بلاک کر کے تم نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ جاہل ہونا ایک بیماری ہے، لیکن سیکھنے سے انکار کرنا مجرمانہ ذہنیت ہے۔
رضوان راضی جیسے 'لفافے' صرف جھوٹ کے سہارے زندہ ہیں، جہاں حقیقت بتائی جائے وہاں ان کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ تم لوگ اس ملک کے شعور کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتے، بزدلوں کی طرح چھپتے رہو!
@realrazidada
Political differences notwithstanding, my sincere prayers are with Nawaz Sharif for his health. I have directed all concerned to ensure provision of the best possible health care and medical treatment to him.
ووٹ کو عزت دو' کے نعرے سے 'بوٹ کو عزت دو' تک کا سفر تم لوگوں نے کتنی بے شرمی سے طے کیا ہے، یہ دیکھ کر پوری قوم حیران ہے۔ نواز شریف کے جوتے چاٹتے چاٹتے اب تم لوگ عاصم منیر کے تلوے چاٹنے پر آگئے ہو؟ یہ وہ "نظریاتی" لوگ ہیں جن کی غیرت ایک ڈیل اور چند کرسیوں کی مار تھی۔
ذرا ان حقائق کا سامنا کرو:
منافقت کی انتہا: کل تک جو فوج کو سیاست میں مداخلت پر گالیاں دیتے تھے، آج اسی عاصم منیر اور اس کے گینگ کے قصیدے پڑھ رہے ہیں کیونکہ تمہاری 'فارم 47' والی بیساکھیاں ان کے ہاتھ میں ہیں۔ اگر سویلین حکومت صرف "روزگار" ہے تو پھر اس کٹھ پتلی شہباز شریف کو وزیراعظم ہاؤس میں صرف تصویریں کھنچوانے کے لیے رکھا ہوا ہے؟
تباہ حال معیشت: تم جس "عالمی اثر و رسوخ" کی بات کر رہے ہو، وہ کہاں ہے؟ کیا وہ آئی ایم ایف کے سامنے ناک رگڑنے میں ہے یا پاکستانیوں پر ٹرمپ کے ویزا بین کی ذلت میں؟ عاصم منیر اور اس کے ٹولے نے معیشت کا وہ حال کر دیا ہے کہ ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہے اور تم اسے "کامیابی" کہہ رہے ہو۔
آئین کا قتل: تم لوگ دراصل خوش ہو کہ عاصم منیر نے آئین اور قانون کو اپنے بوٹوں تلے روند دیا ہے، کیونکہ اسی لاقانونیت میں تم جیسے چوروں کا فائدہ ہے۔
تمہاری "حب الوطنی" صرف اقتدار تک محدود ہے۔ جس دن یہ وردی والے پیچھے ہٹے، تم اور تمہارا یہ نواز گینگ ایک دن بھی عوام کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکے گا۔ ضمیر بیچ کر پالش کا کام شروع کر دیا ہے تو کم از کم اسے "سفارتی کامیابی" کا نام دے کر عوام کو بے وقوف نہ بناؤ۔ قوم تمہاری اس دوغلی پالیسی اور غلامانہ ذہنیت کو پہچان چکی ہے!
