.
#Pakistan #ImranKhan #CricketHistory #CricketTwitter
You keep on removing him from the Pakistan Cricket. We keep on telling you about his unique records. The more you subtract him, the more he gets multiplied.This is the mathematics of240 million people of Pakistan who cannot be subtracted.Your each mean act will enhance his glory.
In 143 years of cricket history, Imran Khan is the only captain to declare an innings with his individual score in the 90s. It was the first Test match of Sri Lanka's tour of Pakistan in Sialkot.
Sri Lanka was bundled out for 270 in their first innings. In reply, Pakistani batters piled on the misery and were 423/5 when Imran Khan decided to declare to give Pakistan enough time to ball out the visitors. It came as a surprise to many as Khan was batting on 93 at the moment and could have reached his century very easily.
#Pakistan #ImranKhan
اصلی سائفر نہ عمران خان کے پاس تھا نہ ہوسکتا تھا نہ کبھی وزیر اعظم کی دسترس میں آئے گا عمران خان کے پاس اسکی کوڈز کی تشریح شدہ کاپی آئی جو ان کے علاوہ دیگر اہم ترین عہدے داران کے پاس بھی گئی اور اس کاپی کی حفاظت بھی وزیراعظم کی زمہ داری نہیں ہوتی لہذا عمران خان پر بطور وزیراعظم اس گمشدگی کا پرچہ درج کرنا مضحکہ خیز ہے
یہاں سائفر کا جو بھی کیس بنایا گیا ہے اس کی کاپی ابھی ہمیں موصول نہیں ہوئی لیکن میڈیا رپورٹ سے یہی محسوس ہوتا ہےکہ الزام سائفر کی گمشدگی کا ہے
ایس او پیز کے مطابق اصلی سائفر جہاں موصول ہوتا ہے وہاں سے کسی اور جگہ نہیں جا سکتا اور جہاں موصول ہوتا ہے اسکی حفاظت کی زمہ داری عمران خان کی بطور وزیراعظم نہیں تھی تو اگر چوری ہوئی ہے تو وہ جانیں جن کی حفاظت میں سائفر آتے ہیں عمران خان کا اس سے کیا کینا دینا؟
آج سائفر کے معاملے پر وزیر اعظم پاکستان کے دفتر کی تضحیک کی جو کوشش جاری ہے اور دیگر جماعتیں چپ کر کے یہ تماشہ دیکھ رہی ہیں ان سب کے لیے ایک ہی پیغام ہےکہ کل یہ باری کسی اور کی ہوگی
عمران خان وزیراعظم پاکستان تھے کوئی ریکارڈ کیپر یا چوکیدار نہیں جو متعلقہ کاغذات کی حفاظت پر مامور تھے
یہ کیس اعلی ٰترین سویلین دفتر کی حرمت پر ایک حملہ ہے جسکی جتنی مزمت کی جائے کم ہے