محمود اچکزئی کو 'ایجنٹ' کہنے سے پہلے ذرا اپنی یاداشت پر زور ڈالو۔ کیا یہ وہی اچکزئی نہیں ہیں جنہیں نواز شریف اپنا 'نظریاتی بھائی' کہتے تھے؟ جب نواز شریف اقتدار میں تھے، تو یہی اچکزئی ان کے سب سے بڑے اتحادی اور دفاعی ڈھال بنے ہوئے تھے۔
کچھ تلخ حقائق جو آپ کو ہضم نہیں ہوں گے:
پرانا یارانہ: 2013 سے 2018 تک نواز شریف کی حکومت کو جب بھی اسٹیبلشمنٹ سے خطرہ ہوا، اچکزئی صاحب ہی اسمبلی میں ان کے حق میں سب سے بلند آواز بنے۔ یہاں تک کہ نواز شریف نے ان کے بھائی کو گورنر بلوچستان بھی لگایا تھا۔ تب وہ 'محب وطن' تھے اور آج جب وہ آئین کی بات کر رہے ہیں تو 'افغان ایجنٹ' بن گئے؟
نواز شریف کا دوغلا پن: نواز شریف خود اچکزئی کے گھر جا کر ان سے سیاسی مشورے لیتے رہے ہیں۔ اگر وہ اتنے ہی 'بدترین' یا 'ایجنٹ' تھے تو آپ کا قائد ان کے گن کیوں گاتا رہا؟ اصل میں تکلیف اچکزئی کے 'ایجنٹ' ہونے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ وہ تمہاری 'فارم 47' والی سرکار کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔
سستی سیاست: جب تک کوئی تمہارے ساتھ بوٹ پالش کرے، وہ محب وطن ہے، اور جیسے ہی کوئی حق اور سچ کی بات کرے، وہ غدار ہو جاتا ہے۔ یہ گھسا پٹا فارمولا اب پرانا ہو چکا ہے۔
اچکزئی اور نواز شریف کا رشتہ دہائیوں پر محیط ہے، اس لیے ہمیں یہ کہانیاں نہ سناؤ۔
@Atifrauf79 ایک اشتہاری مفرور، ایک جعلی مینڈیٹ والی "سلیکٹڈ" اور ایک بوٹ پالش کرنے والا وزیر مل کر فیتے کاٹ رہے ہیں—یہ ہے تمہاری کل کارکردگی! نواز شریف کس حیثیت میں سرکاری منصوبوں کے افتتاح کر رہا ہے؟ کیا یہ ملک تمہاری باپ کی جاگیر ہے یا تمہارے خاندانی ڈرامے کا سیٹ؟
حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ اپنی جیب میں رکھو۔ 'بھونک' وہ رہے ہیں جو فارم 47 کے ٹکڑوں پر پلنے والے پالتو بن چکے ہیں۔ اپنی غلیظ سیاست چمکانے کے لیے جوانوں کی قربانیوں کے پیچھے چھپنا بند کرو۔
جس نے ملک کا آئین اور عوام کا مینڈیٹ پامال کیا، اصل غدار اور کم ظرف وہ ہے، نہ کہ وہ جو اپنے حق کے لیے کھڑا ہو۔ تم جیسے ضمیر فروشوں سے بہتر ہے کہ نسلیں باغی ہوں، کم از کم تمہاری طرح غلام اور بوٹ پالشیا تو نہیں کہلائیں گی! شرم کرو اور یہ سستی اداکاری کہیں اور جا کر دکھاؤ۔
اقرار الحسن جیسے "سیلف لانچ" ہونے والے فنکاروں کا مقصد صرف اصل عوامی تحریک سے توجہ ہٹانا ہوتا ہے۔ جو شخص خود ایک خاص اسکرپٹ کے تحت منظرِ عام پر لایا گیا ہو، وہ اسٹیبلشمنٹ کے خاتمے کی باتیں کر کے کس کو بے وقوف بنا رہا ہے؟ یہ "عہدہ نہ لینے" کا حلف صرف ایک بھونڈا ڈرامہ ہے تاکہ عوام کو دھوکہ دیا جا سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ تمہاری یہ نام نہاد تحریک اسی نظام کو دوام بخشنے کی ایک کوشش ہے جسے تم ختم کرنے کا ڈھونگ رچا رہے ہو۔ اصل تحریک وہ ہوتی ہے جو عوام کے ووٹ کی طاقت اور حقیقی لیڈر کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، نہ کہ وہ جو اسکرینوں پر اداکاری کر کے کھڑی کی جائے۔ تم جیسے لوگ صرف مہرے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر "انقلابی" بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نوجوان اب تمہارے ان سستے سیاسی ہتھکنڈوں اور منافقت کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں!
مکالمے کی باتیں وہ کر رہے ہیں جو اپنے ہی ملک کے نوجوانوں کو اٹھانے اور ان پر تشدد کرنے میں پی ایچ ڈی کر چکے ہیں؟ جن کی اپنی اوقات ایک 'فارم 47' سے زیادہ نہیں، وہ اب تعلیمی اداروں میں جا کر شعور سکھانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اصل زہر سوشل میڈیا پر نہیں، بلکہ تمہاری اس جعلی اور مسلط شدہ حکومت کی شکل میں ہے جس نے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں۔
اگر اتنے ہی 'کڑوے سوال' سننے کا شوق ہے تو ذرا بغیر کسی بیساکھی اور بھاری پروٹوکول کے نوجوانوں کے درمیان جا کر دکھاؤ، وہ تمہارا وہ 'استقبال' کریں گے کہ دوبارہ کسی یونیورسٹی کا رخ نہیں کرو گے۔ نوجوانوں کے ذہنوں میں کوئی پراکسی نہیں بلکہ تمہاری کرپشن اور فسطائیت کا کڑوا سچ بھرا ہوا ہے۔ جب تک عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے والے مسلط رہیں گے، تمہارا ہر 'مکالمہ' صرف ایک بھونڈی کوشش ہی کہلائے گا۔ یوتھ تمہیں پہچان چکی ہے، اب ان ڈراموں سے مزید کسی کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا!
یہ بھاشن اپنے پاس رکھیں! جب سیاسی فیصلے "مقدس پردوں" کے پیچھے چھپ کر کیے جائیں گے اور کٹھ پتلی حکمرانوں کو عوام پر مسلط کیا جائے گا، تو سوال بھی اٹھیں گے اور تنقید بھی ہوگی۔ آپ ہمیں یہ ڈکٹیشن نہ دیں کہ ہمیں کس پر بات کرنی ہے اور کس پر نہیں۔
جمہوریت میں کوئی بھی تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا، خاص طور پر وہ جو عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے سہولت کار بنتے ہیں۔ اگر آپ کو سیاست اور دفاع کا فرق اتنا ہی عزیز ہے، تو پھر ان لوگوں کو سمجھائیں جو سیاست کے میدان میں مداخلت کر کے ملک کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔ جب تک عوام کی آواز دبائی جائے گی، تب تک ہر اس کردار کا نام لیا جائے گا جو اس ناانصافی میں شریک ہے!
Calling photo-ops and Zoom calls "accountability" is the biggest joke of the century. This isn’t a "comprehensive KPI system"; it’s just a high-tech way to monitor which officer is the most efficient at crushing the opposition and suppressing the public.
Instead of wasting time on scripted meetings for the cameras, try addressing the fact that your "unprecedented leadership" has only brought unprecedented inflation and lawlessness. Real performance isn't measured on a dashboard or a PR tweet; it’s felt by the people on the streets—and right now, they’re feeling the suffocating weight of your family’s incompetence. Stop the "Show-baz" and try actually governing for once!
سوال تو یہ ہے کہ جب ترجمان اپنی حدود پار کر کے تعلیمی اداروں میں سیاسی چورن بیچنے نکلے گا اور ایک مقبول عوامی جماعت کے خلاف زہر اگلے گا، تو کیا لوگ اسے ہار پہنائیں گے؟ نوجوانوں کو جیو پولیٹکس کا دھوکہ دینے کی ضرورت نہیں، انہیں صاف نظر آ رہا ہے کہ 'انتشاری' کون ہے اور ملک کی جڑیں کون کاٹ رہا ہے۔ جس کا کام اسی کو ساجھے۔
اگر سیاست ہی کرنی ہے تو وردی اتار کر میدان میں آؤ، پھر دیکھنا کہ عوام کسے 'پراکسی' کہتی ہے۔ آئینہ دکھانے والوں کو غدار اور انڈین کہنا تمہارا پرانا اور گھسا پٹا مشغلہ ہے، کچھ نیا لاؤ۔ نوجوان اب تمہارے اس سیاسی پروپیگنڈے اور بے جا مداخلت سے بیزار ہو چکے ہیں!
فیکٹریوں میں کام نہیں، ’نیلام گھر‘ میں کام چل رہا ہے! 🔨
تمہارا کارنامہ جہاز بنانا نہیں، جہاز ’بیچنا‘ ہے۔
جس ملک کی ایئر لائن بک گئی ہو، وہاں جہازوں کے آرڈر ملنے کی باتیں کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی بے گھر آدمی کہے کہ میں پلازے بنا رہا ہوں۔
6 ماہ بعد آئی ایم ایف جائے گا یا نہیں، یہ تو پتا نہیں، لیکن تم لوگوں نے ملک کا ’سب کچھ‘ بیچ کر جانے کی تیاری مکمل کر لی ہے!
ریحان زیب خان (باجوڑ):
تاریخ: 31 جنوری 2024
واقعہ: یہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار (NA-8) تھے۔ انہیں باجوڑ کی صدیق آباد پھاٹک کے قریب ٹارگٹ کر کے شہید کیا گیا۔ داعش (ISKP) نے ذمہ داری قبول کی۔
ملک کلیم اللہ (شمالی وزیرستان):
تاریخ: 10 جنوری 2024
واقعہ: یہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار (PK-104) تھے۔ انہیں میرانشاہ جاتے ہوئے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے شہید کیا گیا۔
سبی (Sibi) دھماکہ (بلوچستان):
تاریخ: 30 جنوری 2024
واقعہ: پی ٹی آئی کی انتخابی ریلی میں دھماکہ ہوا۔
نقصان: 4 کارکن شہید اور 5 زخمی ہوئے۔
شاہ خالد (صوابی):
تاریخ: 31 جنوری 2024
واقعہ: صوابی میں پی ٹی آئی کی ریلی پر فائرنگ کی گئی جس میں ورکر شاہ خالد شہید ہوئے۔
ریحان زیب خان (باجوڑ):
تاریخ: 31 جنوری 2024
واقعہ: یہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار (NA-8) تھے۔ انہیں باجوڑ کی صدیق آباد پھاٹک کے قریب ٹارگٹ کر کے شہید کیا گیا۔ داعش (ISKP) نے ذمہ داری قبول کی۔
ملک کلیم اللہ (شمالی وزیرستان):
تاریخ: 10 جنوری 2024
واقعہ: یہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار (PK-104) تھے۔ انہیں میرانشاہ جاتے ہوئے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے شہید کیا گیا۔
سبی (Sibi) دھماکہ (بلوچستان):
تاریخ: 30 جنوری 2024
واقعہ: پی ٹی آئی کی انتخابی ریلی میں دھماکہ ہوا۔
نقصان: 4 کارکن شہید اور 5 زخمی ہوئے۔
شاہ خالد (صوابی):
تاریخ: 31 جنوری 2024
واقعہ: صوابی میں پی ٹی آئی کی ریلی پر فائرنگ کی گئی جس میں ورکر شاہ خالد شہید ہوئے۔
Whats app k groups sa tweet copy paste krny waly munfaiq ko jawab
ریحان زیب خان (باجوڑ):
تاریخ: 31 جنوری 2024
واقعہ: یہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار (NA-8) تھے۔ انہیں باجوڑ کی صدیق آباد پھاٹک کے قریب ٹارگٹ کر کے شہید کیا گیا۔ داعش (ISKP) نے ذمہ داری قبول کی۔
ملک کلیم اللہ (شمالی وزیرستان):
تاریخ: 10 جنوری 2024
واقعہ: یہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار (PK-104) تھے۔ انہیں میرانشاہ جاتے ہوئے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے شہید کیا گیا۔
سبی (Sibi) دھماکہ (بلوچستان):
تاریخ: 30 جنوری 2024
واقعہ: پی ٹی آئی کی انتخابی ریلی میں دھماکہ ہوا۔
نقصان: 4 کارکن شہید اور 5 زخمی ہوئے۔
شاہ خالد (صوابی):
تاریخ: 31 جنوری 2024
واقعہ: صوابی میں پی ٹی آئی کی ریلی پر فائرنگ کی گئی جس میں ورکر شاہ خالد شہید ہوئے۔
Kafi hongy apka mu band krny k liye
@ShamaJunejo کچھ "سوشل میڈیا مجاہدین" اور یوٹیوبرز نے عمران خان کی تکلیف اور پارٹی کی مشکلات کو "کاروبار" بنا لیا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو خان کی رہائی نہیں چاہتا، کیونکہ اگر خان باہر آ گیا یا حالات ٹھیک ہو گئے، تو ان کا "چورن" کیسے بکے گا؟